• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۵؍ سال بعد ہولی پر کسی بڑی فلم کی ریلیز نہیں، کرکٹ ورلڈ کپ وجہ

Updated: February 26, 2026, 3:57 PM IST | Mumbai

۲۰۲۶ء میں ۱۵؍ برس بعد پہلی بار ہولی کا تہوار کسی بڑی ہندی فلم کی ریلیز کے بغیر گزرے گا۔ آئی سی سی مینز ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ، عید ریلیز کی بڑی فلموں کی موجودگی اور مارکیٹ کے غیر یقینی حالات کو اس فیصلے کی اہم وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہولی طویل عرصے سے بالی ووڈ کے لیے ایک مضبوط باکس آفس ونڈو رہی ہے۔ گزشتہ برسوں میں اس موقع پر کئی بڑی فلمیں کامیاب رہیں، جن میںچوری چوری چپکے چپکے (۲۰۰۱ء)، مالا مال ویکلی (۲۰۰۶ء)، ریس (۲۰۰۸ء)، بدری ناتھ کی دلہنیا (۲۰۱۷ء)، کیسری (۲۰۱۹ء)، تو جھوٹی میں مکار (۲۰۲۳ء) کے نام قابل قابل ذکر ہیں۔ تاہم، ۲۰۲۶ء میں صورتحال مختلف ہے۔ تاریخی طور پر صرف ۲۰۰۲ء، ۲۰۰۳ء اور ۲۰۱۱ء ایسے سال رہے جب ہولی پر کوئی بڑی ہندی فلم ریلیز نہیں ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: کیرالا ہائی کورٹ کو فرقہ وارانہ خدشات ، ’’دی کیرالا اسٹوری ۲‘‘ کی ریلیز روکی گئی

۲۰۰۳ء اور ۲۰۱۱ء میں آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے باعث پروڈیوسرز نے ریلیز سے گریز کیا تھا۔ ملک گیر کرکٹ جنون کے دوران فلم ریلیز کو تجارتی طور پر خطرناک سمجھا گیا۔ ۲۰۲۶ء میں بھی منظر نامہ کچھ ایسا ہی ہے۔ جاری آئی سی سی مینز ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کو بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے کہ فلم ساز ہولی ونڈو سے دور رہے۔
’’مردانی ۳‘‘ کے ڈائریکٹر ابھیراج مینا والا نے بالی ووڈ ہنگامہ کو بتایا کہ یش راج فلمز نے کرکٹ کے جنون کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’مرادنی ۳‘‘ کی ریلیز تاریخ تبدیل کی، تاکہ باکس آفس پر مقابلے سے بچا جا سکے۔

عید پر بڑا تصادم: ’’دھرندھر ۲‘‘ بمقابلہ ’’ٹاکسک‘‘
ادھر عید پر دو بڑی فلمیں آمنے سامنے ہیں: رنویر سنگھ کی ’’دھرندھر ۲‘‘ اور یش کی ’’ٹاکسک۔‘‘ دونوں فلمیں ۱۹؍ مارچ کو ریلیز ہوں گی، جس سے ہولی ونڈو مزید کمزور سمجھی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: ان کہی کہانیوں کو سامنے لانا بھی ضروری ہے: کونکنا سین شرما

سوشل میڈیا پر تنازع
شائقین کے درمیان ریلیز تاریخوں کے متعلق بحث جاری ہے۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ’’ٹاکسک‘‘ نے پہلے تاریخ لاک کی تھی، جبکہ دیگر کا موقف ہے کہ ’’دھرندھر ۲‘‘ ہولی پر بھی کامیاب ہو سکتی تھی۔ ایک صارف نے لکھا:’’ٹاکسک‘‘ نے ایک سال پہلے تاریخ کا اعلان کیا تھا، اسے کیوں ایڈجسٹ کیا جائے؟‘‘ دوسرے نے کہا: ’’جنوبی ہند میں ہولی بڑی نہیں ہوتی، دھرندھر آسانی سے ہولی پر آ سکتی تھی۔‘‘
۱۵؍ سال بعد ہولی پر فلم کا ریلیز نہ ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ فلمی ریلیز کی حکمت عملی اب تہوار کے جذبے سے زیادہ تجارتی حساب کتاب پر مبنی ہو چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK