گولڈن گلوب ایوارڈز نے بھی آسکرز کی طرح اداکاری اور تحریر کی کیٹیگریز کے لیے مؤثر طور پر ’صرف انسان‘ کی حد مقرر کر دی ہے۔ اے آئی سے تخلیق کیے گئے اداکار اب ایوارڈز کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔
EPAPER
Updated: May 09, 2026, 5:11 PM IST | New York
گولڈن گلوب ایوارڈز نے بھی آسکرز کی طرح اداکاری اور تحریر کی کیٹیگریز کے لیے مؤثر طور پر ’صرف انسان‘ کی حد مقرر کر دی ہے۔ اے آئی سے تخلیق کیے گئے اداکار اب ایوارڈز کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔
منتظمین نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اے آئی سے تیار کردہ اداکاروں کی پرفارمنس گولڈن گلوب ایوارڈز کے لیے قابلِ غور نہیں ہوگی، یہ اعلان چند دن بعد سامنے آیا جب آسکرز نے بھی ایسی پرفارمنس کو اپنی دوڑ سے خارج کر دیا تھا۔ نئی ہدایات کے مطابق وہ پرفارمنس خودکار طور پر نااہل نہیں ہوں گی جن میں مصنوعی ذہانت کو کسی اداکار کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہو، تاہم شرط یہ ہے کہ اصل اور مرکزی عنصر ایک حقیقی انسان ہی ہو۔
منتظمین نے کہا’’وہ اندراجات جن میں پرفارمنس کا بڑا حصہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تخلیق یا تیار کیا گیا ہو، سالانہ فلم اور ٹی وی ایوارڈز کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔‘‘ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’تکنیکی یا ظاہری بہتری کے لیے اے آئی کا استعمال جیسے کسی اداکار کو جوان یا بوڑھا دکھانا، یا بصری تبدیلیاں قابلِ قبول ہو سکتا ہے، بشرطیکہ بنیادی پرفارمنس اسی اداکار کی ہو جسے کریڈٹ دیا گیا ہے، اور اے آئی اس کے کام کو تبدیل یا نمایاں طور پر متاثر نہ کرے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:تفریح کی دنیا میں انفلوئنسرز کا کریئر طویل مدتی نہیں ہے: رابرٹ ڈاؤنی جونیئر
یہ نئے قواعد چند دن بعد سامنے آئے جب اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے بھی اے آئی کے استعمال پر سختی کا اعلان کیا تھا۔آسکر ایوارڈز دینے والے ادارے نے کہا کہ صرف حقیقی انسانی اداکار ہی فلمی دنیا کے سب سے بڑے اعزازات کے لیے اہل ہوں گے، نہ کہ ان کے اے آئی اوتار۔ اسی طرح اسکرین پلے بھی کسی انسان نے لکھا ہونا چاہیے، نہ کہ کسی چیٹ بوٹ نے۔
یہ بھی پڑھئے:کرسٹیانو رونالڈو نے فٹبال کی تاریخ میں نیا ریکارڈ قائم کردیا
مصنوعی ذہانت کا استعمال اب بھی تفریحی صنعت کے حساس ترین موضوعات میں سے ایک ہے اور یہی مسئلہ ۲۰۲۳ء کی اُن ہڑتالوں کا مرکزی نکتہ تھا جنہوں نے ہالی ووڈ کو بند کر دیا تھا۔ اداکاروں اور لکھاریوں نے خبردار کیا تھا کہ بے قابو ٹیکنالوجی ان کے روزگار کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔یہ نئی پابندیاں اُس وقت سامنے آئیں جب آنجہانی اداکار ویل کلمر کا اے آئی ورژن فلمی تھیٹر مالکان کے سامنے پیش کیا گیا، اُن کی وفات کے ایک سال بعد فلم "As Deep as the Grave" کے ٹریلر میں ویل کلمر کا نوجوان ڈیجیٹل ورژن دکھایا گیا، جو ایک کردار سے کہتا ہے’’مردوں سے مت ڈرو اور مجھ سے بھی مت ڈرو۔‘‘یہ منصوبہ اداکار کے خاندان کی مکمل حمایت سے تیار کیا گیا، جنہوں نے ویل کلمر کے ویڈیو آرکائیوز تک رسائی دی، جنہیں استعمال کرتے ہوئے اُن کی زندگی کے مختلف ادوار کی ڈیجیٹل شکلیں دوبارہ تخلیق کی گئیں۔