Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلم’’ `نادان‘‘ کے بعد محمود پوری طرح فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوگئے تھے

Updated: June 28, 2026, 4:26 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai

محمود، جونیئر آرٹسٹ ہی تھے کہ ان کی ایک چھوٹی بہن مینو ممتاز بھی فلموں میں کام کرنے لگی تھی اور خاصی کامیاب ہوگئی تھی۔ اُن دنوں محمود نے اپنی خودداری کی وجہ سے کبھی مینو ممتاز کی کامیابی کا سہارا نہیں لیا، نہ ہی ان سے کوئی مالی فائدہ اٹھایا۔

Actor Mahmood. Photo: INN
اداکار محمود۔ تصویر: آئی این این

فلم بینوں کو بے تحاشہ ہنسانے والے اداکار محمود کا جنم ۲۹؍ ستمبر ۱۹۳۲ء کو ممبئی میں ہوا تھا۔ ان کے والد ممتاز علی مشہور ڈانسر اداکار تھے۔ ممتاز علی کے آٹھ بچے تھے۔ اتنے بڑے کنبہ کو چلانے کی ذمہ داری اکیلے ممتاز علی پر تھی۔ ان حالات میں زندگی نے محمود کو بچپن میں ہی روزی روٹی کمانا سکھا دیا اور وہ بمبئی کی لوکل ٹرین میں ملاڈ سے دادر تک پیپرمنٹ کی گولیاں فروخت کرکے اپنی کمائی لاکر ماں کو دینےلگے۔ 
کچھ بڑےہوئے تو انہوں نے ڈرائیور کی ملازمت اختیار کی۔ مشہور اداکار اشوک کمار، گیان مکھرجی، پی ایل سنتوشی اور پنڈت بھرت ویاس کے یہاں انہوں نے ڈرائیور کی نوکری کی۔ اسی دوران وہ اپنے زمانے کے مقبول اداکاروں کی نقل کرکے لوگوں کا دل بھی بہلایا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی اخبار بیچنے اور مرغیاں پالنے کا کام بھی انہوں نے کیا۔ والد کےفلم انڈسٹری سے وابستہ ہونے کی وجہ سے محمود نے تقریباً آٹھ برس کی عمر ہی سے فلموں میں کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے بمبئی ٹاکیز کی فلم قسمت، فلمستان کی شکاری اور سونا چاندی جیسی فلموں میں کام کیا۔ اسی درمیان ایک دھارمک فلم ’رام راجیہ‘ میں ایک چھوٹے سے کردار کیلئے انہیں اپنے سر کے بال اور بھنوئیں تک صاف کرانے پڑے تھے۔ اس کے باوجود انہیں فلموں میں کام کرنے کا کوئی خاص شوق نہیں تھا۔ ایک دن کا واقعہ ہے۔ وہ پی ایل سنتوشی جی کے یہاں کار ڈرائیور ہوا کرتے تھے، انہیں دنوں دیوآنند اور مدھوبالا کو لے کر ایک فلم نادان بن رہی تھی۔ فلم کے ڈائرکٹر ہیرا لال نے ایک آدمی کو محمود کے پاس بھیجا مگر محمود نے ایکٹر بننے سے انکار کر دیا۔ اس وقت محمود کی تنخواہ ۷۵؍ روپے ماہانہ تھی، انہوں نے کہا کہ چار دن کی شوٹنگ ہے اور اس میں سو روپے روز ملیں گے۔ محمود نے سنتوشی جی سے اجازت مانگی تو انہوں نے اجازت دے دی۔ محمود شوٹنگ پر چلے گئے۔ وہاں جونیئر آرٹسٹ بہت نروس ہو رہا تھا مگر محمود نے شاٹ اتنے شاندار طریقے سے دیا کہ مدھوبالا بھی نروس ہو گئیں، تو ڈائریکٹر نے محمود کا کام ۶؍ دن کا کر دیا۔ محمود کو چھ سو روپے ملےتو انہوں نے سوچا کہ اب ایکٹنگ ہی کرنی چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: گیلکسی سلمان خان کے مداحوں کے لیے ایک مقدس مقام بن چکا تھا

محمود کو راج کھوسلہ کی ہدایت میں بننے والی فلم سی آئی ڈی میں پہلا بڑا کام ملا۔ اس میں دیوآنند اور وحیدہ رحمان مرکزی کردار میں تھے۔ محمود کو اس فلم میں کردار دلوایا تھا اس زمانے کے مقبول مزاحیہ اداکار جانی واکر نے۔ حالانکہ محمود کا وہ کردار مزاحیہ نہیں تھا مگر اس کردار سے محمود فلم انڈسٹری میں ایک اداکار کی حیثیت سے پہچانے جانے لگے۔ اس کے بعد راج کپور کی فلم پرورش میں محمود نے ایک بڑا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں ایک گانا تھا ’’ماما- ماما‘‘ یہ گانا اس زمانے میں ہٹ تھا۔ 
اس کے بعد فلمستان کی فلم ابھیمان میں محمود نظر آئے۔ اس فلم کے ڈائریکٹر مہیش کول تھے اور یہ فلم سلور جبلی ثابت ہوئی۔ اس طرح محمود ایک اداکار کے طور پر فلم انڈسٹری میں اپنے قدم جماتے چلے گئے۔ ایل وی پرساد کی فلم چھوٹی بہن میں تو محمود کی اداکاری کی اتنی تعریف ہوئی کہ بعد کی کئی فلموں میں ان کو بطور ہیرو اداکار لیا گیا۔ فلم شبنم، قیدی نمبر ۹۱۱، تیرا کیا کہنا، میں اور میرا بھائی، روڈ نمبر۳۰۳، اور فرسٹ لو وغیرہ فلموں میں محمود بطور ہیرو ہی فلم بینوں کے سامنے آئے۔ وہ اپنی صحت اور شکل و صورت کے لحاظ سے اپنے کئی ہمعصر اداکاروں سے زیادہ خوبصورت نظر آتے تھے، اسلئے بھی وہ فلموں کو بطور ہیرو قبول کرتے گئے۔ 
محمود، جونیئر آرٹسٹ ہی تھے کہ ان کی ایک چھوٹی بہن مینو ممتاز بھی فلموں میں کام کرنے لگی تھی اور خاصی کامیاب ہوگئی تھی۔ اُن دنوں محمود نے اپنی خودداری کی وجہ سے کبھی مینو ممتاز کی کامیابی کا سہارا نہیں لیا، نہ ہی ان سے کوئی مالی فائدہ اٹھایا۔ جن دنوں مینو ممتاز کے پاس کار ہوا کرتی تھی، تب بھی محمود بس کے ذریعہ ہی اسٹوڈیو آیا جایا کرتے تھے۔ حالانکہ محمود کی شادی مشہور اداکارہ مینا کماری کی چھوٹی بہن مدھو سے ہوئی تھی مگر انہوں نے کبھی مینا کماری کے بہنوئی ہونے کے ناطے بھی کسی سے نہ کبھی کام مانگا، نہ کبھی مالی امداد حاصل کی۔ 
شوبھا کھوٹے اور محمود کی ایک ساتھ پہلی فلم ۱۹۵۹ء میں راج شری پروڈکشنز کی چھوٹی بہن تھی۔ اس میں بلراج ساہنی، نندہ، شیاما، اور رحمان دیگر ستارے تھے۔ حالانکہ یہ فلم بہت زیادہ کامیاب نہیں ہوئی تھی مگر اس فلم میں محمود اور شوبھا کھوٹے کو مزاحیہ فلمی جوڑی کے طور پر پسند کیا گیا تھا۔ اس فلم میں اس جوڑی پر ایک بہت ہی خوبصورت گیت بھی فلمایا گیا ’’میں رنگیلا، پیار کا راہی‘‘ کافی پسند کیا گیا۔ اس فلم کی ریلیز سے پہلے ہی شوبھا کھوٹے کئی فلموں میں کام کر چکی تھیں اور ان کی پہچان بن چکی تھی جبکہ محمود کا یہ شروعاتی دور تھا، مگر محمود میں اداکارانہ صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ فلم چھوٹی بہن سے محمود اور شوبھا کھوٹے کو مزاحیہ جوڑی کے طور پر آنے والی فلموں میں بھی سائن کیا جانے لگا۔

یہ بھی پڑھئے: دل تو پاگل ہے: کرشمہ والا کردار جوہی، کاجول، اُرمیلا، منیشا مسترد کرچکی تھیں

۱۹۶۱ء میں پرمود چکرورتی کی ہدایت میں بننے والی فلم سنجوگ میں محمود اورشوبھا کھوٹے کی مزاحیہ جوڑی ایک بار پھر پردۂ سیمیں پر نظر آئی۔ اس میں بھی اس جوڑی کو پسند کیا گیا اور پھر فلم بینوں کو یہ لگنے لگا کہ یہ دونوں اداکار جوڑی میں اچھے لگتے ہیں لہٰذا دوسرے فلمساز بھی اس طرف توجہ دینے لگے۔ اسی سال ان دونوں کی ایک اور فلم ریلیز ہوئی جس کا نام تھا سسرال۔ راجندر کمار، سروجہ دیوی اور للتا پواراس فلم کے اہم اداکار تھے۔ راجندر کمار کی شہرت کا دور شروع ہو چکا تھا، پھر بھی اس کامیابی کا کریڈٹ محمود اور شوبھا کھوٹے کو بھی ملا۔ اس فلم میں دونوں پر فلمایا گیا نغمہ ’’ایک سوال تم کرو، ایک سوال میں کروں ‘‘ کافی مقبول ہوا۔ اس فلم کی کامیابی سے یہ طے ہو گیا کہ فلموں میں مزاحیہ اداکاری کیلئے محمود اور شوبھا کھوٹے کی جوڑی مثالی ہے۔ اس زمانے میں حالانکہ جانی واکر مزاحیہ اداکار کے طور پر فلمی دنیا کے آسمان پر چھائے ہوئے تھے۔ بھگوان دادا اور دوسرے مزاحیہ اداکار بھی فلموں میں خوب آرہے تھے، مگر کسی بھی مزاحیہفنکار کی جوڑی نہیں بنی تھی۔ 
اس کے بعد ۱۹۶۲ء میں پدما پکچرز کی فلم دل تیرا دیوانہ اور ۱۹۶۳ء میں واسو فلمز کی بھروسہ نمائش کیلئے پیش ہوئیں۔ اس میں محمود شوبھا کھوٹے پر فلمایا گیا ایک گیت ’’آج کی ملاقات بس اتنی‘‘ بہت مقبول ہوا۔ فلم دل ایک مندر، گودان، ہمراہی، بیٹی بیٹے، ضدی، زندگی، بے داغ اور آکاش دیپ جیسی فلموں میں بھی دونوں کی مزاحیہ جوڑی کو کافی پسند کیا گیا۔ اس طرح محمود لگاتار کامیابی حاصل کرتے چلے گئے۔ یہ وہ دور تھا جب فنانسر اور ڈسٹری بیوٹر فلمساز سے اس بات کی ڈیمانڈ کرتے تھے کہ اس فلم میں محمود بطور مزاحیہ اداکار ضرور ہونے چاہئیں۔ ۱۹۶۶ءمیں پرمود چکرورتی کی فلم ’لو ان ٹوکیو‘ نے محمود کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ اس فلم میں محمود پر فلمایا گیا ایک گانا’’میں تیرے پیار کا بیمار ہوں، کیا عرض کروں ‘‘ بہت مقبول ہوا تھا۔ فلم سہاگ رات میں شوبھا کھوٹے کے ساتھ آخری بار اداکاری کا جلوہ دکھانے کے بعد کافی دنوں تک محمود کی جوڑی اداکارہ ممتاز کے ساتھ کامیاب رہی اور پھر ارونا ایرانی کے ساتھ کئی فلموں میں آنے سے کچھ بدنامی بھی آئی۔ 
۷۰۔ ۶۰ء کی دہائی میں ہندوستانی سنیما پر محمود بطور مزاحیہ اداکار چھائے رہے۔ ان برسوں میں محمود نے اپنی مزاحیہ اداکاری سے فلم بینوں کو اس قدر ہنسایا اور رلایا کہ انہیں انڈین چارلی چیپلن کہا جانے لگا اور پہلی بار کسی مزاحیہ اداکار کو کامیڈی کنگ کا خطاب ملا۔ ۱۹۶۸ء میں محمود پروڈکشن کی فلم ’پڑوسن‘ ریلیز ہوئی اور سال کی بہترین کامیڈی فلم ثابت ہوئی۔ محمود نے ابتدائی دور میں معاون ہدایتکار اور معاون کیمرہ مین کی حیثیت سے بھی کام کیا تھا لہٰذا وہ فلم کے تقریباً ہر شعبے سے واقف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے خود فلمیں بنانی شروع کیں تو کئی بامقصد اور ہنسی مذاق سے بھرپور فلمیں سنیما کو دیں۔ فلم چھوٹے نواب انہوں نے ۱۹۶۰ء میں شروع کی۔ اس فلم میں انہوں نے سب سے پہلے موسیقار کے طور پر راہل دیو برمن کو متعارف کرایا۔ اس کے بعد محمود نے فلم پتی پتنی بنائی۔ اس فلم میں سنجیو کمار کو پیش کیا۔ 
اس کے بعد محمود نے فلم بھوت بنگلہ بنائی۔ مہابلیشور میں اس فلم کی شوٹنگ کے دوران ایک امریکی لڑکی ٹریسی سے ان کی ملاقات ہوئی۔ ٹریسی وہاں طالب علم کی حیثیت سے آئی تھی۔ جب محمود پہلی بار ٹریسی سے ملے تب ان کو انگریزی نہیں آتی تھی۔ صرف ’یس‘ اور ’نو‘ ہی کہہ پاتے تھے۔ ٹریسی نے محمود سے بمبئی میں ملنے کیلئے کہا، اور پھر وہ دونوں بمبئی میں ملاقاتیں کرتے رہے۔ ٹریسی کوئی ہندوستانی شادی دیکھنا چاہتی تھی، لہٰذا محمود اس کو اپنی بہن کی شادی میں لے گئے۔ اسی درمیان ٹریسی اور محمود کی قربت اتنی بڑھی کہ مدھو سے محمود کا ازدواجی رشتہ ٹوٹنے لگا... اور پھر مدھو سے طلاق کے بعد محمود نے ٹریسی سے شادی کر لی۔

یہ بھی پڑھئے: فلم ’دیوانہ‘ شاہ رخ خان کو اتفاق سے ملی تھی!

اس کے علاوہ فلم سادھو اور شیطان، کنوارہ باپ، سب سے بڑا روپیہ، بامبے ٹوگوا، یا پھر ایک باپ چھ بیٹے اور محمود کی آخری فلم دشمن دنیا کا۔ ان کی ہر فلم میں بھرپور مزاح کے ساتھ ساتھ کوئی انتہائی سنجیدہ مسئلہ ضرور ہوتا تھا اور وہ اس میڈیا کے ذریعہ ہندوستانی عوام کو کوئی پیغام ضرور پیش کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے فلمسازی کو صرف پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اپنے بچوں کو اور ہندوستان کی آنے والی نسلوں کو ایک نیک پیغام دینے کا ذریعہ بھی بنایا۔ محمود نے خود زندگی میں بڑی جدوجہد کی تھی۔ اسی لئے وہ ہر اس نوجوان کو سراہتے تھے جو دل سے جدوجہد کر رہا ہوتا تھا۔ سپر اسٹار امیتابھ بچن لمبے عرصے تک ان کے پاس رہے۔ بعد میں فلم بامبے ٹوگوا انہوں نے اپنے بھائی انور علی اور امیتابھ بچن کیلئے ہی بنائی تھی۔ انہوں نے فلم کنوارہ باپ میں راجیش روشن کو بھی پہلا بریک دیا تھا۔ محمود میں ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ ہر مزاحیہ اداکار کا بہت خیال رکھتے تھے۔ اپنی فلموں میں تو وہ ہر چھوٹے بڑے مزاحیہ اداکار کو کام دیتے ہی تھے۔ اس کے علاوہ باہر کی فلموں میں بھی لوگوں سے کہہ کر ان کو کام دلاتے تھے۔ مشہور مزاحیہ اداکار جونیئر محمود نے تو باقاعدہ محمود کے نام ہی کو اپنا لیا تھا۔ فلم سادھو اور شیطان میں ٹریجڈی کنگ دلیپ کمار نے بھی بطور مہمان اداکار ایک چھوٹا سا کردار پیش کیا تھا۔ 
فلم گمنام میں محمود نے ایک الگ قسم کا کردار ادا کیا۔ لنگی اور بنیان میں وہ ایک خاص قسم کے حیدرآبادی باورچی کا کردار ادا کرتے ہیں اور اسی انداز میں مکالمہ بولتے ہیں۔ ا س فلم کا ایک گانا ’’ہم کالے ہیں تو کیا ہوا دل والے ہیں ‘‘ اتنا مقبول ہوا کہ بعد میں فلم برہمچاری میں یہ گانا محمود ہی کے انداز میں جونیئر محمود پر فلمایا گیا۔ اسی طرح فلم دیش پریمی میں امیتابھ بچن نے محمود کے انداز میں ایک گانا ’’خاتون کی خدمت میں سلام اپن کا‘‘ پیش کیا تھا۔ فلم آرزو میں ممدو شکارا والا کا کردار محمود نے جس خوبی سے ادا کیا ہے، اُسے بھلایا نہیں جا سکتا۔ 
محمود نے فلمی دنیا کے کئی نشیب و فراز دیکھے تھے۔ بلیک اینڈ وہائٹ سے رنگین فلموں کے سنہری دور کی مقبولیت تک میں ان کا کافی بڑا حصہ تھا مگر وہ فلمی دنیا کے بدلتے ہوئے ماحول میں خود کو ایڈجسٹ نہیں کر پا رہے تھے۔ وہ تشدد اور عریانی کے خلاف اور بامقصد تفریحی سنیما کے حامی تھے۔ فلم انڈسٹری سے دور ہونے کے بعد محمود کافی بیمار رہنے لگے، پھر علاج کیلئے اپنے بچوں کے پاس امریکہ چلے گئے۔ محمود نے تقریباً تین سو سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ ۷۲؍برس کی عمر میں ۲۳؍جولائی ۲۰۰۴ء کویہ ہردلعزیز اداکار طویل عرصہ کی علالت کے بعد اس جہانِ فانی سے کوچ کر گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK