اداکار اکشے اوبیرائے اپنی آنے والی فلم’’۲۰۱۴ء‘‘ میں اپنے کریئر کے بہترین اور گہرے کرداروں میں سے ایک کے ذریعے ناظرین کو حیران کرنے کے لیے تیار ہیں۔
EPAPER
Updated: June 12, 2026, 9:06 PM IST | Mumbai
اداکار اکشے اوبیرائے اپنی آنے والی فلم’’۲۰۱۴ء‘‘ میں اپنے کریئر کے بہترین اور گہرے کرداروں میں سے ایک کے ذریعے ناظرین کو حیران کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اداکار اکشے اوبیرائے اپنی آنے والی فلم’’۲۰۱۴ء‘‘ میں اپنے کریئر کے بہترین اور گہرے کرداروں میں سے ایک کے ذریعے ناظرین کو حیران کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس فلم میں وہ ایک ایسے ویلن کا کردار ادا کر رہے ہیں جو تاریک اور اخلاقی طور پر پیچیدہ دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔ مختلف نوعیت کے کردار نبھانے کے لیے معروف اکشے نے اس جذباتی کہانی میں اپنے کردار کی ذہنیت کو گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
اس کردار کے لیے اکشے نے جسمانی اور ذہنی دونوں سطحوں پر وسیع تیاری کی۔ انہوں نے انتہاپسندی، غصے، نظریاتی اثرات اور ٹوٹے ہوئے عقائد کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے گہرا مطالعہ کیا۔ اکشے کا ماننا تھا کہ اس کردار کو صرف سطحی انداز میں نبھانا ممکن نہیں، اس لیے انہوں نے کئی ماہ تک حقیقی زندگی کے رویوں، جذباتی ردِعمل اور ان اندرونی کشمکش کا جائزہ لیا جو اکثر تشدد اور انتہاپسندی کی طرف لے جاتی ہیں۔
اس کردار کے لیے صرف جسمانی تبدیلی کافی نہیں تھی بلکہ انہیں ایک مشکل جذباتی سفر سے بھی گزرنا پڑا۔ انہوں نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کس طرح غصہ، خوف، دوسروں کا اثر اور غلط عقائد کسی انسان کی سوچ اور اخلاقیات کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ فلم سے وابستہ ذرائع کے مطابق اکشے نے اپنی باڈی لینگویج، جذبات پر قابو اور کردار کی نفسیاتی باریکیوں پر بھرپور محنت کی تاکہ یہ کردار مکمل طور پر حقیقی اور مؤثر محسوس ہو۔
یہ بھی پڑھئے:وکرم بھٹ کو خوفناک کہانیوں میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ ڈائریکٹر نے راز سے پردہ اٹھایا
اپنے تجربے کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے اکشے اوبیرائے نے کہاکہ’’سچ کہوں تو ’’۲۰۱۴ء‘‘ میرے کریئر کے سب سے زیادہ جذباتی طور پر چیلنجنگ تجربات میں سے ایک رہی ہے۔ کسی ویلن کا کردار ادا کرنا صرف خوفناک دِکھنے یا اسکرین پر جارحانہ ہونے تک محدود نہیں ہوتا۔ میں واقعی یہ سمجھنا چاہتا تھا کہ آخر کون سی چیز کسی انسان کو اندھیرے کی طرف لے جاتی ہے۔ کس قسم کے جذباتی زخم، غصہ، تنہائی، نظریاتی اثرات یا حالات اس کے فیصلوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ میں نے انتہاپسندی، تنازعات کی نفسیات اور ایسے ماحول کے جذباتی اثرات کے بارے میں کافی مطالعہ کیا۔ سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ ایسے کردار خود کو کبھی ولن نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک وہ کسی مقصد کے لیے لڑ رہے ہوتے ہیں، کسی عقیدے کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں یا اپنے درد کا جواب تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ اس پیچیدگی کو سمجھنا میرے لیے بے حد ضروری تھا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:اسپین کے لیے خوشخبری، الامین جمال اور نیکو ولیمز نے مکمل تربیت کا آغاز کر دیا
انہوں نے مزید کہاکہ’’جسمانی طور پر بھی مجھے کافی تیاری کرنا پڑی کیونکہ اس کردار کی موجودگی میں ایک خاص قسم کی شدت اور غیر متوقع پن ہے لیکن جسمانی محنت سے زیادہ ذہنی طور پر یہ ایک انتہائی تھکا دینے والا تجربہ تھا کیونکہ تیاری کے دوران آپ کو مسلسل ایک پریشان اور غیر مستحکم جذباتی کیفیت میں رہنا پڑتا ہے۔ ایک اداکار کے طور پر ایسے کردار آپ کو گہرائی سے چیلنج کرتے ہیں کیونکہ وہ آپ کو انسانی فطرت کی بعض ناخوشگوار حقیقتوں کا سامنا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس کردار نے مجھے میرے کمفرٹ زون سے بہت دور دھکیل دیا، اور شاید یہی وجہ ہے کہ میں یہ کردار ادا کرنا چاہتا تھا۔