Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ پر پولیس کارروائی: انوراگ کشیپ برہم، ویر داس کی خاموش فنکاروں پر تنقید

Updated: July 21, 2026, 6:10 PM IST | Mumbai

دہلی میں ’’چلو سنسد‘‘ طلبہ احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کے بعد بالی ووڈ کی کئی شخصیات کھل کر سامنے آگئیں۔ فلم ساز انوراگ کشیپ نے پولیس کے مبینہ طاقت کے استعمال پر سوال اٹھایا، جبکہ کامیڈین اور اداکار ویر داس نے ان فنکاروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو ایسے معاملات پر خاموش رہتے ہیں۔ اداکارہ ہما قریشی اور رتیش دیشمکھ نے بھی طلبہ کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے پرامن احتجاج کے احترام پر زور دیا۔

Vir Das and Anurag Kashyap. Photo: INN
ویر داس اور انوراگ کشیپ۔ تصویر: آئی این این

دہلی میں پارلیمنٹ کی جانب نکالے گئے ’’چلو سنسد‘‘ مارچ کے دوران طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد بالی ووڈ کی متعدد معروف شخصیات نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ فلم ساز انوراگ کشیپ نے پولیس کے مبینہ طاقت کے استعمال پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ملک میں کوئی ایسا پولیس اہلکار نہیں جو کسی غلط حکم پر عمل کرنے سے انکار کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وردی پہننے کا مطلب ضمیر کا سودا نہیں ہونا چاہیے۔ اداکارہ ہما قریشی نے بھی احتجاج کے دوران لاٹھی چارج اور طاقت کے استعمال پر افسوس ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرین سے بات چیت اور تحمل کے ذریعے نمٹا جا سکتا تھا، طاقت کا استعمال آخری راستہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ہر شہری کو عزت اور وقار کے ساتھ اپنی بات رکھنے کا حق حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گیتا دت کی درد میں ڈوبی آواز سامعین کو الگ دنیا میں لے جاتی ہے

دوسری جانب کامیڈین اور اداکار ویر داس نے فلمی دنیا کے ان فنکاروں کو نشانہ بنایا جو ایسے حساس معاملات پر خاموش رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ہی ہندوستان کی لائیو انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی اصل طاقت ہیں، اس لیے فنکاروں کے لیے مناسب نہیں کہ وہ نوجوانوں کے مسائل پر خاموش رہیں اور بعد میں انہی نوجوانوں سے اپنی تقریبات کے لیے حمایت کی توقع کریں۔ ان کے مطابق یہ معاملہ اب صرف سیاست کا نہیں بلکہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کا ہے۔ اداکار رتیش دیشمکھ اور جنیلیا دیشمکھ نے بھی مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی آواز کو بغیر خوف کے سنا جانا چاہیے کیونکہ وہی ملک کے مستقبل کے معمار ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر فنکاروں نے بھی احتجاج کے دوران تحمل اور مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’دل تو پاگل ہے‘ میں مادھوری کے مقابل کردار کو کئی اداکارائوں نے مسترد کردیا تھا

ادھر دہلی پولیس کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے دوران بعض مظاہرین نے بیریکیڈ توڑنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد حالات پر قابو پانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا۔ پولیس نے واقعے کے سلسلے میں متعدد ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ احتجاج کے منتظمین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی گئی۔ اس معاملے پر سیاسی اور عوامی بحث بدستور جاری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK