مودی کی ’ایندھن بچاؤ مہم پرآئی ٹی ملازمین کی یونین نے ورک فرام ہوم کو لازمی کرنے کا مطالبہ کیا کہا کہ اس سےایندھن کی کھپت، ماحولیاتی دباؤ اور غیر ضروری سفر میں کمی ہوگی
EPAPER
Updated: May 12, 2026, 6:10 PM IST | New delhi
مودی کی ’ایندھن بچاؤ مہم پرآئی ٹی ملازمین کی یونین نے ورک فرام ہوم کو لازمی کرنے کا مطالبہ کیا کہا کہ اس سےایندھن کی کھپت، ماحولیاتی دباؤ اور غیر ضروری سفر میں کمی ہوگی
ناسینٹ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایمپلائز سینیٹ(این آئی ٹی ای ایس، نائٹس) نے شہریوں سے پیٹرول، ڈیزل اور گیس کے استعمال میں احتیاط اورورک فرام ہوم اپنانے وزیراعظم مودی کےمشورہ کے دوسرے دن پیر کو مرکزی وزیر محنت و روزگار منسکھ مانڈویہ کو خط لکھ کر آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کے شعبے میں ورک فرام ہوم لازمی قرار دینے کیلئے ایڈوائزری جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خط میں نائٹس نے کہا ہےکہ آئی ٹی اور اس سے وابستہ شعبے نے کووڈ-۱۹؍ کی وبا کے دوران پہلے ہی یہ ثابت کر دیا تھا کہ دفترمیں نہ رہ کر دور سے کام کرنے کے باوجود پیداواریت اور کاروباری تسلسل متاثر نہیں ہوتا۔ تنظیم نے مؤقف اختیار کیا کہ جب ڈجیٹل متبادل دستیاب ہیں تو لاکھوں ملازمین کو روزانہ سفر پر مجبور کرنا ایندھن کے استعمال، ٹریفک جام، شہری انفرااسٹرکچر اور عوامی ٹرانسپورٹ نظام پر اضافی دباؤ ڈالنا ہے۔ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ میٹرو شہروں میں ملازمین ایسے کاموں کیلئے روزانہ کئی گھنٹے سفر میں گزارتے ہیں جو مؤثر طریقے سے گھر سے کئے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : وزیراعظم کی عوام سے اپیل پر اپوزیشن لیڈروں کی سخت تنقیدیں
نائٹس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ایسے معاملوں میں ورک فرام ہوم کو صرف ملازمین کی پسند یا کارپوریٹ لچک کے اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اسے وزیر اعظم کی اپیل کے مطابق ایک ذمہ دار معاشی اور قومی معاون اقدام سمجھا جانا چاہیے۔‘‘تنظیم نے کہا کہ آئی ٹی ملازمین کیلئے ورک فرام ہوم لازمی بنانے سے ایندھن کی کھپت، ماحولیاتی دباؤ اور غیر ضروری سفر میں کمی آئے گی۔نائٹس کے صدر ہرپریت سنگھ سلوجا کے دستخط والے مذکورہ خط میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ یہ مطالبہ آجروں کے ساتھ کسی تصادم کیلئے نہیں بلکہ ’’اجتماعی قومی تعاون‘‘ کے طور پر کیا جا رہا ہے۔