Inquilab Logo Happiest Places to Work

روپالی چاکن کر سے ایس آ ئی ٹی کی گھنٹوں پوچھ تاچھ

Updated: May 12, 2026, 6:10 PM IST | nashik

روپالی چاکن کر سے ایس آ ئی ٹی کی گھنٹوں پوچھ تاچھ خاتون کمیشن کی سابق چیئر پرسن کو پولیس کے ۷؍ گھنٹوں تک چلی جس میں چاکن کر سے ۴۵؍ سوالات پوچھےگئے

Rupali Chakankar. Photo: INN
روپالی چاکن کر ۔ تسویر : آئی این این

مہاراشٹر میں کھلبلی مچانے والے اشوک کھرات کیس میں خواتین کمیشن کی سابق چیئر پرسن  روپالی چاکن کر سے ایس آئی ٹی نے پہلی بار پوچھ تاچھ کی۔ اطلاع کے مطابق  ایس آئی ٹی اہلکاروں نے روپالی چاکن کر پر سوالات کی بوچھار کر دی۔ یہ پوچھ تاچھ ۷؍ گھنٹوں تک چلی جس میں چاکن کر سے ۴۵؍ سوالات پوچھےگئے۔ 

  ان سے پوچھا گیا کہ اشوک کھرات کے ساتھ آپ کا کیا رشتہ تھا؟ آپ کھرات کو کب سے جانتی ہیں؟ اور اور کیا آپ کو شیوانکا ٹرسٹ  میں کام کرتے ہوئے اشوک کھرات کے کرتوتوں کےتعلق سے کوئی علم تھا؟ساتھ ہی ان سے پوچھا گیا کہ اشوک کھرات کے ساتھ ادا کی جانے والی مذہبی رسومات کی نوعیت کیا تھی ؟اور کیا اس کے بدلے کوئی  مالی دین ہوا  تھا؟  کھرات کے ساتھ آپ کی جو تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں وہ کس پروگرام کی ہیں اور کب کی ہیں؟  نیز یہ کہ شیوانکا تنظیم کے اجلاسوں میں کیا فیصلے کئے گئے اور کون سی سرگرمیاں انجام دی گئیں؟یاد رہے کہ روپالی چاکن کر کی کئی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تھے جن میں وہ کبھی مذہبی رسومات ادا کرتے ہوئے تو  کبھی کھرات کے پیر چھوتے ہوئے دکھائی دے رہی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے : شاہ پور :بڑھتے درجۂ حرارت کے سبب ماحولیاتی خطرات میں اضافہ

 ایس آئی ٹی سربرا ہ کی پوچھ تاچھ
  ۷؍ گھنٹے کی پوچھ تاچھ میں ایس آئی ٹی کی سربراہ تیجسوی ساتپوتے نے بھی چاکن کر سے ۲؍ گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی جس میں چاکن کر کو  کئی  اہم اور سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے چاکن کر سے پوچھا کہ اشوک کھرات کے مندر میں جو دیگرسیاسی لیڈران آتے تھے وہ کس کی ہدایت پر آتے تھے؟ کھرات  سے متعلق مالی لین دین کیلئے کون سے بینک اکاؤنٹ کا استعمال ہوتا تھا؟

اس طویل پوچھ تاچھ کا سامنا کرنے کے بعد روپالی چاکن کر نے خود میڈیا کے سامنے آئیں ، انہوں نے کہا کہ ’’میں نے تفتیشی ایجنسیوں کا ضروری  تعاون کیا ہے۔ میں نے ایس آئی ٹی کی تحقیقات میں اپنا رخ تفصیل سے پیش کیا ہے اور تمام سوالات کے ضروری جوابات دیئے ہیں۔‘‘ یہ بتاتے ہوئے کہ اس تحقیقات کی تفصیلی رپورٹ جلد ہی سامنے آئے گی، روپالی چاکن کر نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور پونے روانہ ہو گئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK