بالی ووڈ ڈائریکٹر انوراگ کشیپ نے حال ہی میں دی ’’کیرلا اسٹوری۲‘‘پر سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے اسے پروپیگینڈا فلم قرار دیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 22, 2026, 8:05 PM IST | Kochi
بالی ووڈ ڈائریکٹر انوراگ کشیپ نے حال ہی میں دی ’’کیرلا اسٹوری۲‘‘پر سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے اسے پروپیگینڈا فلم قرار دیا ہے۔
۲۰۲۳ء میں ریلیز ہونے والی فلم دی کیرالا اسٹوری کے تین سال بعد اس کے سیکوئل دی کیرلا اسٹوری ۲؍ کے ساتھ فلمسازواپس آئے ہیں۔ حال ہی میں اس کا ٹریلر جاری ہوا ہے جس کے بعد فلم کے حوالے سے تنازع شروع ہو گیا ہے۔ کیرالا کے وزیر اعلیٰ پِنرائی وجین نے اسے جھوٹی، پروپیگینڈا اور ریاست کی ہم آہنگی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ اب بالی ووڈ ڈائریکٹر انوراگ کشیپ نے بھی اس فلم پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے اسے پروپیگینڈا فلم بتایا اور ڈائریکٹر کو لالچی آدمی کہا۔ انوراگ کشیپ کے مطابق فلمساز صرف پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔
انوراگ کشیپ کا ردعمل
کوچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جب ان سے ’’دی کیرلا اسٹوری۲‘‘ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی۔ انہوں نے ٹریلر میں دکھائے گئے بیف والے منظر پر بھی ردعمل ظاہر کیا اور کہاکہ ’’جیسے بیف کھلایا گیا ہے، ویسے تو کوئی کھچڑی بھی نہیں کھلاتا۔‘‘ انہوں نے صاف کہا کہ یہ فلم صرف پیسہ کمانے کے لیے بنائی گئی ہے اور لوگوں کو تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ انوراگ نے کہاکہ ’’اس فلم کا جو فلمساز ہے وہ ایک لالچی آدمی ہے۔ وہ صرف پیسہ بنانا چاہتا ہے۔‘‘
Reporter: What`s your view on The Kerala Story 2?
— Nehr_who? (@Nher_who) February 22, 2026
Anurag Kashyap: It a bullshit propaganda movie, the movie tries to divide people and spread hatred,the maker is a greedy bootlicker.
He goes on saying "Aise to log Khichdi bhi nahi khilate jaisa movie mein Beef khila rahe hai"😂 pic.twitter.com/c6TlxSBbJL
تنازعات کا قانونی پہلو
گزشتہ ہفتے کیرالا ہائی کورٹ نے’’دی کیرالا اسٹوری۲‘‘ کے میکرز اور سینسر بورڈ کو نوٹس جاری کیا تھا۔ یہ نوٹس اس عرضی پر سماعت کے بعد آیا تھا جس میں فلم کو دیے گئے سینسر سرٹیفکیٹ کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ عرضی میں ٹیزر اور ٹریلر پر اعتراض کیا گیا تھا۔ کنور ضلع کے شکایت کنندہ شری دیو نمبوترے کا کہنا تھا کہ فلم میں تین مختلف ریاستوں کی خواتین اور ان کے ساتھ ہونے والے واقعات دکھائے گئے ہیں، لیکن فلم کے عنوان اور کچھ مناظر میں کیرالا کی غلط تصویر پیش کر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:زمبابوے کا عزم بمقابلہ ویسٹ انڈیز کی جارحیت: سپر ۸؍ کا بڑا مقابلہ
کیرالا کے وزیر اعلیٰ کا بیان
کچھ دن پہلے کیرالا کے وزیر اعلیٰ پِنرائی وجین نے بھی فلم پر ردعمل دیا تھا۔ انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اسے ریاست کے سیکولر اقدار کے خلاف بتایا اور کہا کہ یہ زہریلی، جھوٹی اور پروپیگینڈا فلم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ فلم کیرالا کی مذہبی ہم آہنگی کی روایت کو کمزور کر سکتی ہے جو ریاست کی شناخت کے لیے اہم ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سُدیپ کو میرے بغیر کرائم ڈراما بنانے کی اجازت نہیں: جے دیپ اہلاوت
پروڈیوسر وِپُل شاہ کی وضاحت
فلم کے پروڈیوسر وِپُل شاہ نے ایچ ٹی کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ فلم ہندوستانی عدالتی نظام میں ہوئے حقیقی معاملات پر مبنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تین مرکزی کہانیوں کے ساتھ کئی دیگر واقعات بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ فلم پورے ملک کی صورتحال کو بہتر انداز میں دکھا سکے۔ ان کے مطابق فلم میں تین لڑکیوں کی کہانی ہے لیکن یہ کئی دیگر لڑکیوں کے واقعات بھی پیش کرتی ہے۔