• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان کی ننگرہار اور پکتیکا میں فضائی کارروائی، افغانستان کا شدید احتجاج

Updated: February 22, 2026, 8:03 PM IST | Islamabad

پاکستان نے افغانستان کے صوبہ ننگر ہار اور پکتیکا میں مبینہ دہشتگردوں کے اڈوں کو نشانہ بناکر فضائی کارروائی کی، جس کی افغانستان نے شدید مذمت کی ہے، افغان حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری ہلاک ہوئے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

A man inspects a vehicle damaged in a Pakistani attack in Nangarhar, Afghanistan. Photo: PTI
افغانستان کے ننگرہار میں پاکستانی حملے میں تباہ ایک گاڑی کا معائبہ کرتا شخص۔ تصویر: پی ٹی آئی

پاکستان نے افغانستان کے صوبوں ننگرہار اور پکتیکا میں مبینہ طور پر فضائی کارروائی کی ہے، جس میں اسلام آباد کا کہنا ہے کہ حالیہ خودکش حملوں کے بعد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش سے وابستہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم افغان حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری ہلاک ہوئے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔پاکستانی وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق، یہ کارروائیاں حالیہ خودکش دھماکوں کے بعد کی گئی ہیں، جن میں اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ پر حملہ، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے دھماکے شامل ہیں ۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ کاایران پرحملے کیلئے امریکہ کو اپنی زمین دینے سے انکار

بعد ازاں پاکستان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ملوث دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ہے ۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے سرحدی علاقے میں ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے سات عسکریت پسند کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ۔دوسری جانب افغان عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج نے ننگرہار اور پکتیکا کے صوبوں میں شہریوں پر بمباری کی، جس میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستانی فوجی جرنیل اپنے ملک میں حفاظتی ناکامیوں  کو ایسے جرائم سے چھپا رہے ہیں ۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کشیدگی کے درمیان امریکہ نے قطر اور بحرین سے سیکڑوں فوجی بلالئے: رپورٹ

دریں اثناءافغان وزارت دفاع نے ان حملوں کو افغانستان کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانا پاکستانی فوج کی انٹیلیجنس ناکامی کو ظاہر کرتا ہے ۔ وزارت نے خبردار کیا کہ اس جارحیت کا مناسب وقت پر مناسب جواب دیا جائے گا ۔ خبر کے مطابق ننگرہار کے ضلع بہسود میں ایک گھر پر حملے میں۲۳؍ افراد کے ملبے تلے دب جانے کی اطلاعات ہیں، جن میں سے پانچ کو زندہ نکال لیا گیا جبکہ دیگر کی ہلاکت کا خدشہ ہے ۔ افغان ذرائع کے مطابق کم از کم۱۷؍ شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں۱۱؍ بچے شامل ہیں ۔پاکستان نے افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے کا وعدہ پورا کرے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK