• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’چھاوا‘‘ تقسیم کرنے والی فلم تھی، سبحان اللہ کا منفی استعمال ہوا: اے آر رحمان

Updated: January 17, 2026, 10:03 PM IST | Mumbai

مشہور میوزک کمپوزر اے آر رحمان نے بالی ووڈ بلاک بسٹر ’’چھاوا‘‘ کے بارے میں کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ فلم تقسیم پیدا کرنے والی ہے اور بعض منفی مناظر میں سبحان اللہ اور الحمدللہ جیسے الفاظ کا استعمال طبیعت مکدر کردیتا ہے۔ باوجود اس کے، انہوں نے فلم کا ساؤنڈ ٹریک کمپوز کرنا اعزاز قرار دیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

بالی ووڈ کی ۲۰۲۵ء کی سب سے بڑی کامیاب فلم ’’چھاوا‘‘ کے بارے میں موسیقار اے آر رحمان نے حالیہ انٹرویو میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، جس میں انہوں نے فلم کے کچھ تخلیقی انتخابوں پر تنقید کی۔ چھاوا میں اے آر رحمان نے موسیقی کمپوز کی تھی، لیکن انہوں نے کہا کہ فلم کی کچھ جمالیاتی اور بیانیاتی خصوصیات نے اسے تفرقہ پھیلانے والا بنا دیا ہے۔ اے آر رحمان نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کے ساتھ گفتگو میں تسلیم کیا، ’’یہ ایک تقسیم پیدا کرنے والی فلم ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس نے تفرقہ بازی سے فائدہ اٹھایا، لیکن اس کا اصل مقصد بہادری دکھانا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ فلم کے موسیقی کار بن کر اعزاز محسوس کرتے ہیں، اور فلم کے میوزیکل تجربے کو اچھا یاد رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مَیں مسلمان ہوں، ’’رامائن‘‘ ہندو: فلم کی موسیقی پر اے آر رحمان کا موقف

جب ان سے فلم میں بعض منفی مناظر میں سبحان اللہ اور الحمدللہ جیسے الفاظ کے استعمال کے بارے میں پوچھا گیا، تو اے آر رحمان نے صاف کہا کہ یہ طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔ اور میں لوگوں کا احترام کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اتنی آسانی سے غلط معلومات یا منفی پیغامات سے متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے اندر ضمیر، محبت اور انسانیت جیسے جذبات موجود ہیں۔ اے آر رحمان نے یہ بھی ذکر کیا کہ انہوں نے فلم کے ڈائریکٹر لکشمن اُتیکر کی درخواست پر ’’چھاوا‘‘ کے ساؤنڈ ٹریک پر کام کیا۔ اُتیکر نے اے آر رحمان سے کہا کہ وہ صرف انہیں ہی اس خاص پروجیکٹ کے لیے چاہتے تھے، جس پر رحمان نے اپنے پیشہ ورانہ احترام کے ساتھ ہاں کہا۔

یہ بھی پڑھئے: غیر تخلیقی لوگوں کی طاقت بڑھ گئی ہے: بالی ووڈ میں کم کام ملنے پر اے آر رحمان

’’چھاوا‘‘ جس میں وِکی کوشل مرکزی کردار میں ہیں اور جسے لکشمن اُتیکر نے ڈائریکٹ کیا، نے ۲۰۲۵ء میں زبردست باکس آفس کامیابی حاصل کی، مگر اسی دوران اس فلم کے موضوع، بیانیے اور مذہبی اظہار پر مباحثہ بھی جاری رہا، جس نے اسے عوامی سطح پر تقسیم کی سیاست کا حصہ بنا دیا۔ اے آر رحمان نے اختتام پر کہا کہ فنکاروں کا کام صرف تنقید کرنا نہیں بلکہ بہتر اور مثبت پیغامات کی ترویج ہے تاکہ معاشرے میں امن، رواداری اور ثقافتی ہم آہنگی کا فروغ ہو۔ ان کے خیالات نے فلمی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بحث کو مزید تیز کر دیا ہے، جہاں ہر طرف فلم کے مقاصد اور تخلیقی آزادی پر تبصرے ہو رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK