• Sat, 17 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غیر تخلیقی لوگوں کی طاقت بڑھ گئی ہے: بالی ووڈ میں کم کام ملنے پر اے آر رحمان

Updated: January 17, 2026, 6:07 PM IST | Mumbai

آسکر جیتنے والے موسیقار اے آر رحمان نے حال ہی میں کہا ہے کہ بالی ووڈ میں پچھلے آٹھ سالوں میں ان کیلئے پروجیکٹس کم ہو گئے ہیں کیونکہ صنعت میں طاقت اب غیر تخلیقی افراد کے ہاتھ میں زیادہ ہے، جس سے فیصلہ سازی کا زاویہ بدل گیا ہے۔

AR Rahman. Photo: INN
اے آر رحمان۔ تصویر: آئی این این

آسکر یافتہ میوزک کمپوزر اے آر رحمان نے حالیہ انٹرویو میں کھل کر اظہارِ خیال کیا کہ انہیں لگتا ہے کہ بالی ووڈ میں طاقت کے توازن میں تبدیلی آئی ہے جس کی وجہ سے ان کیلئے فلمی پروجیکٹس کم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں جب سے فیصلے کرنے والی طاقت غیر تخلیقی افراد کے ہاتھ میں آئی ہے، تب سے انہیں کم مواقع مل رہے ہیں۔ رحمان نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کے ساتھ ایک گفتگو میں کہا، ’’شاید مجھے پہلے کبھی احساس ہی نہیں ہوا، شاید یہ چھپا ہوا تھا، لیکن پچھلے آٹھ سال میں ایک طاقت کا رخ بدل گیا ہے اور وہ لوگ جن میں تخلیقی صلاحیت نہیں ہے، اب طاقت میں ہیں۔ یہ شاید کسی فرقہ وارانہ مسئلے کی وجہ بھی ہو… لیکن براہِ راست میری آنکھوں پر نہیں آیا، بس افواہوں کے ذریعے سننے کو ملا کہ وہ آپ کو بک تو کرتے ہیں، لیکن میوزک کمپنی نے جا کر پانچ اور کمپوزرز رکھ لے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: سیکولرازم لیکچر نہیں، روزمرہ زندگی کا شعور ہونا چاہیے: جاوید اختر

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اب اپنے کام کے پیچھے نہیں بھاگتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ کام خود ان کے پاس آئے ’’میں کام کی تلاش میں نہیں ہوں۔ مجھے کام تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ کام میرے پاس آئے؛ میرے خلوص کی وجہ سے۔ جو کچھ مجھے ملنا چاہیے، وہ مجھے مل جاتا ہے۔‘‘ اے آر رحمان نے اپنے ابتدائی عرصے کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ انہوں نے ۱۹۹۱ء میں منی رتنم کی فلم ’’روجا‘‘ کے ساتھ ہندی سنیما میں قدم رکھا تھا، اور اس کے بعد ’’بامبے‘‘ اور ’’دل سے‘‘ جیسی فلموں میں موسیقی دی تھی۔ مگر تب بھی وہ خود کو مکمل طور پر اس صنعت کا حصہ محسوس نہیں کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: فلم ’اکیس‘ میں دھرمیندر کی کاسٹنگ پر سوال، مگر کردار نے سب کو خاموش کر دیا

انہوں نے بتایا کہ حقیقی شہرت سبھاش گھئی کی ۱۹۹۹ء کی فلم ’’تال‘‘ سے ملی جس نے عام گھروں تک پہنچ کر ان کی موسیقی کو عام آدمی کی پسند بنا دیا۔ اس وجہ سے ان کا نام شمالی ہندوستان میں بھی مقبول ہوا۔ اے آر رحمان نے مزید بتایا کہ شروع میں انہیں زبان کی وجہ سے بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑا، چونکہ وہ تمل ہیں اور ہندی میں روانی نہیں رکھتے تھے، تو انہوں نے رَہنمائی کے بعد اردو سیکھنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ۱۹۶۰ء اور ۷۰ء کی دہائی میں ہندی موسیقی کی بنیادیں اُردو پر قائم  تھیں۔ بعد میں انہوں نے عربی اور پنجابی بھی سیکھی تاکہ اپنی موسیقی کو زیادہ ثقافتی گہرائی دے سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: عمران ہاشمی نے محکمہ کسٹمز کی محنت کی پزیرائی کی

رحمان نے کہا کہ اگرچہ وہ کبھی خود کو مکمل طور پر بالی ووڈ کا حصہ نہیں سمجھتے تھے، مگر اپنی محنت اور لگن سے انہوں نے موسیقی کے ذریعے عوامی دلوں میں جگہ بنائی۔ اب چاہے طاقت میں تبدیلی آئی ہو، مگر وہ اپنے فن اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کو اہمیت دیتے ہیں، اور جیسے بھی موقع ملتا ہے، وہ اسے خلوص اور احترام سے قبول کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK