Inquilab Logo Happiest Places to Work

آشا بھوسلے کی فلم ’مائی‘ میں ادا کیا گیا کردار ناظرین کو رونے پر مجبور کر دیتا تھا

Updated: April 12, 2026, 10:08 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ کی گلوکارہ آشا بھوسلے کے انتقال سے ان کے چاہنے والے غمزدہ ہیں۔ انہوں نے۱۲؍ ہزار سے زیادہ گانے مختلف زبانوں میں گائے ہیں اور ان کی شہرت بیرونِ ملک تک پھیلی ہوئی ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ آشا تائی نے اداکاری کی دنیا میں بھی قدم رکھا تھا۔

Film Mai.Photo;iNN
فلم مائی۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ کی گلوکارہ آشا بھوسلے کے انتقال سے ان کے چاہنے والے غمزدہ ہیں۔ انہوں نے۱۲؍ ہزار سے زیادہ گانے مختلف زبانوں میں گائے ہیں اور ان کی شہرت بیرونِ ملک تک پھیلی ہوئی ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ آشا تائی نے اداکاری کی دنیا میں بھی قدم رکھا تھا۔ انہوں نے پردے پر ایسا جذباتی کردار ادا کیا کہ ناظرین اشک بہانے پر مجبور ہو گئے۔
گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کی جانب سے موسیقی کی تاریخ میں سب سے زیادہ ریکارڈنگ کرنے والی فنکارہ کے طور پر تسلیم کی جانے والی آشا بھوسلے نے مراٹھی فلم ’مائی‘ میں ایک ماں کا کردار نبھایا تھا۔ اس فلم میں وہ ایک ایسی ماں بنی تھیں جو الزائمر کی بیماری میں مبتلا ہوتی ہے اور چیزیں یاد نہیں رکھ پاتی۔ فلم میں ان کا بیٹا (رام کپور) انہیں اولڈ ایج ہوم میں چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے، جبکہ بیٹی (پدمنی کولہاپورے) ان کی دیکھ بھال کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ایک گانے کے لیے آشا بھوسلے اور محمد رفیع پر ۵۰۰؍ روپے کی شرط لگائی گئی تھی

یہ فلم زندگی کے اتار چڑھاؤ اور بزرگوں کے تئیں بچوں کے بدلتے رویے کو خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔ یہ فلم آشا تائی کے لیے بہت خاص تھی کیونکہ یہ ان کی ڈیبیو فلم تھی اور کہانی اتنی متاثر کن تھی کہ انہوں نے گلوکاری کے ساتھ ساتھ اداکاری کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔انہوں نے ۲۰۱۳ء میں دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ’مائی‘ کا کردار انہیں بہت جذباتی لگا اور یہ کردار ان کی حقیقی زندگی کے کافی قریب بھی تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ آشا جی نے فلم کے کسی بھی جذباتی سین میں رونے کے لیے گلیسرین کا استعمال نہیں کیا تھا، بلکہ ان کی آنکھوں میں خود بخود آنسو آ جاتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:سلمان خان کی فلم ’’ماتر بھومی‘‘ براہِ راست او ٹی ٹی پر ریلیز ہوگی؟


انہوں نے کہا تھا کہ وہ کردار میں خود کو اس قدر ڈبو دیتی تھیں کہ جذبات خود ہی ابھر آتے تھے۔ فلم ’مائی‘ سے پہلے ان کی بیٹی نے ۲۰۱۲ء میں خودکشی کر لی تھی، اور وہ ابھی اس صدمے سے نکل بھی نہیں پائی تھیں کہ ۲۰۱۵ء میں ان کے بیٹے کا کینسر کے باعث انتقال ہو گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK