فلمی دنیا میں ایسے اداکار کم ہی ملتے ہیں جو ہیرو نہ ہوتے ہوئے بھی ناظرین کے ذہنوں پر گہرا نقش چھوڑدیں۔ اشیش ودیارتھی انہی چندفنکاروں میں شامل ہیں۔
اشیش ودیارتھی۔ تصویر:آئی این این
فلمی دنیا میں ایسے اداکار کم ہی ملتے ہیں جو ہیرو نہ ہوتے ہوئے بھی ناظرین کے ذہنوں پر گہرا نقش چھوڑدیں۔ اشیش ودیارتھی انہی چندفنکاروں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی بے مثال اداکاری، مضبوط آواز، جاندار مکالمہ ادائیگی اور کردار میں ڈوب جانے کی صلاحیت کے ذریعے ہندوستانی سنیما میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ وہ ان اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں صرف ایک فلمی صنعت تک محدود نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ انہوں نے ہندی، تیلگو، تمل، کنڑ، ملیالم، بنگالی، اوڑیا، مراٹھی اور انگریزی زبانوں کی فلموں میں بھی نمایاں کام کیا ہے۔ اشیش ودیارتھی کی پیدائش ۱۹؍جون ۱۹۶۵ءکو دہلی میں ہوئی۔ ان کے والد گووند ودیارتھی ہندوستان کی روایتی فنونِ لطیفہ کے محقق اور دستاویزی ماہرتھے، جبکہ والدہ ریبا ودیارتھی ایک معروف کتھک رقاصہ اور استاد تھیں۔ یوں اشیش کو بچپن ہی سے فن اور ثقافت کا ماحول میسر آیا۔ان کی والدہ بنگالی پس منظر رکھتی تھیںجبکہ والد کا تعلق کیرالہ سےتھا۔اسی وجہ سے اشیش کی شخصیت میں مختلف ثقافتوں کی جھلک نظر آتی ہے۔ انہوں نے دہلی میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں مشہور ادارے نیشنل اسکول آف ڈراماسےاداکاری کی تربیت حاصل کی۔ این ایس ڈی میں تعلیم نے ان کی فنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔
فلمی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے اشیش ودیارتھی تھیٹرسے وابستہ رہے۔ وہ معروف تھیٹر گروپ ’ایکٹ ون‘کےساتھ بھی منسلک رہے جہاں انہوں نے اداکاری کی باریکیوں کو قریب سےسیکھا۔ تھیٹر کے اس تجربے نے بعد میں انہیں فلموں میں پیچیدہ کردار نبھانے کے قابل بنایا۔۱۹۹۰ءکی دہائی کے آغاز میں وہ ممبئی منتقل ہوئے۔ ان کی ابتدائی فلموں میں ’دروہ کال‘ اور ’سردار‘شامل ہیں۔ اگرچہ ’سردار‘ان کی پہلی فلم تھی، لیکن ’دروہ کال‘ نے انہیں قومی سطح پر شناخت دلائی۔
۱۹۹۰ءاور۲۰۰۰ءکی دہائی میں اشیش ودیارتھی ہندوستانی سنیما کے سب سے مصروف ولن بن گئے۔ ان کے چہرے کے تاثرات، گونج دار آواز اور دھمکی آمیز انداز نے انہیں منفی کرداروں کے لیے بہترین انتخاب بنا دیا۔انہوں نے ۱۹۴۲ء: اے لو اسٹوری، ناجائز، ضدی، میجر ساب، کہو نا پیار ہے،ایل او سی کارگل،برفی اور حیدر جیسی متعدد فلموں میں یادگار کردار ادا کیے۔ جنوبی ہند کی فلمی صنعتوں میں بھی ان کا بڑا نام رہا۔ خاص طور پر تیلگو اور کنڑ فلموں میں ان کے منفی کردار ناظرین میں بے حد مقبول ہوئے۔ انہیں تیلگو فلم اتھانوکاڈےکے لیے فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔
اشیش ودیارتھی کی سب سےبڑی کامیابیوں میں سے ایک ان کی لسانی وسعت ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں ۳۰۰؍سے زائد فلموںمیں کام کیا اور۱۱؍سے زیادہ زبانوں کی فلمی صنعتوں کا حصہ رہے۔ ہندوستان میں بہت کم اداکار ایسے ہیں جنہوں نے اتنی مختلف زبانوں اور ثقافتوں میں یکساں کامیابی حاصل کی ہو۔
اشیش ودیارتھی نے خود کو صرف اداکاری تک محدود نہیں رکھا۔ گزشتہ چندبرسوں میں انہوں نے بطور موٹیویشنل اسپیکر، کہانی گو، کامیڈین اور کاروباری شخصیت بھی شناخت بنائی ہے۔ ان کا ادارہ مختلف اداروں اور کمپنیوں کے لیے تربیتی اور رہنمائی پروگرام منعقد کرتا ہے۔انہوں نے ڈیجیٹل دنیا میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ان کا یوٹیوب چینل کھانے، سفر اور روزمرہ زندگی پر مبنی وی لاگز کے لیے خاصا مقبول ہے اور لاکھوں لوگ اسے فالو کرتے ہیں۔