Inquilab Logo Happiest Places to Work

’فرض اور قانون‘، ’شکتی‘ اور ’جیلر‘ میں بھی ’مدر انڈیا‘ جیسی کہانی پیش کی گئی تھی

Updated: June 18, 2026, 4:05 PM IST | Mumbai

خاندانی اور جذباتی کہانیوں پر مبنی فلمیں ہمیشہ سے ناظرین کو پسند رہی ہیں۔ اگرچہ بعض اوقات ان فلموں کی بنیادی کہانی ایک جیسی ہوتی ہے، لیکن ہدایت کار کے اندازِ پیشکش اور کرداروں کی تشکیل اسے منفرد بنا دیتی ہے۔

Mother India. Photo: INN
مدر انڈیا۔ تصویر: آئی این این

خاندانی اور جذباتی کہانیوں پر مبنی فلمیں ہمیشہ سے ناظرین کوپسندرہی ہیں۔ اگرچہ بعض اوقات ان فلموں کی بنیادی کہانی ایک جیسی ہوتی ہے، لیکن ہدایت کار کے اندازِ پیشکش اور کرداروں کی تشکیل اسے منفرد بنا دیتی ہے۔ ایسی۴؍فلمیں سامنے آچکی ہیںجن کی اصل کہانی ایک دوسرے سے کافی حد تک ملتی جلتی تھی، مگر ہر فلم کو پیش کرنے کا انداز مختلف تھا۔ ان چاروں فلموں نے اپنے اپنے دور میں زبردست شہرت حاصل کی، جن میں سے ۳؍نے باکس آفس پر شاندار کامیابی حاصل کی، جبکہ ایک فلم آسکر ایوارڈ کے لیے بھی نامزد ہوئی۔ یہ فلمیں تھیں: ’مدر انڈیا‘، ’فرض اور قانون‘، ’شکتی‘ اور ’جیلر‘۔ 

یہ بھی پڑھئے: عامر خان پروڈکشنز کی تاریخی فلم’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ کے کرداروں کے پوسٹرز جاری

اس فہرست میں سب سے پہلا نام ’مدر انڈیا‘ کا ہے، جس کی ہدایت کاری محبوب خان نے کی تھی اور اس میں نرگس، سنیل دت، راجندر کمار اور راج کمار نے اہم کردار ادا کیے تھے۔فلم کی کہانی رادھا (نرگس) کے گرد گھومتی ہے، جو شوہر کی موت کے بعد غربت اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنے دو بیٹوں کی پرورش کرتی ہے۔ سود خور سکھی لالا کے ظلم و استحصال سے خود کو بچاتے ہوئے وہ عزت اور خودداری کی ایک مثال بن جاتی ہے۔فلم کا اختتام ہندوستانی سینما کے یادگار ترین مناظر میں شمار ہوتا ہے۔ گاؤں کی عزت بچانے کے لیے رادھا اپنے باغی بیٹے برجو (سنیل دت) کو گولی مار دیتی ہے۔ اس کے بعد وہ اسے گلے لگا کر روتی ہے اور کہتی ہے’’برجو میرے لال، مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔‘‘اس دور میں اتنا جرات مندانہ اور جذباتی اختتام صرف محبوب خان ہی سوچ سکتے تھے۔مدر انڈیا کے اختتامی منظر کی جھلک بعد کی کئی فلموں میں دیکھی گئی۔ انہی میں سے ایک ’فرض اور قانون‘ تھی، جو۶؍ اگست ۱۹۸۲ءکو ریلیز ہوئی۔ یہ ایک تیلگو فلم کا ری میک تھی۔ اس کے مکالمے قادر خان نے لکھے تھے۔اگرچہ فلم کی بنیادی کہانی مدر انڈیا سے ملتی جلتی تھی، لیکن اس کا اختتام مختلف تھا۔ یہاں باپ اپنے بگڑے ہوئے بیٹے کو گولی نہیں مارتا بلکہ بیٹا اپنی غلطیوں کا احساس کرکے سدھر جاتا ہے۔’فرض اور قانون‘ کی ریلیز کے محض دو ماہ بعد یکم اکتوبر ۱۹۸۲ءکو فلم’شکتی‘ سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔اس فلم کی کہانی معروف جوڑی سلیم جاوید نے لکھی تھی جبکہ ہدایت کار رمیش سپی تھے، جنہوں نے اس سے قبل ’شعلے‘ جیسی یادگار فلم بنائی تھی۔یہ فلم خصوصی طور پر اس لیے بھی یاد رکھی جاتی ہے کہ اس میں پہلی مرتبہ دلیپ کمار اور امیتابھ بچن ایک ساتھ بڑے کرداروں میں نظر آئے تھے۔فلم کا اختتام بھی مدر انڈیاکی یاد دلاتا ہے۔ یہاں ایک فرض شناس پولیس افسر باپ (دلیپ کمار) قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے مجرم بیٹے (امیتابھ بچن) کو گولی مار دیتا ہے۔۱۰؍اگست ۲۰۲۳ء کو ریلیز ہونے والی رجنی کانت کی فلم’جیلر‘ میں بھی ایسی ہی ایک کہانی پیش کی گئی تھی۔اسے مدر انڈیا کا ماڈرن ورژن قرار دیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK