Inquilab Logo Happiest Places to Work

بٹوارہ ۱۹۴۷ء: لوگ سنی دیول کو مسلم کردار میں قبول نہیں کر پا رہے: شبانہ اعظمی

Updated: August 29, 2026, 7:04 PM IST | Mumbai

فلم ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ کی باکس آفس پر ناکامی پر اداکارہ شبانہ اعظمی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے ناظرین سنی دیول کو مسلمان کردار میں قبول نہ کر پا رہے ہوں۔ انہوں نے امیتابھ بچن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے متعدد فلموں میں مسلمان کردار ادا کیے اور ناظرین نے انہیں بخوبی قبول کیا۔

Shabana Azmi. Photo: INN
شبانہ اعظمی۔ تصویر: آئی این این

۱۴؍ اگست کو ریلیز ہونے والی فلم ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ باکس آفس پر خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور اب تک فلم کی کمائی صرف ۵۳؍ کروڑ روپے تک پہنچ سکی ہے۔ اس کے برعکس عمران ہاشمی کی فلم ’’آواراپن ۲‘‘، جو اسی روز ریلیز ہوئی تھی، ۲۰۰؍ کروڑ روپے کا ہندسہ عبور کرچکی ہے۔ فلم کی خراب باکس آفس کارکردگی اور ناظرین کے ردعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے فلم ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ میں اہم کردار ادا کرنے والی اداکارہ شبانہ اعظمی نے کہا ہے کہ ممکن ہے لوگ سنی دیول کو مسلمان کردار میں قبول نہ کر پا رہے ہوں۔ انہوں نے اس صورتحال کا موازنہ امیتابھ بچن سے کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دور کے سب سے بڑے سپر اسٹار ہونے کے باوجود امیتابھ بچن نے کئی فلموں میں مسلمان کردار ادا کیے اور ناظرین نے انہیں ان کرداروں میں آسانی سے قبول کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ بگ باس ۲۰‘‘ میں بڑا اپ ڈیٹ، سلمان خان نے انکشاف کیا

زوم کے ساتھ گفتگو میں شبانہ اعظمی نے کہا، ’’سب سے پہلے تو میں فلم ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ کی مکمل باکس آفس ناکامی پر بہت حیران ہوں، کیونکہ میں ایسے لوگوں میں گھری ہوئی ہوں جو میرے پاس آکر بتاتے ہیں کہ انہیں فلم بہت پسند آئی۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں فلم کا پیغام بہت اچھا لگا۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ آج کے ماحول میں انسانیت کے بارے میں بات کرنا بہت ضروری ہے۔ دوسری طرف لوگ سنیما گھروں میں فلم دیکھنے نہیں گئے اور جو لوگ گئے، وہ بھی الجھے ہوئے تاثرات کے ساتھ باہر آئے۔‘‘ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’بات یہ ہے کہ آپ سنی دیول کو مسلمان کے طور پر قبول نہیں کر سکتے۔ ’’قُلی‘‘ اور کئی دوسری فلموں میں امیتابھ بچن نے بہت آسانی سے مسلمان کردار ادا کیے۔ فلم ’’دیوار‘‘ میں انہوں نے ۷۸۶؍ لکھا ہوا دکھایا اور اسے بھی قبول کیا گیا۔ تو ہم اسے کیسے سمجھیں؟ کیا وہ ایسا ماحول پیدا کر رہے ہیں جہاں اس طرح کے فیصلے جان بوجھ کر کیے جا رہے ہیں؟ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: فلم ’’ریس ۴‘‘میں عامر خان کے ساتھ سدھارتھ ملہوترا اور ٹائیگر شروف کا داخلہ

اداکارہ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بعض صورتوں میں فلم دیکھنے والے افراد بھی شاید اسے مکمل طور پر سمجھ نہیں سکے۔ ان کا کہنا تھا، ’’میں اس بات پر حیران ہوں کہ لوگ کس طرح ردعمل دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جن لوگوں نے فلم دیکھی ہے، وہ بھی سمجھتے ہیں کہ سنی دیول نے پاکستانی شخص کا کردار ادا کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ بات ان کے ذہن میں بالکل نہیں بیٹھ رہی۔‘‘ شبانہ اعظمی نے مزید کہا کہ پاکستانی اداکارہ بشریٰ احمد نے بھی فلم کی زبان پر اعتراض کیا تھا۔ ان کے مطابق بشریٰ احمد نے کہا کہ فلم میں ولن کے لیے استعمال کیا گیا پنجابی لہجہ درست نہیں ہے۔ شبانہ نے کہا، ’’اگر دونوں مذاہب کے لوگ فلم کو پسند نہیں کر رہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ کوئی ایسی چیز ہے جو خالص اور خوبصورت ہے۔‘‘ موجودہ ماحول کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اداکارہ نے کہا، ’’مسئلہ یہ ہے کہ آپ اس ماحول میں ہندوستان اور پاکستان کے موضوع کو چھو نہیں سکتے، جو بہت مایوس کن ہے۔ یہ ایسی فلم ہے جو کسی بھی طرح سیاسی طور پر غلط نہیں ہے۔ آپ اس میں کوئی خامی نہیں نکال سکتے۔ سنی نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ یہ بات انتہائی حیران کن اور متضاد ہے کہ جب میں لوگوں سے ملتی ہوں تو وہ فلم کی اتنی تعریف کیوں کرتے ہیں؟‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK