Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی بی سی نے۲؍ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہ بنایا

Updated: April 16, 2026, 2:09 PM IST | London

بی بی سی نے اعلان کیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ۲؍ہزار ملازمتیں ختم کرے گا، جس کا مقصد مہنگائی، لائسنس فیس کے دباؤ اور غیر مستحکم عالمی معیشت کے باعث دو سالوں میں ۵۰۰؍ ملین پاؤنڈ کی بچت کرنا ہے۔ یہ بڑی سطح پر چھٹنی، جو ایک دہائی سے زائد عرصے میں سب سے بڑی ہیں۔

Bbc Office.Photo:INN
بی بی سی کا دفتر۔ تصویر:آئی این این

بی بی سی نے اعلان کیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ۲؍ہزار ملازمتیں ختم کرے گا، جس کا مقصد مہنگائی، لائسنس فیس کے دباؤ اور غیر مستحکم عالمی معیشت کے باعث دو سالوں میں ۵۰۰؍ ملین پاؤنڈ کی بچت کرنا ہے۔ یہ بڑی سطح پر چھٹنی، جو ایک دہائی سے زائد عرصے میں سب سے بڑی ہیں، اس وقت سامنے آئی ہیں جب نشریاتی ادارہ مالی مشکلات اور بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے کا سامنا کر رہا ہے۔
بی بی سی نے کہاکہ وہ اپنے سالانہ بجٹ کا۱۰؍ فیصد، یعنی ۵۰۰؍ ملین پاؤنڈ (۶۷۷؍ ملین ڈالر)، اگلے دو سالوں میں بچانے کے لیے ۲؍ہزار تک ملازمتیں ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ڈیویز نے کہا کہ یہ کمی مہنگائی، لائسنس فیس اور تجارتی آمدنی پر دباؤ، اور غیر یقینی عالمی معیشت کی وجہ سے کی جا رہی ہے۔
بی بی سی نے اس سال کے آغاز میں کہا تھا کہ اسے ’’نمایاں مالی دباؤ‘‘ کا سامنا ہے اور وہ ۲۰۲۹ء تک اپنے بجٹ کا تقریباً دسواں حصہ کم کرنا چاہتا ہے۔ زیادہ تر تخفیف اگلے مالی سال میں کی جائیں گی جو یکم اپریل ۲۰۲۷ء سے شروع ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:کس معاملے میں ہمیش ریشمیا نے عامر خان کو پیچھے چھوڑ دیا


یہ عہدہ ٹم ڈیوی اور نیوز کی سربراہ ڈیبوراہ ٹرنِس کے مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوا، جنہوں نے ۶؍ جنوری۲۰۲۱ء کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تقریر پر بنائی گئی ایک دستاویزی فلم میں گمراہ کن ترمیم کے معاملے پر استعفیٰ دیا تھا، جس کے بعد ان کے حامیوں نے امریکی  کیپٹل  پر دھاوا بول دیا تھا۔ٹرمپ نے بی بی سی کے خلاف ہتکِ عزت کا ۱۰؍ارب ڈالر کا مقدمہ دائر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ کا چین پر ایران کو اسلحہ دینے کا الزام، چین کی تردید


بی بی سی ایک مقبول لیکن اکثر تنقید کا نشانہ بننے والا ثقافتی ادارہ ہے، جس کی فنڈنگ سالانہ لائسنس فیس سے ہوتی ہے، جو حال ہی میں بڑھ کر۱۸۰؍ پاؤنڈ (۲۴۴؍ ڈالرس) ہو گئی ہے اور برطانیہ کے تمام ان گھروں سے وصول کی جاتی ہے جو براہِ راست ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK