Inquilab Logo Happiest Places to Work

`ہم اب فرسٹ کلاس ٹیم نہیں رہے: جرمن کوچ ناگلزمین کا اعتراف

Updated: June 30, 2026, 7:05 PM IST | New York

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں پیراگوئے کے ہاتھوں عبرت ناک شکست اور ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد، جرمنی کے ہیڈ کوچ جولین ناگلزمین نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ جرمن ٹیم اب فٹ بال کی عالمی اشرافیہ کا حصہ نہیں رہی۔

German Players.Photo:X
جرمنی کے کھلاڑی۔ تصویر:ایکس

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں پیراگوئے کے ہاتھوں عبرت ناک شکست اور ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد، جرمنی کے ہیڈ کوچ جولین ناگلزمین نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ جرمن ٹیم اب فٹ بال کی عالمی اشرافیہ کا حصہ نہیں رہی۔

یہ بھی پڑھئے:وہ مہاجر بیٹے جنہوں نے کنیڈا کو پہلی بار ورلڈ کپ کے آخری ۱۶؍ مرحلے تک پہنچایا


چار مرتبہ کی عالمی چیمپئن جرمنی کو بوسٹن میں کھیلے جانے والے راؤنڈ آف ۳۲؍ کے ایک سنسنی خیز میچ میں پیراگوئے نے پنالٹی شوٹ آؤٹ پر ۳۔۴؍گول  سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔ مقررہ وقت تک دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ ۱۔۱؍گول  سے برابر رہا تھا۔ جرمنی کی فٹ بال تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب وہ ورلڈ کپ کے کسی پنالٹی شوٹ آؤٹ میں ہاری ہے۔
یہ جرمنی کی مسلسل تیسری بڑی ناکامی ہے؛ اس سے قبل ٹیم ۲۰۱۸ء اور ۲۰۲۲ءکے ورلڈ کپ میں گروپ اسٹیج سے ہی باہر ہو گئی تھی اور اب پہلے ہی ناک آؤٹ مرحلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ۳۸؍ سالہ کوچ جولین ناگلزمین نے کہا’’پیراگوئے کے خلاف میچ ہار کر ورلڈ کپ سے باہر ہونا انتہائی تلخ اور تکلیف دہ ہے۔ یہ مسلسل تیسری بار ہوا ہے، اس لیے ہمیں ماننا ہوگا کہ ہم اب فرسٹ کلاس ٹیموں میں شامل نہیں ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:نمرت کور اہلووالیا نے اپنے یادگار لمحے کو یاد کیا


مستقبل کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا’’میں صرف اس وجہ سے استعفیٰ نہیں دوں گا کہ ہم ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ انڈسٹری کیسے کام کرتی ہے اور بہت سے لوگ اب مجھے عہدہ سے ہٹانا چاہتے ہیں، لیکن اگر جرمن فٹ بال اسوسی ایشن  چاہے گی تو میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہوں گا۔جرمنی کے سابق مڈفیلڈر تھامس ہٹزلبرگر نے ٹیم کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جرمن فٹ بال نے اپنی وہ پہچان گنوا دی ہے جس کی وجہ سے دنیا ان سے ڈرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ’’طویل عرصے سے ہم صرف پاسنگ، اسٹائل اور ٹیکٹکس پر توجہ دے رہے ہیں، لیکن ہم نے وہ جارحانہ مزاج گنوا دیا ہے جو ہماری طاقت تھا۔ اب دوسری ٹیمیں ہماری عزت تو کرتی ہیں، لیکن ہم سے ڈرتی نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK