Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میں واپس آؤں گا‘‘ کی کامیابی پر مہیش بھٹ کا امتیازعلی کو جذباتی پیغام

Updated: June 30, 2026, 7:08 PM IST | Mumbai

ہدایت کار امتیاز علی کی فلم ’’میں واپس آؤں گا‘‘ ریلیز کے تین ہفتے بعد بھی باکس آفس پر شاندار کارکردگی دکھا رہی ہے۔ فلم کی کامیابی پر معروف فلم ساز مہیش بھٹ نے امتیاز علی کے نام ایک جذباتی خط لکھتے ہوئے کہا کہ یہ فلم موجودہ دور کے شور شرابے کے درمیان انسانی جذبات کی گہرائی کو سامنے لاتی ہے اور اسے ضرور منایا جانا چاہیے۔

Mahesh Bhatt. Photo: INN
مہیش بھٹ۔ تصویر: آئی این این

ہدایت کار امتیاز علی کی فلم ’’میں واپس آؤں گا‘‘ ریلیز کے تین ہفتے بعد بھی سنیما گھروں میں شائقین کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے اور باکس آفس پر نمایاں کامیابی حاصل کر رہی ہے۔ ۱۲؍ جون کو ریلیز ہونے والی اس فلم کو اپنی منفرد کہانی، امتیاز علی کی ہدایت کاری اور دلجیت دوسانجھ، ویدانگ رائنا، شروری اور نصیر الدین شاہ کی اداکاری کے لیے ناقدین اور ناظرین دونوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے۔ فلم کی مسلسل کامیابی کے بعد بالی ووڈ کی متعدد شخصیات نے امتیاز علی اور ان کی ٹیم کو مبارک باد دی ہے، جبکہ اب معروف فلم ساز مہیش بھٹ بھی اس فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے امتیاز علی کے نام ایک جذباتی خط لکھتے ہوئے فلم کو ایسی تخلیق قرار دیا جو محض تفریح نہیں بلکہ انسانی جذبات کی گہرائیوں کو چھوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بیلا حدید نے لائم بیماری سے متعلق جذباتی پوسٹ پر مداحوں سے معذرت کی

ورائٹی انڈیا کے ذریعے شیئر کیے گئے اپنے خط میں مہیش بھٹ نے لکھا کہ ’’کچھ فلمیں ڈھول اور باجوں کے ساتھ آتی ہیں اور خود کو فاتح قرار دیتی ہیں، لیکن کچھ فلمیں خاموشی سے دلوں میں جگہ بناتی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں سنیما تیزی، شور، بڑے تماشے اور فوری تفریح کی دوڑ میں شامل ہو چکا ہے، جہاں بازار صرف اعداد و شمار کو اہمیت دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں کوئی فلم اگر انسانی روح کی خاموش آوازوں کو سننے کی کوشش کرے تو یہ خود ایک طرح کی بغاوت بن جاتی ہے۔ مہیش بھٹ نے مزید لکھا کہ ’’میں واپس آؤں گا‘‘ میں سب سے زیادہ متاثر کرنے والی چیز صرف اس کی کہانی نہیں بلکہ وہ اندرونی پیاس اور جذبات ہیں جو پوری فلم میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے امتیاز علی کی ۲۰۱۴ء کی فلم ’’ہائی وے‘‘ کا بھی ذکر کیا، جس میں ان کی بیٹی عالیہ بھٹ نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ بھٹ کے مطابق، اس فلم میں امتیاز علی نے ان خاموش دردوں کو محسوس کیا تھا جنہیں معاشرہ اکثر نظر انداز کر دیتا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ہائی وے‘‘ نے شاید باکس آفس پر روایتی بلاک بسٹر جیسی کامیابی حاصل نہ کی ہو، لیکن اس نے ہماری زندگیوں کے تاریک گوشوں کو کم تنہا بنا دیا تھا۔ یہی حساسیت اور یہی تخلیقی جبلت ’میں واپس آؤں گا‘ میں بھی پوری شدت سے موجود ہے۔‘‘ مہیش بھٹ نے یہ بھی کہا کہ فلم کی ابتدائی ریلیز کے وقت کئی لوگوں نے اسے جلدی مسترد کر دیا تھا، لیکن ایسے کام اکثر وقت کے ساتھ اپنی اصل قدر ثابت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فلمسازوں نے ’’مرزاپور‘‘ کرنے سے روکا تھا: علی فضل کا انکشاف

انہوں نے لکھا کہ ’’باکس آفس اپنی زبان میں فیصلے کرتا ہے اور اس کی بنیاد اعداد و شمار ہوتے ہیں، لیکن ناظرین کی اپنی ایک پراسرار ذہانت ہوتی ہے۔ بعض اوقات وہ ماہرین سے پہلے سچائی کو پہچان لیتے ہیں۔ اس فلم کے لیے ملنے والا ردعمل ثابت کرتا ہے کہ شور شرابے سے بھرے اس دور میں بھی ایسی کہانیوں کی بھوک باقی ہے جو انسان کے اندرونی احساسات سے مکالمہ کرتی ہیں۔‘‘ اپنے خط کے اختتام پر مہیش بھٹ نے زور دیا کہ ایسی فلموں کو صرف تجارتی کامیابی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے فکری اور جذباتی اثرات کے باعث بھی منایا جانا چاہیے، کیونکہ یہی تخلیقات سنیما کو محض تفریح سے آگے لے جاتی ہیں۔ مہیش بھٹ ہندوستانی سنیما کے معروف ہدایت کار، پروڈیوسر اور اسکرین رائٹر ہیں، جنہوں نے ارتھ، سارنش، نام، عاشقی، سڑک اور متعدد یادگار فلموں کے ذریعے فلمی صنعت میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK