Updated: June 04, 2026, 5:01 PM IST
| Mumbai
شارک ٹینک انڈیا کے جج اور Shaadi.com کے بانی انوپم متل نے ہندوستانی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ برطانوی دور کے ’’اگلے مہینے تنخواہ‘‘ نظام کو ختم کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملازمین کو مہینے میں دو مرتبہ تنخواہ ملنی چاہیے تاکہ انہیں قرض، ای ایم آئی اور کرائے کی ادائیگی سے متعلق مالی دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ متل کے مطابق بہتر کیش فلو نہ صرف ملازمین بلکہ کمپنیوں اور معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
انوپم متل۔ تصویر: آئی این این
شارک ٹینک انڈیا کے معروف جج، سرمایہ کار اور شادی ڈاٹ کام کے بانی انوپم متل نے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے موجودہ نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی کمپنیوں کو روایتی ماہانہ ادائیگی کے طریقے سے آگے بڑھنا چاہیے اور ملازمین کو مہینے میں دو بار تنخواہ دینی چاہیے۔ لنکڈ اِن پر ایک تفصیلی پوسٹ میں انوپم متل نے سوال اٹھایا کہ ملازمین کو تنخواہ آخر کب ملنی چاہیے۔ انہوں نے لکھا کہ بیشتر کمپنیاں خود کو ’’ملازم دوست‘‘ قرار دیتی ہیں اور اضافی چھٹیوں، مفت کھانے اور ریموٹ ورک جیسی سہولیات فراہم کرتی ہیں، لیکن سب سے اہم سہولت یعنی بروقت تنخواہ کی ادائیگی کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: رنویـر سنگھ تنازع پر کنگنا نے کہا: جب حیثیت بڑھتی ہے تو دشمن بھی بڑھتے ہیں
متل نے نشاندہی کی کہ ہندوستان میں اکثر ادارے گزشتہ مہینے کے کام کی تنخواہ اگلے مہینے کی پہلی یا ساتویں تاریخ کے آس پاس ادا کرتے ہیں۔ بعض اوقات ہفتہ وار تعطیلات یا بینک ہالیڈیز کی وجہ سے یہ ادائیگیاں مزید تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی نے چند سال قبل اس روایت کو تبدیل کرتے ہوئے تنخواہیں موجودہ مہینے کے اختتام پر ادا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ کوئی خصوصی مراعاتی اقدام نہیں بلکہ محض ’’عام فہم‘‘ کا تقاضا تھا۔
انوپم متل کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے کی تاخیر کچھ لوگوں کے لیے محض اکاؤنٹنگ کا مسئلہ ہو سکتی ہے، لیکن بہت سے ملازمین کے لیے اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ ان کے مطابق تنخواہ میں تاخیر ای ایم آئی کی قسطیں رکنے، کرایہ کے تنازعات، مالی دباؤ اور غیر ضروری پریشانیوں کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ہندوستان کی اکثریت سے پوچھیں تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ کیش فلو ہی وقار ہے۔‘‘ اپنی تجویز کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے متل نے کہا کہ کمپنیاں اگر ہر ماہ کی ۱۵؍ اور ۳۰؍ تاریخ کو دو مرتبہ تنخواہ ادا کریں تو اس سے ملازمین کے مالی دباؤ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رِچا اور میں اچھے کرداروں کے لیے جیتے ہیں، امیج سے زیادہ کہانی اہم ہے: علی فضل
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں پے رول کو مہینے میں دو مرتبہ پروسیس کرنا کوئی پیچیدہ یا ناممکن کام نہیں رہا۔ اگرچہ اس سے پے رول ٹیموں کا کام کچھ بڑھ سکتا ہے، لیکن مجموعی فوائد کہیں زیادہ ہوں گے۔ متل کے مطابق بہتر کیش فلو کا مطلب کم ذہنی دباؤ، قرض کے جال سے بچاؤ، زیادہ خریداری کی صلاحیت اور معیشت میں رقم کی تیز گردش ہے۔ ان کے خیال میں اس سے ملازمین، کمپنیاں اور ملکی معیشت تینوں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر سوال اٹھایا کہ کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ برطانوی دور کے اگلے مہینے تنخواہ دینے والے نظام کو ختم کر دیا جائے۔
واضح رہے کہ انوپم متل ۲۰۲۱ء میں شروع ہونے والے مقبول کاروباری ریئلٹی شو ’’شارک ٹینک انڈیا‘‘ کے آغاز سے ہی بطور شارک شامل ہیں۔ شو کے پہلے چار سیزن میں وہ ۱۰۳؍ سے زائد اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کے وعدے کر چکے ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً ۳ء۳۷؍ کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔