Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج کی فلموں سے خود کو ہم آہنگ نہیں کر سکتی: ہیما مالنی کی فلموں سے دوری کی وجہ

Updated: July 12, 2026, 10:25 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور سیاست داں ہیما مالنی نے طویل عرصے بعد فلموں سے دور رہنے کی وجہ پر کھل کر بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور کی فلم سازی ان کے کام کرنے کے انداز سے مختلف ہو چکی ہے، اسی لیے وہ نئی فلمیں سائن نہیں کر رہیں۔ انہوں نے ماضی کو ہندی سنیما کا ’’سنہرا دور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس زمانے میں خواتین پر مبنی مضبوط کردار، خوبصورت کہانیاں اور یادگار موسیقی فلموں کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ ہیما مالنی نے کہا کہ وہ خود کو آج کی فلموں کے انداز کے مطابق ڈھالنا مشکل محسوس کرتی ہیں۔

Hema Malini. Photo: INN
ہیما مالینی۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ کی لیجنڈری اداکارہ اور رکنِ پارلیمنٹ ہیما مالنی نے موجودہ دور میں فلموں سے دور رہنے کی وجہ پہلی بار تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کی فلم سازی ان کے دور سے بالکل مختلف ہو چکی ہے، جس کے باعث وہ نئی فلموں میں کام کرنے میں خود کو زیادہ موزوں نہیں سمجھتیں۔ ۷۷؍ سالہ اداکارہ، جو آخری مرتبہ ۲۰۲۰ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’شملہ مرچی‘‘ میں نظر آئی تھیں، نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنے فلمی سفر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ انہیں ہندی سنیما کے سنہرے دور میں کام کرنے کا موقع ملا۔ ہیما مالنی نے کہا کہ ’’وہ بالکل مختلف زمانہ تھا۔ میں سمجھتی ہوں کہ وہ ہندی فلم انڈسٹری کا سنہرا دور تھا، اور میں خود کو خوش قسمت تصور کرتی ہوں کہ اس شاندار سفر کا حصہ بنی۔ اس دور میں بے شمار خوبصورت فلمیں بنیں، خاص طور پر خواتین پر مبنی فلمیں، جن میں مجھے ‘سیتا اور گیتا’ جیسے مضبوط کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اداکار راجپال یادو کو چیک باؤنس کیس میں تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی

انہوں نے اپنی پہلی فلم ’’سپنوں کا سوداگر‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فلمی سفر کا آغاز بھی ایک یادگار تجربہ تھا، جبکہ اس کے بعد تقریباً ۲۰۰؍ فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ ان کے مطابق اس دور میں فلموں کی کہانی، موسیقی اور کرداروں پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ اداکارہ نے مزید کہا کہ ’’ان دنوں تقریباً ہر فلم میں پانچ یا چھ گانے ہوتے تھے اور پروڈیوسرز کے لیے ایک سپر ہٹ گانا فلم کی کامیابی کا اہم حصہ سمجھا جاتا تھا۔ موسیقی فلموں کی روح ہوا کرتی تھی۔‘‘ہیما مالنی نے موجودہ دور کی فلم سازی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج فلم بنانے کا انداز مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ بہت سے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں اب فلموں میں کیوں نظر نہیں آتی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج جس طرح کی فلمیں بن رہی ہیں، ان کے مطابق خود کو ڈھالنا میرے لیے بہت مشکل ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: شاہ رخ خان نے دہلی میں اپنی پہلی رہائش گاہ کی مکمل ملکیت ۳۷؍ کروڑ میں خرید لی

ہیما مالنی نے ۱۹۶۸ء میں راج کپور کے مدمقابل فلم ’’سپنو کا سوداگر‘‘ سے بالی ووڈ میں قدم رکھا تھا۔ اس کے بعد اگلی چھ دہائیوں میں وہ ہندوستانی سنیما کی کامیاب ترین اداکاراؤں میں شمار ہونے لگیں۔ انہوں نے ’’سیتا اور گیتا‘‘، ’’شعلے‘‘، ’’ڈریم گرل‘‘، ’’ستے پہ ستہ‘‘، ’’دی برننگ ٹرین‘‘، ’’کرانتی‘‘، ’’ترشول‘‘ اور ’’باغبان‘‘ جیسی سپر ہٹ فلموں میں اپنی یادگار اداکاری سے لاکھوں مداحوں کے دل جیتے۔ ان کرداروں نے نہ صرف انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا بلکہ انہیں ہندی سنیما کی تاریخ کی کامیاب ترین اداکاراؤں میں بھی شامل کر دیا۔
اداکاری کے ساتھ ساتھ ہیما مالنی ایک ممتاز بھرت ناٹیم رقاصہ بھی ہیں۔ وہ آج بھی اپنی عمر کے ۷۷؍ ویں برس میں مختلف ثقافتی پروگراموں اور اسٹیج شوز میں باقاعدگی سے کلاسیکی رقص پیش کرتی ہیں اور ہندوستانی ثقافت کے فروغ کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگرچہ ہیما مالنی نے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ دور کی فلموں میں خود کو فِٹ نہیں سمجھتیں، تاہم ان کے مداح اب بھی امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں اگر کسی مضبوط اور منفرد کردار کی پیشکش ہوئی تو وہ ایک بار پھر بڑے پردے پر اپنی موجودگی کا احساس دلائیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK