• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کارٹونسٹ ستیش آچاریہ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہندوستان میں بلاک

Updated: September 29, 2026, 1:04 PM IST | New Delhi

۲۸؍ ستمبر سے اکاؤنٹ تک ہندوستان میں رسائی محدود، انسٹاگرام نے قانونی تقاضوں کا حوالہ دیا؛ آچاریہ کے بعض پرانے کارٹون بھی پابندی کی زد میں۔

Cartoonist Satish Acharya. Picture: INN
کارٹونسٹ ستیش آچاریہ۔ تصویر: آئی این این

 معروف سیاسی کارٹونسٹ ستیش آچاریہ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ۲۸؍ ستمبر سے ہندوستان میں محدود کردیا گیا ہے۔ انسٹاگرام پر اکاؤنٹ کھولنے کی کوشش کرنے پر پیغام ظاہر ہورہا ہے کہ ہندوستانی قوانین کے تحت قانونی تقاضوں کی تعمیل میں اکاؤنٹ تک رسائی عارضی طور پر محدود کی گئی ہے۔ تاہم پلیٹ فارم کے نوٹس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پورے اکاؤنٹ کو محدود کرنے کی مخصوص وجہ کیا ہے یا کون سا مواد اس کارروائی کا سبب بنا۔

آچاریہ نے ۲۸؍ ستمبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کارروائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ۲۰۲۳ء میں شائع کیے گئے ان کے بعض کارٹون بھی اب محدود کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا، ’’ڈر کے آگے جیت نہیں ہے، صاحب!‘‘ اور بتایا کہ برسوں پہلے شائع کیے گئے کارٹون بھی اب پابندی کی زد میں آرہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمیشن کیخلاف ناندیڑ، امراوتی اور ناگپور سمیت دیگر شہروں میں احتجاج

انسٹاگرام کی جانب سے محدود کیے گئے مواد میں ایک ایسا کارٹون بھی شامل ہے جو جنوبی ہندوستانی نیوز پلیٹ فارم ساؤتھ فرسٹ کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ کارٹون حال ہی میں الیکشن کمیشن سے متعلق انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتا ہے۔ ساؤتھ فرسٹ کے اپنے انسٹاگرام صفحے پر بھی یہ کارٹون ہندوستان میں دستیاب نہیں ہے اور پلیٹ فارم کا کہنا ہے کہ اس نے قانونی درخواست کی تعمیل کرتے ہوئے مواد تک رسائی محدود کی ہے۔

انسٹاگرام کے نوٹس میں ایک مقام پر کہا گیا ہے کہ مواد تک رسائی ’’ہندوستانی حکومت یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے موصول ہونے والے نوٹس‘‘ کی بنیاد پر محدود کی گئی ہے اور اس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ ۲۰۰۰ کی دفعہ ۷۹(۳)(بی) کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تاہم دستیاب معلومات میں ایسا کوئی مخصوص سرکاری حکم عام نہیں کیا گیا جس سے یہ واضح ہو کہ پورے آچاریہ اکاؤنٹ کو محدود کرنے کی قانونی بنیاد کیا ہے۔

یہ کارروائی آچاریہ کے کام کے خلاف حالیہ پابندیوں کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ء میں ایکس نے بھی ان کے ۲, کارٹون ہندوستان میں محدود کیے تھے۔ اس وقت پلیٹ فارم کی جانب سے آچاریہ کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ اسے ہندوستان کی وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے پابندی کا حکم موصول ہوا ہے اور اس کارروائی کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ ۶۹؍اے کا حوالہ دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:۹۲؍ گواہوں کے منحرف ہوجانے پر سپریم کورٹ فکر مند

مارچ کی کارروائی میں شامل ایک کارٹون مغربی ایشیا میں ہونے والی پیش رفت اور ہندوستان کی سفارتی پالیسی پر تنقید سے متعلق تھا۔ آچاریہ نے اس وقت کہا تھا کہ گزشتہ کئی برس کے سوشل میڈیا تجربے میں انہوں نے دیکھا ہے کہ حکومت یا حکمراں جماعت کے خلاف بنائے گئے بعض کارٹونوں کی رسائی محدود کردی جاتی ہے۔

حالیہ کارروائی ایسے وقت ہوئی ہے جب ہندوستان میں سوشل میڈیا مواد کو قانونی درخواستوں کے ذریعے محدود کیے جانے کے معاملات پر بحث جاری ہے۔ انڈین ایکسپریس کی حاصل کردہ سرکاری معلومات کے مطابق مارچ سے جولائی ۲۰۲۶ء کے درمیان انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب کو تقریباً ۹۵ء۱ لاکھ مواد محدود کرنے کے احکامات بھیجے گئے، یعنی اوسطاً تقریباً ہر ۶۸؍سیکنڈ میں ایک حکم۔

ڈیجیٹل حقوق کے اداروں نے حالیہ مہینوں میں اس طریقۂ کار کی شفافیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ سافٹ ویئر فریڈم لا سینٹر نے ۲۴؍ ستمبر کو میٹا کو خط لکھ کر اپنے انسٹاگرام مواد کی خودکار پابندی پر وضاحت طلب کی تھی۔ ادارے کے مطابق اس کے ایک مضمون اور اس سے متعلق ایک اسٹوری کو انسٹاگرام نے ہندوستان میں ’’قانونی تقاضوں کے تحت نافذ خودکار نظام‘‘ کے ذریعے محدود کیا تھا۔ بعد میں پابندی ختم ہونے کا نوٹس موصول ہوا، لیکن کچھ مواد مکمل طور پر بحال نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھئے:امریکی حکومت کی ویب سائٹس تک ایجنٹس کی رسائی کے بعد اے آئی ماڈلز کی ٹریننگ روک دی گئی

انٹرنیٹ سے متعلق قانونی ماہرین کے مطابق دفعہ ۶۹؍ اے کے تحت مواد محدود کرنے کے لیے خودمختاری، سالمیت، دفاع، ریاستی سلامتی، غیر ملکی تعلقات یا امنِ عامہ جیسے مخصوص قانونی اسباب موجود ہیں۔ تاہم اس قانون کے تحت جاری کیے جانے والے احکامات عموماً عوامی سطح پر مکمل تفصیل کے ساتھ دستیاب نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے صارفین کے لیے یہ معلوم کرنا مشکل ہوسکتا ہے کہ کسی مخصوص مواد کے خلاف کارروائی کی بنیاد کیا تھی۔

ستیش آچاریہ کے معاملے میں فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ ۲۸؍ ستمبر کی کارروائی کسی ایک مخصوص کارٹون کے خلاف حکم کا نتیجہ ہے یا پورے اکاؤنٹ کو محدود کرنے کے لیے الگ کارروائی کی گئی ہے۔ انسٹاگرام کی جانب سے جاری پیغام قانونی تقاضوں کا حوالہ دیتا ہے، لیکن مخصوص حکم، متعلقہ سرکاری ادارے اور اکاؤنٹ کے خلاف کارروائی کی تفصیلی وجہ عوامی طور پر سامنے نہیں آئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK