۱۸؍ لاکھ روپے کے قرض میں ڈوبا چھوٹا سا کھانے کا مرکز بند ہونے کے قریب تھا؛ جوڑے کے آرڈر اور انوشکا کے ذکر کے بعد فروخت میں ۲۰۰؍ گنا اضافہ ہوا۔
EPAPER
Updated: September 26, 2026, 5:03 PM IST | Mumbai
۱۸؍ لاکھ روپے کے قرض میں ڈوبا چھوٹا سا کھانے کا مرکز بند ہونے کے قریب تھا؛ جوڑے کے آرڈر اور انوشکا کے ذکر کے بعد فروخت میں ۲۰۰؍ گنا اضافہ ہوا۔
ممبئی کے چمبور میں چھولے بھٹورے فروخت کرنے والے ایک چھوٹے سے کھانے کے مرکز کی قسمت اس وقت بدل گئی جب اداکارہ انوشکا شرما اور کرکٹر وراٹ کوہلی نے وہاں سے کھانا منگوایا۔ اس وقت کاروبار تقریباً ۱۸؍ لاکھ روپے کے قرض میں ڈوبا ہوا تھا اور بند ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا، لیکن انوشکا کی جانب سے اس کھانے کی تعریف اور سوشل میڈیا پر اس کا ذکر سامنے آنے کے بعد گاہکوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق کاروبار کی فروخت میں تقریباً ۲۰۰؍ گنا اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: لوئی تھیرو کی اسرائیلی بستیوں پر دستاویزی فلم انٹرنیشنل ایمی ایوارڈ کیلئے نامزد
یہ واقعہ دراصل ۲۰۲۲ء کا ہے جب انوشکا شرما ممبئی میں وراٹ کوہلی کے پسندیدہ دہلی طرز کے چھولے بھٹورے کی تلاش کر رہی تھیں۔ وراٹ دہلی کے کھانوں، خاص طور پر چھولے بھٹورے کے شوقین ہیں۔ انوشکا نے اس وقت سوشل میڈیا پر بتایا تھا کہ طویل تلاش کے بعد انہیں ممبئی میں ایسی جگہ مل گئی ہے جہاں کا ذائقہ انہیں دہلی کے چھولے بھٹورے جیسا لگا۔ انوشکا نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ یہ وراٹ کا پسندیدہ ’’چیٹ میل‘‘ ہے اور وہ فارغ وقت میں دہلی کے چھولے بھٹورے کی ویڈیوز بھی دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کھانے کے مرکز کی تصویر بھی شیئر کی اور وہاں کے کھانے کی تعریف کی۔ اس پوسٹ کے بعد اس چھوٹے سے مرکز کا نام تیزی سے لوگوں تک پہنچا اور گاہکوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ہونے لگا۔ اس وقت یہ کاروبار انتہائی محدود پیمانے پر چل رہا تھا۔ انڈین ایکسپریس کی تازہ رپورٹ کے مطابق جگہ چھوٹی تھی اور کاروبار مالی دباؤ کا شکار تھا۔ انوشکا کی پوسٹ کے بعد صورت حال اتنی تیزی سے بدلی کہ کھانے کے مرکز پر گاہکوں کی قطاریں لگنے لگیں اور اسے اپنی جگہ اور کاروباری حجم بڑھانے کی ضرورت پیش آئی۔
سوشل میڈیا پر انوشکا کی پوسٹ کے پھیلنے کے بعد کھانے کے شوقین افراد اور مختلف فوڈ بلاگرز بھی وہاں پہنچنے لگے۔ گاہکوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اس چھوٹے سے کاروبار کو محض مقامی کھانے کی دکان سے ایک معروف نام میں تبدیل کردیا۔ رپورٹ کے مطابق بعد میں یہ کاروبار بڑھ کر ۴؍ مراکز تک پہنچ گیا۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا جب انوشکا نے ممبئی میں وراٹ کے پسندیدہ دہلی کے کھانے کی تلاش کا ذکر کیا ہو۔ ۲۰۲۲ء میں اپنی پوسٹ میں انہوں نے بتایا تھا کہ انہیں ممبئی میں دہلی جیسے چھولے بھٹورے تلاش کرنے میں کافی وقت لگا اور کئی مقامات آزمانے کے بعد بالآخر انہیں مطلوبہ ذائقہ مل گیا۔ انہوں نے وراٹ کے ’’ناخوش‘‘ ردعمل کا بھی مزاحیہ انداز میں ذکر کیا تھا جب انہیں ممبئی کے مختلف چھولے بھٹورے پسند نہیں آئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: انڈیا ز گوٹ لیٹنٹ: اعجاز خان نے سمے رینا پر سنگین الزامات لگائے
وراٹ کوہلی کا چھولے بھٹورے سے تعلق بھی نیا نہیں ہے۔ ۲۰۱۷ء میں ایک گفتگو کے دوران انہوں نے چھولے بھٹورے کو اپنے پسندیدہ ’’چیٹ میل‘‘ کے طور پر بیان کیا تھا۔ اس واقعے میں خاص بات یہ بھی ہے کہ مشہور شخصیات کی جانب سے کسی چھوٹے کاروبار کا ذکر سوشل میڈیا پر صرف تشہیر تک محدود نہیں رہتا۔ یہاں ایک ایسے کھانے کے مرکز کو، جو مالی مشکلات سے گزر رہا تھا، اچانک ہزاروں ممکنہ گاہکوں تک رسائی مل گئی۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق اسی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے کاروبار کو مزید مراکز قائم کرنے کے قابل بنایا۔ اب یہ کاروبار اپنے ابتدائی چھوٹے مرکز سے آگے بڑھ کر ۴؍ مراکز تک پہنچ چکا ہے، جبکہ اس کی شناخت وراٹ کوہلی کے پسندیدہ دہلی طرز کے چھولے بھٹورے کے حوالے سے بھی کی جاتی ہے۔