پریاگ راج کے فنکار راجیش مشرا کا دعویٰ، تقریباً ۴۰؍ منٹ پرفارم کرنے کے باوجود ایک بھی ایپی سوڈ میں جگہ نہیں ملی؛ ایک لاکھ کے بجائے ۳۵؍ ہزار روپے ملنے کا الزام۔
EPAPER
Updated: September 25, 2026, 5:05 PM IST | Mumbai
پریاگ راج کے فنکار راجیش مشرا کا دعویٰ، تقریباً ۴۰؍ منٹ پرفارم کرنے کے باوجود ایک بھی ایپی سوڈ میں جگہ نہیں ملی؛ ایک لاکھ کے بجائے ۳۵؍ ہزار روپے ملنے کا الزام۔
کامیڈین سمے رینا کے شو ’انڈیا ز گوٹ لیٹنٹ‘ کے دوسرے سیزن سے متعلق انعامی رقم اور امیدواروں کے ساتھ مبینہ سلوک کا تنازع سامنے آیا ہے۔ سابق ’بگ باس‘ امیدوار اعجاز خان نے پریاگ راج کے فنکار راجیش کمار مشرا کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے سمے رینا اور شو کی ٹیم پر کئی سوال اٹھائے ہیں۔ راجیش کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے شو میں تقریباً ۴۰؍ منٹ پرفارم کیا، لیکن ان کی پرفارمنس کسی بھی جاری شدہ ایپی سوڈ میں شامل نہیں کی گئی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ انہیں انعامی رقم تو ملی، مگر انہیں باضابطہ طور پر فاتح قرار نہیں دیا گیا۔ راجیش کے مطابق انہوں نے پروگرام میں ریپ پرفارمنس پیش کی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تقریباً ۴۰؍ منٹ کی پرفارمنس کے باوجود اسے کسی ایپی سوڈ میں نشر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اگرچہ انہیں کچھ رقم دی گئی، لیکن شو میں ان کا نام بطور فاتح سامنے نہیں آیا۔ دستیاب رپورٹوں میں یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی پرفارمنس مکمل طور پر ریکارڈ ہوئی تھی، بعد میں ایڈیٹنگ کے دوران نکالی گئی یا کسی اور وجہ سے نشر نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: فلم ’’لو اینڈ وار‘‘ میں رنبیر کپور کا خون آلود فرسٹ لُک جاری، بھنسالی نے تجسس بڑھایا
انعامی رقم کے بارے میں راجیش اور اعجاز خان کا دعویٰ ہے کہ شو میں جیتنے والے امیدوار کے لیے ایک لاکھ روپے کی رقم مقرر ہے، لیکن راجیش کو تقریباً ۳۵؍ ہزار روپے ہی دیے گئے۔ ان کا مزید الزام ہے کہ اگر ایک سے زیادہ امیدوار فاتح ہوں تو ایک لاکھ روپے کی رقم ان کے درمیان تقسیم کردی جاتی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے اور دستیاب معلومات سے یہ بھی واضح نہیں کہ شو کے موجودہ سیزن میں انعامی رقم کے باضابطہ قواعد کیا ہیں۔ راجیش کی جانب سے مدد طلب کیے جانے کے بعد اعجاز خان نے سوشل میڈیا پر ان کا ویڈیو شیئر کیا اور شو کے طریقۂ کار پر سخت سوالات اٹھائے۔ اعجاز نے دعویٰ کیا کہ راجیش ان سے مدد کے لیے رابطے میں آئے تھے اور انہوں نے شو کی ٹیم سے پوچھا کہ اگر فنکار کو انعامی رقم دی گئی تھی تو اسے فاتح کیوں قرار نہیں دیا گیا اور اس کی پرفارمنس نشر کیوں نہیں کی گئی۔ اعجاز نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ سے بھی راجیش کے معاملے کو سننے کی اپیل کی۔
اعجاز خان نے شو کو ’’اسکرپٹڈ‘‘ اور ’’فکسڈ‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پروگرام میں اصل ٹیلنٹ کو مناسب موقع نہیں دیا جاتا۔ یہ اعجاز خان کا الزام ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ انہوں نے سمے رینا کے خلاف سخت زبان بھی استعمال کی اور ویڈیو کے اختتام پر کہا، ’’سمے رینا کا انکاؤنٹر کرو۔‘‘ یہ بیان اعجاز خان کی جانب سے دیا گیا ہے، اسے کسی سرکاری کارروائی یا کسی ادارے کی ہدایت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ راجیش نے ایک اور دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ نتائج کے اعلان سے پہلے ہی سمے رینا کو معلوم ہوتا ہے کہ امیدواروں نے ایک دوسرے کو کتنے نمبر دیے ہیں۔ یہ دعویٰ بھی فی الحال صرف راجیش کی جانب سے سامنے آیا ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ اسی طرح شو کے نتائج، اسکورنگ کے طریقۂ کار یا امیدواروں کو دی جانے والی انعامی رقم کے بارے میں کوئی ایسا آزاد دستاویزی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ان الزامات کی حتمی تصدیق ہوسکے۔
اعجاز خان نے اپنی پوسٹ میں راجیش کی حمایت کے لیے آر ایس ایس اور دیگر ہندو تنظیموں سے بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر راجیش کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو اسے انصاف ملنا چاہیے۔ ان کے اس بیان کا تعلق راجیش کے مبینہ مالی اور پیشہ ورانہ تنازع سے ہے، تاہم دستیاب رپورٹنگ میں کسی متعلقہ تنظیم کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ تنازع ’انڈیا ز گوٹ لیٹنٹ‘ کے دوسرے سیزن کے دوران سامنے آیا ہے۔ سمے رینا کا یہ شو اپنی منفرد کامیڈی اور غیر روایتی فارمیٹ کے باعث پہلے بھی وسیع توجہ حاصل کرچکا ہے۔ موجودہ معاملے میں تاہم اصل سوال راجیش کی پرفارمنس، ان کی مبینہ انعامی رقم اور فاتح قرار نہ دیے جانے سے متعلق ہے، جن پر ابھی شو کے میزبان یا انتظامیہ کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔
تازہ دستیاب اطلاعات کے مطابق سمے رینا اور ’انڈیا ز گوٹ لیٹنٹ‘ کی ٹیم نے راجیش مشرا اور اعجاز خان کے الزامات پر اب تک عوامی طور پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ چنانچہ فی الحال اس معاملے میں یقینی طور پر صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک سابق امیدوار نے مالی اور نشریاتی معاملات سے متعلق دعوے کیے ہیں، اعجاز خان نے ان کی حمایت کی ہے اور دوسری جانب سے جواب کا انتظار ہے۔