• Wed, 21 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سلمان خان کے پیچھے پڑی چینی کمپنی، دہلی ہائی کورٹ نے سپر اسٹار کے نام نوٹس جاری کیا

Updated: January 21, 2026, 9:06 PM IST | Mumbai

اے آئی ٹولز کی مدد سے اداکاروں کی آواز اور صورت کو دوبارہ تخلیق کرنا آسان ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پرسنالٹی رائٹس کے معاملے پر ہندوستانی ستارے عدالت کا رخ کر رہے ہیں۔ اب پرسنالٹی رائٹس کے ایک کیس میں سلمان خان اور ایک چینی کمپنی آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے سپر اسٹار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں۴؍ ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔

Salman Khan.Photo:INN
سلمان خان۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ ستاروں کے ’’پرسنالٹی رائٹس‘‘ اور اے آئی کمپنیوں کے درمیان قانونی تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔ سلمان خان کے علاوہ ابھیشیک بچن، ایشوریا رائے بچن، ناگارجن سمیت کئی دیگر مشہور شخصیات بھی اسی مسئلے پر عدالت سے رجوع کر چکی ہیں۔ سلمان خان نے اپنی شناخت (آواز، نام اور اسٹائل) کے تجارتی استعمال کو روکنے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا تھا، تاکہ کوئی بھی ان کی اجازت کے بغیر ان کے ’’برانڈ‘‘ سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ تاہم، ایک چینی کمپنی نے سلمان خان کے موقف پر اعتراض کرتے ہوئے عرضی دائر کی، جس کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے انہیں نوٹس جاری کیا ہے۔
سلمان خان اور اے آئی پر مبنی چینی پلیٹ فارم کے درمیان یہ تنازع اظہارِ رائے کی آزادی، تکنیکی جدت (اے آئی ) اور کسی فرد کے اپنے نام، آواز اور شناخت پر حق کے درمیان توازن قائم کرنے سے متعلق ہے۔ اے آئی پر مبنی کمپنیاں یہ دلیل دیتی ہیں کہ اے آئی وائس ماڈلز بنانا ایک تکنیکی ترقی ہے اور اس پر مکمل پابندی لگانے سے اختراع رک سکتی ہے، یا یہ کہ ان کے ماڈلز براہِ راست کسی اداکار کی شبیہ کا غلط استعمال نہیں کر رہے۔
۲۷؍  فروری کو اگلی سماعت
اب سلمان خان کو چار ہفتوں کے اندر اپنا موقف عدالت میں پیش کرنا ہوگا۔ ای ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ہائی کورٹ اس معاملے کی سماعت ۲۷؍ فروری کو کرے گی، جو کئی حوالوں سے اہم ہوگی۔ اس سماعت میں یہ طے کیا جائے گا کہ آیا اے آئی پلیٹ فارمز کو مشہور شخصیات کی آواز استعمال کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے یا پھر پبلسٹی رائٹس کو ترجیح دی جائے۔

یہ بھی پڑھئے:او رومیو ٹریلر جاری: محبت اور انتقام کا خونریز کھیل، شاہد کپور کا خطرناک روپ

ڈیپ فیک مواد کے خلاف عدالت کا حکم
جب سلمان خان نے اپنے پرسنالٹی رائٹس کے تحفظ کے لیے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، تب ۱۱؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو دہلی ہائی کورٹ نے ان کے حق میں ایک عبوری حکم جاری کیا تھا۔ اس حکم میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور دیگر ویب سائٹس کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ سلمان خان کی اجازت کے بغیر استعمال کیے گئے مواد کو ہٹائیں یا محدود کریں۔ یہ حکم ڈیپ فیک مواد، اے آئی سے تیار کردہ آوازوں، جعلی توثیقات (اینڈورسمنٹس) اور ان کے نام سے بغیر اجازت فروخت ہونے والی اشیاء پر روک لگانے کے لیے دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:انڈر۱۹؍ ورلڈ کپ: افغانستان کی تنزانیہ پر شاندار فتح، ۹؍ وکٹوں سے دھول چٹا دی

عبوری حکم کو منسوخ کرنے کا مطالبہ
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ چین کی ایک اے آئی وائس جنریشن کمپنی نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ اس عبوری حکم کو منسوخ کیا جائے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مصنوعی آوازیں تیار کرنا اس کی سروسیز کا اہم حصہ ہے اور موجودہ پابندیاں اس کے کاروبار کو متاثر کر رہی ہیں۔ کمپنی چاہتی ہے کہ دسمبر میں جاری کیا گیا حکم واپس لے لیا جائے تاکہ وہ بغیر کسی قانونی رکاوٹ کے اپنا کام جاری رکھ سکے۔ ہائی کورٹ نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے سلمان خان کو نوٹس جاری کیا ہے اور ان سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت ۲۷؍فروری کو ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK