Updated: July 23, 2026, 12:07 PM IST
| New Delhi
جنتر منتر میں جاری سی جے پی کی قیادت میں طلبہ کے احتجاج کو بالی ووڈ کی مزید معروف شخصیات کی حمایت حاصل ہونے لگی ہے۔ اداکارہ ہما قریشی اور ان کے بھائی ثاقب سلیم بدھ کو دیر رات احتجاجی مقام پر پہنچے اور طلبہ سے ملاقات کر کے اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس سے قبل ہما قریشی نے مبینہ لاٹھی چارج اور طاقت کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ طلبہ کی آواز کو طاقت سے دبانے کے بجائے ان سے بات چیت ہونی چاہیے۔ ادھر سلمان خان، شبانہ اعظمی، پرکاش راج، عمران خان، رتیش دیشمکھ، جنیلیا، دیا مرزا، بھومی پیڈنیکر اور دیگر فنکار بھی مختلف انداز میں احتجاج کی حمایت کر چکے ہیں۔
جنتر منتر میں جاری سی جے پی کی قیادت میں ہونے والے طلبہ کے احتجاج کو اب فلمی دنیا سے بھی مسلسل تقویت مل رہی ہے۔ احتجاج کے آغاز میں چند فنکاروں کی سوشل میڈیا پوسٹس تک محدود رہنے والی حمایت اب عملی یکجہتی میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسی سلسلے میں اداکارہ ہما قریشی اور ان کے بھائی ثاقب سلیم بدھ کی رات جنتر منتر پہنچے، جہاں انہوں نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے ملاقات کی اور ان کے مطالبات کی حمایت کا اظہار کیا۔ ان کی آمد کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں۔ ہما قریشی اس سے قبل بھی احتجاج کے دوران مبینہ پولیس کارروائی پر اپنے ردعمل کا اظہار کر چکی تھیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ طلبہ پر طاقت کے استعمال کی تصاویر دیکھ کر انہیں شدید دکھ پہنچا اور ایسے معاملات کا حل طاقت نہیں بلکہ مکالمہ اور انصاف ہونا چاہیے۔ ان کے اس بیان کو وسیع پیمانے پر شیئر کیا گیا، جبکہ جنتر منتر پہنچ کر انہوں نے اپنے مؤقف کو عملی شکل بھی دی۔
سی جے پی کی جانب سے مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات پر شروع ہونے والی اس تحریک میں گزشتہ چند دنوں کے دوران فلمی شخصیات کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سپر اسٹار سلمان خان نے بھی طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امتحانی نظام میں شفافیت ضروری ہے اور نوجوانوں کے مستقبل سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ احتجاج پرامن رہنا چاہئے اور اسے سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہئے۔ اس سے پہلے معروف اداکارہ شبانہ اعظمی اور اداکار پرکاش راج بھی جنتر منتر پہنچ کر طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کر چکے ہیں۔ شبانہ اعظمی احتجاج کے دوران طبیعت خراب ہونے کے باعث کچھ دیر کیلئے بے چین بھی ہوئیں، تاہم اس کے باوجود انہوں نے احتجاج کی حمایت جاری رکھی۔
بالی ووڈ کی کئی دیگر شخصیات نے بھی احتجاج اور مبینہ پولیس کارروائی پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ رتیش دیشمکھ اور جنیلیا دیشمکھ نے نوجوانوں کی آواز سننے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے مستقبل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دیا مرزا نے طاقت کے استعمال پر تشویش ظاہر کی، جبکہ بھومی پیڈنیکر، سوناکشی سنہا، سونو سود، ویر داس، سوہا علی خان، ادیتی راؤ حیدری، دلجیت دوسانجھ، وشال ددلانی، نندیتا داس اور دیگر فنکاروں نے بھی مختلف بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے طلبہ کی حمایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر احتجاج: پی ایم مودی کا اعلان، پیپر لیک قصورواروں کو نہیں بخشا جائیگا
ادھر ممبئی میں بھی احتجاجی مظاہروں کو فلمی دنیا کی حمایت ملی، جہاں اداکار عمران خان احتجاجی مارچ میں شریک ہوئے، جبکہ اداکارہ عائشہ خان نے بھی مظاہرے میں شرکت کی اور بعد ازاں دعویٰ کیا کہ انھیں حراست میں لیا گیا۔ اس پیش رفت نے واضح کر دیا کہ یہ معاملہ اب صرف دہلی تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے مختلف شہروں میں بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد بہتر، شفاف اور جوابدہ تعلیمی نظام کا مطالبہ کرنا ہے تاکہ امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کا خاتمہ ہو اور نوجوانوں کے مستقبل پر اعتماد بحال کیا جا سکے۔ دوسری جانب بالی ووڈ کی بڑھتی ہوئی حمایت نے اس تحریک کو نئی عوامی توجہ دلائی ہے، جس کے باعث جنتر منتر کا احتجاج قومی سطح پر مزید نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔