• Tue, 13 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آر بی آئی کے برخلاف ایس بی آئی نے ڈپازٹ میں اضافہ کا دعویٰ کیا

Updated: January 12, 2026, 5:03 PM IST | Mumbai

مالی سال ۲۰۱۵ء اور مالی سال ۲۰۲۵ء کے درمیان ہندوستانی بینکوں میں جمع اور قرض تقریباً ۳؍ گنا بڑھ گئے ہیں۔ یہ واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کا بینکنگ نظام مضبوط ہوا ہے اور قرض دینے میں ایک بار پھر تیزی آئی ہے۔ پیر کو ایس بی آئی ریسرچ رپورٹ جاری کی ہے۔

Sbi Bank.Photo:INN
ایس بی آئی بینک۔ تصویر:آئی این این

مالی سال ۲۰۱۵ء اور مالی سال ۲۰۲۵ء کے درمیان ہندوستانی بینکوں میں جمع اور قرض تقریباً ۳؍ گنا بڑھ گئے ہیں۔ یہ واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کا بینکنگ نظام مضبوط ہوا ہے اور قرض دینے میں ایک بار پھر تیزی آئی ہے۔ پیر کو  ایس بی آئی ریسرچ رپورٹ جاری کی ہے۔ دوسری طرف گزشتہ ہفتے آر بی آئی نے کہا تھا کہ  مالی سال ۲۰۲۵ء میں گھریلو بینک ڈپازٹس میں ۹۷ء۸؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ گھٹ کر ۵۴ء۱۲؍ لاکھ کروڑ روپے رہ گئے۔
ہندوستان میں گھریلو مالی رویوں میں ایک بنیادی اور دور رس تبدیلی سامنے آ رہی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق مالی سال ۲۰۲۵ء میں گھریلو بینک ڈپازٹس میں ۹۷ء۸؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ گھٹ کر ۵۴ء۱۲؍ لاکھ کروڑ روپے رہ گئے۔ یہ کمی اس لئے تشویشناک سمجھی جا رہی ہے کہ اس سے قبل دو برسوں تک گھریلو ڈپازٹس میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ محض ایک عددی کمی نہیں بلکہ ہندوستانی متوسط طبقے اور شہری گھرانوں کی مالی سوچ میں ایک واضح تبدیلی کی علامت ہے۔ وہ گھرانے جو ماضی میں بینک فکسڈ ڈپازٹس اور سیونگ اکاؤنٹس کو سب سے محفوظ اور ترجیحی ذریعہ سمجھتے تھے، اب زیادہ منافع کی تلاش میں نسبتاً زیادہ خطرے والے مالی آلات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ارجنٹائنا نے سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا منصوبے روک دیا

اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال ۲۰۱۵ء اور ۲۰۲۵ء کے درمیان بینک ڈپازٹس۳ء۸۵؍ لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر۵ء۲۴۱؍لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئے۔ بینک کے قرض ۴ء۶۷؍لاکھ کروڑروپے سے بڑھ کر ۲ء۱۹۱؍ لاکھ کروڑ ہو گئے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بینکوں کے کل اثاثے ملک کی جی ڈی پی کا ۹۴؍ فیصد ہو گئے ہیں، جو پہلے ۷۷؍ فیصد تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی مالیاتی پوزیشن اور بینکنگ سسٹم مضبوط ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’’لو اینڈ وار‘‘ کی اگست میں ریلیز کی تصدیق

رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی کئی ریاستوں میں خاندان نہ صرف بچت کر رہے ہیں بلکہ سرمایہ کاری کی طرف بھی رجوع کر رہے ہیں۔ گجرات، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں، بینک ڈپازٹس کا ایک حصہ تیزی سے اسٹاک مارکیٹ اور دیگر مالیاتی بازاروں میں منتقل ہو رہا ہے۔طویل مدتی، بینک ڈپازٹس مالی سال  ۲۰۰۵ء اور ۲۰۲۵ء کے درمیان۴ء۱۸؍ لاکھ کروڑ سے بڑھ کر۵ء۲۴۱؍ لاکھ کروڑ ہو گئے۔ اسی طرح، بینک کے قرض۵ء۱۱؍ لاکھ کروڑ سے بڑھ کر۲ء۱۹۱؍ لاکھ کروڑ ہو گئے، جو بینکاری نظام کی نمایاں ترقی کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔تاہم، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قرض جمع کرنے کے مقابلے میں تیز تر رہا ہے، قرض سے جمع کرنے کا تناسب مالی سال۲۰۲۱ء میں ۶۹؍ فیصد سے بڑھ کر مالی سال ۲۰۲۵ء میں ۷۹؍ فیصد ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK