برطانوی گلوکار بوائے جارج نے اسرائیل کی حمایت میں گانا جاری کرنے پر شدید تنقید کے بعد لندن کے معروف ویسٹ اینڈ میوزیکل’’جیزس کرائسٹ سپراسٹار‘‘’’ Jesus Christ Superstar‘‘ سے علیحدگی اختیار کر لی۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 9:05 PM IST | London
برطانوی گلوکار بوائے جارج نے اسرائیل کی حمایت میں گانا جاری کرنے پر شدید تنقید کے بعد لندن کے معروف ویسٹ اینڈ میوزیکل’’جیزس کرائسٹ سپراسٹار‘‘’’ Jesus Christ Superstar‘‘ سے علیحدگی اختیار کر لی۔
برطانوی گلوکار بوائے جارج نے اسرائیل کی حمایت میں گانا جاری کرنے پر شدید تنقید کے بعد لندن کے معروف ویسٹ اینڈ میوزیکل’’جیزس کرائسٹ سپراسٹار‘‘’’ Jesus Christ Superstar‘‘ سے علیحدگی اختیار کر لی۔۶۵؍ سالہ گلوکار، جن کا اصل نام جارج ایلن او ڈاؤڈ ہے، کو ۳؍سے ۱۵؍ اگست تک اس میوزیکل میں کنگ ہیروڈ کا کردار ادا کرنا تھا، تاہم ان کے منیجر پال کیمزلی نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ وہ اب اس پروڈکشن کا حصہ نہیں رہیں گے۔ بوائے جارج۱۹۸۰ء کی دہائی میں پاپ بینڈکلچر کلب کے مرکزی گلوکار کے طور پر عالمی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ٖہندوستان نے ویٹ لفٹنگ میں ایک گولڈ سمیت کل آٹھ تمغے جیتے
اسرائیل کی حمایت میں گانا تنازع کا سبب بنا
حال ہی میں بوائے جارج نے’’وی وِل ڈانس اگین‘‘’’We Will Dance Again‘‘ کے عنوان سے ایک گانا جاری کیا، جس میں اسرائیل اور غزہ جنگ کے حوالے سے متنازع بول شامل ہیں، جن میں یہ جملے بھی ہیں’’تم اسے نسل کشی کہتے ہو، میں اسے جنگ کہتا ہوں اور جب تم پر حملہ ہو تو فوج اسی لیے ہوتی ہے۔‘‘
گانے کا عنوان۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو اسرائیل میں نووا میوزک فیسٹیول پر ہونے والے حماس کے حملے کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں ۱۲۲۱؍ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دوسری جانب غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اب تک ۷۰؍ ہزار سے زائد فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ بھی ان اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد قرار دیتا ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد بھی غزہ میں ۱۲۱۴؍ فلسطینیوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
بوائے جارج کا مؤقف
بوائے جارج نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ یہ گانا مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لندن میں جاری نووا نمائش دیکھنے کے بعد اس گانے کو لکھنے پر آمادہ ہوئے، جہاں ۷؍ اکتوبر کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔انہوں نے ایک پوسٹ میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا’’گانے میں نسل کشی کا لفظ استعمال کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ لوگ اچانک اس لفظ سے اتنے بے چین کیوں ہو گئے ہیں؟‘‘
یہ بھی پڑھئے:’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ نے ہندوستان میں تاریخ رقم کی، کئی ریکارڈ توڑے
پروڈکشن کو تنازع سے بچانے کا فیصلہ
بوائے جارج کے منیجر پال کیمزلی نے کہا کہ گلوکار ہمیشہ اپنے نظریات پر ڈٹ کر کھڑے رہے ہیں، لیکن اس بار انہوں نے بہتر سمجھا کہ میوزیکل تنازع کا مرکز نہ بنے، اس لیے وہ خود اس سے الگ ہو گئے۔’’جیزس کرائسٹ سپراسٹار‘‘ کی نمائش یکم اگست سے ۵؍ ستمبر تک جاری رہے گی، جبکہ کلچرکلب دسمبر میں برطانیہ کے مختلف شہروں میں اپنا میوزک ٹور شروع کرے گا۔