اپنے کیریئر کے زیادہ تر حصے میں رام چرن کی اسٹارڈم اُن کی شاندار اور بڑے پیمانے کی فلموں پر قائم رہی ہے۔چیروتھا سے لے کر مدھیرا کی تاریخی کامیابی تک، انہیں ہمیشہ ایسے اسٹار کے طور پر پیش کیا گیا جو بڑے کینوس اور عظیم سنیما کے لیے بنے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 25, 2026, 12:48 PM IST | Mumbai
اپنے کیریئر کے زیادہ تر حصے میں رام چرن کی اسٹارڈم اُن کی شاندار اور بڑے پیمانے کی فلموں پر قائم رہی ہے۔چیروتھا سے لے کر مدھیرا کی تاریخی کامیابی تک، انہیں ہمیشہ ایسے اسٹار کے طور پر پیش کیا گیا جو بڑے کینوس اور عظیم سنیما کے لیے بنے ہیں۔
اپنے کیریئر کے زیادہ تر حصے میں رام چرن کی اسٹارڈم اُن کی شاندار اور بڑے پیمانے کی فلموں پر قائم رہی ہے۔چیروتھا سے لے کر مدھیرا کی تاریخی کامیابی تک، انہیں ہمیشہ ایسے اسٹار کے طور پر پیش کیا گیا جو بڑے کینوس اور عظیم سنیما کے لیے بنے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فلم ’’پیڈی‘‘ اتنی دلچسپ تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔
بوچی بابو ساناکی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم آر آر آر کے بعدایک اورپین انڈیا فلم بن سکتی ہے۔ اس کے بجائے رام چرن ایک بالکل مختلف سمت میں جاتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ایسی دنیا کی طرف جو مٹی، پسینے، محنت اور دیہی شناخت سے بنی ہوئی ہے۔ فلم کے پروموشنل مواد میں یہ تبدیلی واضح نظر آتی ہے۔
رام چرن کی پچھلی فلموں والی متوازن اورباڈی لینگویج یہاں غائب ہے۔ اُس کی جگہ ایک ایسا شخص نظر آتا ہے جس کے لمبے بال ہیں، آنکھوں میں تھکن ہے، چہرے اور جسم پر جدوجہد کے نشانات ہیں، اور جس کی چال ڈھال میں برسوں کی محنت اور درد محسوس ہوتا ہے۔ یہ کردار کسی مزدور، پہلوان یا دیہاتی کھلاڑی جیسا لگتا ہے۔کئی معنوں میں’’پیڈی‘‘ رنگستھلم کی فطری اگلی کڑی محسوس ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مہاراشٹر میں کہیں چلچلاتی دھوپ تو کہیں طوفانی بارش!
سوکمار کی ۲۰۱۸ء کی بلاک بسٹر فلم رام چرن کے کیریئر میں ایک بڑا موڑ ثابت ہوئی تھی کیونکہ اُس نے اسٹار اور ناظرین کے درمیان فاصلے کو توڑ دیا تھا۔ وہاں وہ پرفیکٹ نہیں تھے بلکہ جذباتی اور بے حد انسانی تھے۔ اُس پرفارمنس نے رام چرن کے اندر موجود اُس حساسیت کو سامنے لایا، جسے ناظرین نے پہلے مکمل طور پر محسوس نہیں کیا تھا۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ اُس فلم نے ثابت کیا کہ رام چرن کی سب سے طاقتور اسکرین پریزنس اُس وقت ابھرتی ہے جب اُن کا کردار زمین سے جڑا ہوا ہو۔
یہ بھی پڑھئے:وکرم پھڈنیس کی جذباتی ڈراما فلم کا پہلا لُک منظر عام پر آیا
تیلگو سنیما میں روایتی ’’میگا ہیرو‘‘ کی شبیہ اکثر ایک فاصلے پر قائم ہوتی ہے جہاں اسٹار عام لوگوں سے بلند، خواب جیسا اور ناقابلِ رسائی محسوس ہوتا ہے۔ لیکن لوک نایک مختلف انداز میں کام کرتے ہیں۔ وہ ناظرین کو اپنے لگتے ہیں۔ اُن کی مقبولیت اس بات سے آتی ہے کہ لوگ اُن کے اندر اپنی جدوجہد، غصے اور عزت کو محسوس کر پاتے ہیں۔ اور شاید یہی وہ چیز ہے جو ’’پیڈی‘‘ رام چرن کے ساتھ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔برسوں تک ایک بڑے اسٹار کی شبیہ نبھانے کے بعد، ’’پیڈی‘‘ وہ فلم بن سکتی ہے جو رام چرن کو صرف ایک سپر اسٹار نہیں، بلکہ ایسا ہیرو بنا دے جو تھیٹر کی فرنٹ رو میں بیٹھنے والے عام لوگوں کو اپنا محسوس ہو۔