کیا آپ کو وہ تنقید یاد ہے جس کا سامنا اکشے کمار کو فلم سمراٹ پرتھوی راج کی ریلیز کے بعد کرنا پڑا تھا؟ ناظرین کے ایک بڑے طبقے نے ان کی پرفارمنس کو ’’بے جان‘‘ قرار دیا تھا، نہ صرف جسمانی تبدیلی کے لحاظ سے بلکہ جذباتی اثر کے اعتبار سے بھی۔
EPAPER
Updated: April 20, 2026, 6:58 PM IST | Mumbai
کیا آپ کو وہ تنقید یاد ہے جس کا سامنا اکشے کمار کو فلم سمراٹ پرتھوی راج کی ریلیز کے بعد کرنا پڑا تھا؟ ناظرین کے ایک بڑے طبقے نے ان کی پرفارمنس کو ’’بے جان‘‘ قرار دیا تھا، نہ صرف جسمانی تبدیلی کے لحاظ سے بلکہ جذباتی اثر کے اعتبار سے بھی۔
کیا آپ کو وہ تنقید یاد ہے جس کا سامنا اکشے کمار کو فلم سمراٹ پرتھوی راج کی ریلیز کے بعد کرنا پڑا تھا؟ ناظرین کے ایک بڑے طبقے نے ان کی پرفارمنس کو ’’بے جان‘‘ قرار دیا تھا، نہ صرف جسمانی تبدیلی کے لحاظ سے بلکہ جذباتی اثر کے اعتبار سے بھی۔ بہت سے لوگوں کے مطابق ان کی اداکاری میں وہ شدت، وقار اور اعتماد نہیں تھا جو پرتھوی راج چوہان جیسے عظیم جنگجو کے کردار کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
اکشے کمار نے آخرکار اس تنقید پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے، خاص طور پر اپنے کلین شیو (مونچھ کے بغیر) لُک کے بارے میں وضاحت دی ہے جس پر انہیں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ شُبھانکر مشرا کے ساتھ ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں، اپنی نئی فلم ’’بھوت بنگلہ‘‘ کی تشہیر کے دوران، انہوں نے ان عملی مشکلات کے بارے میں بات کی جن کی وجہ سے ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں۔’
یہ بھی پڑھئے:اکشے کمار اور پریادرشن کی فلم کی کمائی میں نمایاں اضافہ
انہوں نے بتایا کہ وہ اکثر ایک وقت میں کئی فلموں پر کام کر رہے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ہر کردار کے لیے بڑی جسمانی تبدیلیاں کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اکشے نے وضاحت دی کہ’’سمراٹ پرتھوی راج‘‘ میں مونچھ نہ رکھنے پر جو تنقید ہوئی، اس کے پیچھے یہ حقیقت ہے کہ مختلف کرداروں کے درمیان مسلسل شکل برقرار رکھنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ آخرکار اصل اہمیت اداکاری کی ہوتی ہے نہ کہ صرف ظاہری شکل کی۔ ان کے مطابق اگرچہ ناظرین اکثر جسمانی تفصیلات پر توجہ دیتے ہیں، لیکن اصل چیز یہ ہے کہ اداکار کتنی مہارت سے اپنے کردار کو زندہ کرتا ہے۔ لیکن اکشے کمار کے اس بیان کے بعد انہیں ایک بار پھر ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک صارف نے لکھاکہ ’’ یہ صرف ایک بہانہ ہے... جب آپ سمراٹ پرتھوی راج جیسے کردار ادا کرتے ہیں تو آپ کو اس کے لیے وقت اور سوچ دینی چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:مثبت سوچ اور اتحاد کی ضرورت ہے: شکست کے بعد ہرمن پریت کور کا عزم
ایک اور صارف نے کہاکہ ’’کمزور بہانہ ہے، اور وہ خود مان رہا ہے کہ یہ صرف اداکاری ہے! ارے صاحب، یہ صرف اداکاری نہیں ہے، آپ کو کردار کے مطابق نظر بھی آنا چاہیے!‘‘۔ایک اور صارف نے ردعمل دیا کہ ’’اصل مسئلہ یہی ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ بات جعلی مونچھ کی نہیں بلکہ کردار کی تیاری کے لیے وقت دینے کی ہے۔ اکشے کمار نے ’’دُھرندھر‘‘ میں وگ لگائی تھی لیکن کسی نے اعتراض نہیں کیا کیونکہ اداکاری شاندار تھی۔‘‘
ایک اور صارف نے لکھاکہ ’’دوسرے اداکار اپنے کرداروں میں خود کو بدل لیتے ہیں، اور پھر ایک اکشے کمار ہیں جو ہر کردار کو اکشے کمار بنا دیتے ہیں۔‘‘