ہندوستانی سنیما میں بعض فن کار ایسے ہوتے ہیں جو فلم کے مرکزی کردار میں نظر نہیں آتے، لیکن ان کی موجودگی کہانی کو ایک نئی جہت دے دیتی ہے۔
EPAPER
Updated: October 30, 2026, 3:40 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
ہندوستانی سنیما میں بعض فن کار ایسے ہوتے ہیں جو فلم کے مرکزی کردار میں نظر نہیں آتے، لیکن ان کی موجودگی کہانی کو ایک نئی جہت دے دیتی ہے۔
ہندوستانی سنیما میں بعض فن کار ایسے ہوتے ہیں جو فلم کے مرکزی کردار میں نظر نہیں آتے، لیکن ان کی موجودگی کہانی کو ایک نئی جہت دے دیتی ہے۔ ان کے چہرے، مکالمے ادا کرنے کے انداز اور شخصیت کی گہری چھاپ ناظرین کے ذہنوں میں دیر تک باقی رہتی ہے۔ دلیپ تاہل بھی ایسے ہی اداکار ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں تک ہندی فلموں میں مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے۔ کبھی وہ دولت مند کاروباری شخصیت بن کر سامنے آئے، کبھی سخت گیر باپ، کبھی بااثر سیاست داں اور کبھی کہانی کے منفی کردار کی صورت میں ناظرین کے سامنے آئے۔ شاہ رخ خان کی فلم ’بازی گر‘، عامر خان کی ’قیامت سے قیامت تک‘ اور ’ہم ہیں راہی پیار کے‘ جیسی فلموں میں ان کی موجودگی آج بھی فلم بینوں کو یاد ہے۔
دلیپ تاہل کی پیدائش ۳۰؍اکتوبر ۱۹۵۲ءکواتر پردیش کے شہرآگرہ میں ہوئی۔ ان کا پورا نام دلیپ تاہل رامانی بتایا جاتا ہے اور ان کا تعلق سندھی ہندو خاندان سے ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم نینی تال کے مشہور شیرووڈ کالج میں ہوئی۔ اسی تعلیمی دور میں ان کی دلچسپی اداکاری کی جانب بڑھی اور انہوں نے اسکول کے ڈراموں اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔انہوں نے ۱۹۷۴ء میں شیام بینیگل کی فلم ’انکور‘ سے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ یہ فلم ہندوستانی متوازی سنیما کی اہم تخلیقات میں شمار ہوتی ہے۔ ۱۹۸۲ءمیں وہ رچرڈ ایٹن برو کی عالمی شہرت یافتہ فلم ’گاندھی‘ میںبھی نظر آئے۔ اس فلم کی بین الاقوامی کامیابی نے انہیں ایسے سنیما کا حصہ بننے کا تجربہ دیا جس کا دائرہ ہندوستان سے باہر تک پھیلا ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:پائل کپاڈیا کی ایس آر ایف ٹی آئی کے احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی
دلیپ تاہل کے کریئرمیں دوردرشن کے مقبول ڈرامے ’بنیاد‘ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔۱۹۸۶ءمیں نشر ہونے والے اس ڈرامے میں انہوں نے بھوشن کا کردار ادا کیا۔’بنیاد‘ نے دلیپ تاہل کو گھر گھر پہچان دلائی۔ اسی ڈرامے میں ان کی اداکاری دیکھ کر فلم ساز ناصر حسین نے انہیں ’قیامت سے قیامت تک‘ میں دھن راج سنگھ کا کردار دیا۔دلیپ تاہل کے فلمی کیریئر کا ذکر ہو اور ’بازی گر‘ کا نام نہ آئے، ایسا ممکن نہیں۔۱۹۹۳ءمیں ریلیز ہونے والی اس فلم میں انہوںنےمدن چوپڑا کا کردار ادا کیا، جو ایک دولت مند اور بااثر کاروباری شخصیت ہے۔دلیپ تاہل کو صرف منفی کرداروں تک محدود کردینا ان کے کام کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔۱۹۹۳ءکی فلم ’ہم ہیں راہی پیار کے‘ میں انہوں نے ایک مختلف اور مزاحیہ انداز کا کردار ادا کیا۔اسی سال وہ یش چوپڑا کی فلم ’ڈر‘ میں بھی نظر آئے۔ اس فلم میں شاہ رخ خان، جوہی چاولہ اور سنی دیول نے اہم کردار ادا کیے تھے۔ دلیپ تاہل نے کیپٹن مہرا کا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد ’راجا‘، ’عشق‘، ’جڑواں‘ اور ’کہو نا پیار ہے‘ جیسی فلموں میں بھی ان کی اداکاری دیکھنے کو ملی۔ ۲۰۱۳ءمیںراکیش اوم پرکاش مہرا کی فلم ’بھاگ ملکھا بھاگ‘ میں انہوں نے پنڈت جواہر لعل نہرو کاکردار ادا کیا۔
دلیپ تاہل نے ہندوستانی فلموں کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر بھی کام کیا۔۱۹۸۸ءمیں وہ مرچنٹ آئیوری کی انگریزی فلموں ’دی پرفیکٹ مرڈر‘ اور ’دی ڈیسیورز‘ میں نظر آئے۔وقت کے ساتھ فلمیں دیکھنے کے طریقے بدلے تو دلیپ تاہل نے بھی نئے پلیٹ فارم پر کام کیا۔ وہ ’دی فیملی مین‘، ’میڈ اِن ہیون‘، ’ہوسٹیجز‘ اور ’انسائیڈ ایج‘ جیسی ویب سیریز میں نظر آئے۔