Updated: October 24, 2026, 6:32 PM IST
| Mumbai
کولکاتا کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں طلبہ پر حملوں اور بعد ازاں چھ طلبہ کو ادارے سے نکالے جانے کے معاملے نے تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے۔ فلم ساز پائل کپاڈیا نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے تشدد میں ملوث افراد کو جواب دہ بنایا جائے۔
پائل کپاڈیا۔ تصویر: آئی این این
فلم ساز پائل کپاڈیا نے کولکاتا کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس آر ایف ٹی آئی) کے احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتہائی تشویش ناک ہے کہ طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کی جارہی ہے، جبکہ ان پر حملہ کرنے اور طالبات کو نامناسب طور پر چھونے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یاد رہے کہ پائل کپاڈیا کی فلم ’’آل وی امیجن ایز لائٹ‘‘ نے مئی ۲۰۲۴ء میں ۷۷؍ ویں کانز فلم فیسٹیول میں گراں پری ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا، ’’کولکاتا کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں پیش آنے والی صورتِ حال پر میں بالکل حیران اور شدید برہم ہوں۔ ۲۷؍ ستمبر کو آر ایس ایس سے وابستہ غنڈے کیمپس میں داخل ہوئے اور طلبہ کو بے رحمی سے مارا پیٹا۔ انہوں نے بعض طالبات کو نامناسب طور پر چھوا بھی، لیکن ان غنڈوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: والد کے انتقال کے ۱۷؍ سال بعد پہلی بار فردین خان نے ان کی کاؤبوائے ہیٹ پہنی
انہوں نے مزید کہا، ’’اس کے برعکس، انتظامیہ سے یہ سوال کرنے پر طلبہ کو ادارے سے نکالنے کی سزا دی جارہی ہے کہ آخر اس نے ایسا واقعہ پیش آنے کی اجازت کیسے دی۔ اس دن کے بعد سے کوئی کلاس نہیں ہوئی۔ حال ہی میں طلبہ کو ہاسٹل خالی کرنے اور کیمپس چھوڑنے کا نوٹس بھی دیا گیا ہے۔‘‘ پائل کپاڈیا نے صورتِ حال کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی سلامتی خطرے میں ہے۔ انہوں نے اپنا پیغام ایس آر ایف ٹی آئی طلبہ یونین کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کیا اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کو سزا دینے کے بجائے تشدد پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
یہ پیغام بدھ کے روز شیئر کیا گیا جس دن ایس آر ایف ٹی آئی نے ادارے سے نکالے گئے چھ طلبہ کے والدین کو خط لکھ کر ان سے اپنے بچوں کو کیمپس سے روانہ کرنے کے انتظامات کرنے کی درخواست کی۔ ان طلبہ کو گزشتہ ہفتے احتجاج کے دوران وائس چانسلر سنتوش اجمیرا کے ساتھ ہاتھا پائی، ہنگامہ آرائی اور زبانی بدسلوکی کے الزامات پر ادارے سے نکال دیا گیا تھا۔ یہ احتجاج کیمپس میں طلبہ پر ہونے والے حملوں کے خلاف کیا جارہا تھا۔
پائل کپاڈیا ان فلمسازوں، اداکاروں اور مصنفین میں شامل تھیں جنہوں نے ۲۹؍ ستمبر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں ۲۷؍ ستمبر کے حملے پر ’’غصے اور شدید برہمی‘‘ کا اظہار کیا تھا۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ اس واقعے کو محض ایک اور ایسا واقعہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرسکتے جسے اگلے دن بھلا دیا جائے۔ انہوں نے واقعے کی غیر جانب دارانہ اور جامع تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ حملے کے بعد طلبہ نے ۲۸؍ ستمبر سے کلاسوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ الزام ہے کہ ۲۷؍ ستمبر کو اکھل بھارتیہ گراہک پنچایت سے وابستہ افراد نے طلبہ پر حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد ۴؍ اکتوبر کو بھی طلبہ پر دوبارہ حملہ کیا گیا، جس میں مبینہ طور پر ہندو جاگرن منچ کے حامی ملوث تھے۔
یہ بھی پڑھئے: عامر خان کا اعتراف:جنون کی حد تک کام کرنے کے باعث خاندان کو وقت نہیں دے سکا
طلبہ میں سے چکرورتی نے کہا، ’’وہ چاہتے ہیں کہ ہم آر ایس ایس سے وابستہ غنڈوں کے کیمپس پر حملوں کو بھول جائیں۔ انہوں نے چھ طلبہ کو ادارے سے نکال دیا ہے اور ہمیں کلاسوں میں واپس آنے پر مجبور کرنے کے لیے ۱۳؍ نومبر تک تعلیمی سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔ لیکن ہمارا مطالبہ جائز ہے۔ پائل کپاڈیا اور دیگر لوگوں کی حمایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم درست راستے پر ہیں۔‘‘
دوسری جانب، وائس چانسلر سنتوش اجمیرا نے کہا کہ معمولات اسی وقت بحال ہوسکتے ہیں جب طلبہ ’’توڑ پھوڑ‘‘ بند کردیں۔ انہوں نے جمعہ کے روز کہا، ’’تعلیمی سرگرمیاں پہلے ہی معطل ہیں، اس لیے طلبہ سے توقع تھی کہ وہ کیمپس چھوڑ دیں گے۔ چھ طلبہ کو ادارے سے نکالنے کا حکم بھی دیا جاچکا ہے۔ وہ اس حکم پر عمل کرنے سے انکار کررہے ہیں اور ادارے کو اپنے کنٹرول میں لینے اور اس کے معاملات پر قابض ہونے کی کوشش کررہے ہیں، جو طلبہ کے لیے انتہائی نامناسب طرزِ عمل ہے۔‘‘ اجمیرا نے مزید کہا، ’’ادارے کے طور پر ہمارے پاس طلبہ کو زبردستی کیمپس سے ہٹانے اور قواعد کے مطابق تادیبی کارروائی شروع کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔‘‘