شریا گھوشال کی مبینہ ۶۵ء۱؍ کروڑ فی شو فیس پر سوشل میڈیا میں بحث، مداحوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی حیثیت کے مقابلے میں کم ہے۔
EPAPER
Updated: March 25, 2026, 9:00 PM IST | Mumbai
شریا گھوشال کی مبینہ ۶۵ء۱؍ کروڑ فی شو فیس پر سوشل میڈیا میں بحث، مداحوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی حیثیت کے مقابلے میں کم ہے۔
ہندوستانی موسیقی کی دنیا کی معروف آواز شریا گھوشال ایک بار پھر خبروں میں ہیں لیکن اس بار وجہ ان کی گائیکی نہیں بلکہ مبینہ طور پر ان کی لائیو پرفارمنس فیس ہے، جس نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ریڈٹ پر سامنے آنے والی ایک وائرل پوسٹ کے مطابق، شریا گھوشال نے حالیہ ’’تلنگانہ گدار فلم ایوارڈ‘‘ میں لائیو پرفارمنس کیلئے تقریباً ۶۵ء۱؍ کروڑ روپے وصول کئے۔ اگرچہ اس رقم کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی، لیکن یہ انکشاف مداحوں اور موسیقی کے شائقین کے درمیان دلچسپی اور حیرت کا باعث بن گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سنگاپور کورونر: زوبین گرگ کی موت حادثاتی طور پر ڈوبنے کا نتیجہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں عام طور پر ایسی بڑی رقم پر تنقید ہوتی ہے، وہیں اس معاملے میں ایک مختلف بیانیہ سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ شریا گھوشال جیسی لیجنڈری گلوکارہ کیلئے یہ فیس کم ہے، نہ کہ زیادہ۔ مداحوں نے دلیل دی کہ اریجیت سنگھ جیسے مرد گلوکار اکثر اس سے کئی گنا زیادہ معاوضہ لیتے ہیں، جس سے انڈسٹری میں صنفی فرق اور پلے بیک سنگرز کی کم قدر پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، ’’اگر اریجیت سنگھ زیادہ چارج کر سکتے ہیں تو شریا کیوں نہیں؟ وہ بھی اسی درجے کی، بلکہ کئی حوالوں سے زیادہ ورسٹائل آرٹسٹ ہیں۔‘‘
یہ بحث صرف ایک فیس تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے بالی ووڈ اور ہندوستانی میوزک انڈسٹری میں فنکاروں کی قدر، خاص طور پر خواتین گلوکاروں کی پوزیشن پر ایک وسیع گفتگو کو جنم دیا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ پلے بیک سنگرز کو ہمیشہ اداکاروں اور اسٹیج پرفارمرز کے مقابلے میں کم معاوضہ دیا جاتا رہا ہے، باوجود اس کے کہ وہ فلموں کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ، شریا گھوشال کا کریئر دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے، جس میں انہوں نے ہندی، تیلگو، تامل، بنگالی اور دیگر زبانوں میں بے شمار ہٹ گانے دئیے ہیں۔ ان کی تکنیکی مہارت، کلاسیکل تربیت اور مسلسل مقبولیت انہیں انڈسٹری کی صفِ اول کی گلوکاراؤں میں شامل کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کرتیکا کامرا نے’’مٹکا کنگ‘‘ کے کردار کی جھلک پیش کی
انڈسٹری ماہرین کے مطابق، لائیو کنسرٹس اور ایوارڈ شوز میں فیس کا تعین کئی عوامل پر ہوتا ہے، جن میں ایونٹ کا پیمانہ، مقام، اسپانسرشپ، اور آرٹسٹ کی برانڈ ویلیو شامل ہیں۔ اسلئےایک مخصوص رقم کو ’’زیادہ‘‘ یا ’’کم‘‘ کہنا سیاق و سباق کے بغیر مشکل ہوتا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں لائیو میوزک انڈسٹری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ہندوستان میں، جہاں بڑے کنسرٹس اور میوزک فیسٹیولز فنکاروں کیلئے آمدنی کا بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔ ایسے میں شریا گھوشال جیسے آرٹسٹس کی فیس پر بحث اس وسیع تر معاشی تبدیلی کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پرفیکشن جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی، اپنی کمیوں کا جشن منانا چاہیے:سوربھ شکلا
خود شریا گوشال نے اب تک اپنی فیس کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن یہ واضح ہے کہ ان کی مقبولیت اور اثر و رسوخ اس سطح پر ہے جہاں مداح ان کیلئے زیادہ مالی قدر کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ معاملہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ ہندوستانی میوزک انڈسٹری میں کامیابی صرف آواز تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ جڑی معاشی اور سماجی قدر بھی اہم ہے اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ان اقدار کو نئے سرے سے دیکھا جائے۔