Updated: July 28, 2026, 7:38 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ کے عظیم اداکار اور فلم ساز دیو آنند کے اکلوتے بیٹے، اداکار اور فلم سازسنیل آنند۷۰؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔انہیں ۲۶؍جولائی کو لندن میں دل کا دورہ پڑا، جس کے بعد وہ انتقال کر گئے۔ ان کی بھتیجی جینا نارنگ نے خاندان کی جانب سے ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے رازداری کی اپیل کی ہے۔
سنیل آنند۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ کے عظیم اداکار اور فلم ساز دیو آنند کے اکلوتے بیٹے، اداکار اور فلم سازسنیل آنند۷۰؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ رپورٹس کے مطابق انہیں ۲۶؍جولائی کو لندن میں دل کا دورہ پڑا، جس کے بعد وہ انتقال کر گئے۔ ان کی بھتیجی جینا نارنگ نے خاندان کی جانب سے ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے رازداری کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:گلاسگو کامن ویلتھ گیمز کی اختتامی تقریب میں ستار نواز رشبھ رکھیرام شرما کا پرفارمنس
خاندان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ سنیل آنند کی وفات پر اظہارِ تعزیت، دعاؤں اور محبت پر سب کا شکریہ، تاہم اس غم کی گھڑی میں خاندان کی نجی زندگی کا احترام کیا جائے۔ ان کی آخری رسومات کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
سنیل آنند کون تھے؟
سنیل آنند ۳۰؍ جون ۱۹۵۶ء کو زیورخ،سوئزرلینڈ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ہندوستانی سنیما کے معروف خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد دیو آنند ہندی فلم انڈسٹری کے سنہری دور کے عظیم اداکار اور فلم ساز تھے جبکہ ان کی والدہ کلپنا کارتک بھی ’’بازی‘‘، ’’ٹیکسی ڈرائیور‘‘ اور ’’ہاؤس نمبر۴۴‘‘ جیسی کامیاب فلموں میں اداکاری کر چکی تھیں۔
سنیل آنند نے واشنگٹن ڈی سی کی امریکن یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی۔ فلمی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے وہ اپنے والد کے مختلف فلمی منصوبوں میں معاونت کرتے رہے۔ انہوں نے ۱۹۸۴ء میں اپنے والد کی ہدایت اور پروڈکشن میں بننے والی فلم ’’آنند اور آنند‘‘ سے بطور اداکار بالی ووڈ میں ڈیبیو کیا، جس میں باپ اور بیٹے پہلی بار ایک ساتھ پردۂ سیمیں پر نظر آئے۔ بعد ازاں وہ۱۹۸۶ء میں فلم ’’کار تھیف‘‘ میں وجیتا پنڈت کے ساتھ مرکزی کردار میں دکھائی دیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے چچا ’’وجے آنند‘‘ کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’’میں تیرے لیے‘‘ میں بھی کام کیا، جو نوکیتن فلمز کے بینر تلے بنائی گئی تھی۔ تاہم انہیں وہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی جو ان کے والد کے حصے میں آئی۔
یہ بھی پڑھئے:سارانش جین کو پہلی بار ٹیسٹ ٹیم میں موقع ملا، جڈیجا اور بمراہ کی واپسی
کیمرے کے پیچھے بھی خدمات
اداکاری سے فاصلہ اختیار کرنے کے بعد سنیل آنند نے فلم سازی پر توجہ دی۔ انہوں نے ۲۰۰۱ء میں مارشل آرٹس پر مبنی فلم ’’ماسٹر‘‘ کی ہدایت کاری بھی کی اور اس میں اداکاری بھی کی۔ اس فلم کی تیاری کے لیے انہوں نے ہانگ کانگ میں ونگ چون مارشل آرٹ کی تربیت بھی حاصل کی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے ویگاٹور مکسر کے نام سے ایک انگریزی فلم بنانے کا اعلان کیا، جس کی کہانی گوا کے پس منظر میں تھی، تاہم یہ فلم کبھی ریلیز نہ ہو سکی۔