Updated: September 25, 2026, 8:01 PM IST
| Mumbai
اداکارہ دیا مرزا کی آواز میں تیار ہونے والی نئی جنگلی حیات پر مبنی دستاویزی فلم ’’دی ہارن بل پرامس ‘‘ (The Hornbill Promise) مغربی بنگال کے مشرقی ہمالیہ میں واقع لٹپنچر (Latpanchar) کے نایاب روفس نیکڈ ہارن بلز (Rufous-necked Hornbills) کی زندگی، عادات، باہمی تعلق اور انسانوں کے ساتھ ان کے قدرتی رشتے کو اجاگر کرے گی۔
دیامرزا۔ تصویر:آئی این این
اداکارہ دیا مرزا کی آواز میں تیار ہونے والی نئی جنگلی حیات پر مبنی دستاویزی فلم ’’دی ہارن بل پرامس ‘‘ (The Hornbill Promise) مغربی بنگال کے مشرقی ہمالیہ میں واقع لٹپنچر (Latpanchar) کے نایاب روفس نیکڈ ہارن بلز (Rufous-necked Hornbills) کی زندگی، عادات، باہمی تعلق اور انسانوں کے ساتھ ان کے قدرتی رشتے کو اجاگر کرے گی۔ فلم میں جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی اور فطرت کے درمیان قائم تعلق کو بھی مرکزی موضوع بنایا گیا ہے۔
فلم کی کہانی لٹپنچر میں رہنے والے روفس نیکڈ ہارن بلز کے ایک جوڑے تارا اور ٹینزنگ کے گرد گھومتی ہے۔ فلم سازوں نے ان دونوں پرندوں کے ذریعے نہ صرف ان کی زندگی اور رویوں کو ریکارڈ کیا ہے بلکہ اس خطے میں رہنے والے لوگوں، ان کے روایتی علم اور فطرت کے ساتھ ان کے تعلق کو بھی کہانی کا حصہ بنایا ہے۔ فلم کے ہدایت کار اور شریک فلم ساز صفیق ہزاریکا کے مطابق یہ خیال اس وقت پیدا ہوا جب انہوں نے چند سال قبل لٹپنچر کا دورہ کیا۔ وہ ان خوب صورت اور غیر معمولی پرندوں کی تصاویر کھینچنا چاہتے تھے، لیکن مقامی لوگوں سے گفتگو اور پرندوں کے رویوں کو قریب سے دیکھنے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ اس موضوع کو صرف تصاویر کے ذریعے پیش کرنا کافی نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’ویلکم‘‘ کے اداکار مشتاق خان کا انتقال، کینسر سے طویل جنگ کے بعد آخری سانس لی
دستاویزی فلم ’’دی ہارن بل پرامس ‘‘تقریباً ۴۵؍ منٹ دورانیے کی دستاویزی فلم ہے، جس کی فلم بندی تقریباً ڈھائی سال تک جاری رہی۔ فلم سازوں کو تقریباً۷؍ ہزار فٹ کی بلندی پر دشوار گزار علاقوں میں کئی کئی کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑا۔ بارش، جونکوں اور طویل انتظار کے باوجود ٹیم نے پرندوں کی زندگی کے مختلف مراحل کو کیمرے میں محفوظ کرنے کی کوشش جاری رکھی۔ فلم فی الحال تیاری کے مرحلے میں ہے اور اسے فروری ۲۰۲۷ء میں ریلیز کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کی تقریباً ۱۰ ؍منٹ کی مختصر فلم اور ٹریلر پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔
فلمساز ونود کے ریڈی کے مطابقدستاویزی فلم ’’دی ہارن بل پرامس ‘‘ میں روفس نیکڈ ہارن بل کے مکمل زندگی کے دورانیہ کو فلم بند کیا گیا ہے۔ اس میں گھونسلہ بنانے، بچوں کی پرورش اور پرندوں کے سماجی رویوں سمیت کئی ایسے پہلو شامل ہیں جو عام طور پر کیمرے میں قید کرنا انتہائی مشکل ہوتے ہیں۔ فلم سازوں نے ایک دلچسپ واقعہ بھی بیان کیا کہ ایک ایسے ہارن بل نے، جو بچے کا حیاتیاتی باپ نہیں تھا، گھونسلے سے باہر آنے کے بعد اس کی حفاظت کی اور اسے خوراک بھی فراہم کی۔ فلم میں ایسے رویوں کے ذریعے پرندوں کی سماجی زندگی اور باہمی وابستگی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ دستاویزی فلم کا ایک اہم پہلو جنگلی حیات کے تحفظ اور مقامی معیشت کے درمیان تعلق بھی ہے۔ لٹپنچر میں ہارن بلز کو دیکھنے آنے والے پرندوں کے شائقین اور فوٹوگرافروں کی وجہ سے قدرتی سیاحت کو فروغ ملا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رونالڈو کے بغیر ۳ ؍ہزار، کھیلنے پر ۵۵ ؍ہزار شائقین آئے: جارج جیسس
فلمسازوں کے مطابق مقامی گھروں کے اوپری حصوں کو ہوم اسٹے میں تبدیل کیا گیا ہے، جبکہ مقامی افراد سیاحوں کے لیے ڈرائیور، رہنما اور دیگر خدمات فراہم کرتے ہیں۔ یوں ہارن بلز کی موجودگی مقامی آبادی کے لیے آمدنی کا ذریعہ بھی بن رہی ہے اور ان پرندوں کے تحفظ میں مقامی لوگوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ دستاویزی فلم ’’دی ہارن بل پرامس ‘‘ میں دیا مرزا نے اپنی آواز دی ہے۔ فلم سازوں کے مطابق دیا مرزا کا انتخاب اس لیے بھی موزوں تھا کیونکہ وہ طویل عرصے سے فطرت اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق سرگرمیوں سے وابستہ رہی ہیں۔ فلم سازوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں ایک ایسی طاقتور خاتون آواز کی ضرورت تھی جو فلم کی مرکزی مادہ ہارن بل کے کردار کی مضبوطی اور جذباتی پہلوؤں کو مؤثر انداز میں پیش کرسکے۔