صنعتی شہر میں انڈین سیکولر پارٹی اور سماج وادی پارٹی نے مل کر محاذ قائم کیا ، ساتھ ہی کانگریس، این سی پی ( شرد) اور کمیونسٹ پارٹیوں نے بھی علاحدہ اتحاد قائم کیا ، اصل مقابلہ مجلس اور سیکولر فرنٹ میں ہوگا۔
شیخ آصف نے بھی اپنی پارٹی کو ہرا رنگ دیدیا ہے۔ تصویر: آئی این این
مالیگائوں میونسپل کارپوریشن کی ۸۸؍نشستوں پرالیکشن میں کل ہند مجلس اتحاد المسلمین اور انڈین سیکولر پارٹی و سماج وادی پارٹی کے اتحاد ’مالیگاؤں سیکولر فرنٹ ‘کے درمیان راست مقابلہ ہونے کا منظر نامہ صاف ہوگیا ہے۔ مالیگاؤں کے مشرقی حصے میں کانگریس نے ۲۰؍ امیدوارکھڑے کرکے اپنی طاقت بحال رکھنے کی کوشش کی ہے تو مغربی حصے میں شیوسینا نے ۲۴؍ امیدواروں کو میونسپل الیکشن میں مقابلہ کرنے کا موقع دیا ہے۔مجموعی صورتحال وہی بنی کہ رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل ( مجلس ) اور سابق رکن اسمبلی شیخ آصف (انڈین سیکولر پارٹی) کے مابین زور آزمائی ہورہی ہے۔واضح رہے کہ کارپوریشن الیکشن کیلئے۱۵؍ جنوری کو ووٹ ڈالے جائیں گے اور اگلے روز ۱۶؍جنوری ۲۰۲۶ء کو نتائج ظاہر ہوں گے۔
مجلس و کانگریس کی سیاسی مساوات نہ بن سکی
سابقہ پارلیمانی الیکشن میں کانگریس کی فاتح امیدوار ڈاکٹر شوبھا بچھاؤ کیلئے مجلس کے رکن اسمبلی مفتی اسماعیل نے ماحول سازی کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا ۔ لہٰذ گمان تھا کہ میونسپل الیکشن میں مجلس و کانگریس کے درمیان سیاسی مفاہمت ہوجائے گی۔دونوں جانب سے کوششیں بھی ہوئیں ۔کانگریس کی ریاستی ہائی کمان خصوصاً صدر ہرش وردھن سپکال نے صاف طریقے سے مجلس کے ساتھ الیکشن لڑنے سے انکار کر دیا۔ سپکال کے اس موقف کی بحالت مجبوری مقامی کانگریس نے تائید کی۔
فرنٹ بنا کر شہری بلدیہ کا انتخاب لڑرہے ہیں
سابقہ اسمبلی الیکشن میں ایک دوسرے کے خلاف امیدواری کرکے شکست سہنے والے شیخ آصف اور شانِ ہند نے کارپوریشن الیکشن میں مالیگاؤں سیکولر فرنٹ تشکیل دیا ۔ انڈین سیکولر پارٹی نے ۴۲؍ اور سماج وادی پارٹی نے ۲۰؍ امیدوار کھڑے کئے ہیں۔فرنٹ کی تشکیل سے قبل مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ان دونوں نے سیاسی سرگرمیاں شروع کردی تھیں ۔ اس کا راست اثر میونسپل الیکشن میں رائے دہندگان کے درمیان عنوانِ گفتگو بنا ہوا ہے۔
بی جے پی میں افراتفری
پرچہ نامزدگی جمع کروانے کے اخیر مرحلے تک واضح نہیں ہوسکا کہ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن الیکشن میں بی جے پی نے کتنے امیدوار کھڑے کئے ہیں ۔ غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق ۴؍ یا ۵؍ امیدواروں نے کنول کے پھول نشان پر پرچہ بھرا ہے۔ ابتدا میں بی جے پی اور شیوسینا (شندے) کے درمیان اتحاد کے اشارے ملے لیکن دادا بھسے ( وزیرتعلیم و شیوسینا شندے ) اور بی جے پی کے مقامی لیڈران سنیل گائیکواڑ و بنڈو کاکا بچھاؤ کے درمیان سیاسی سطح پر شدید اختلاف کے سبب بی اور شیوسینا (شندے) میں اتحاد کے بجائے مقابلہ ہونے جا رہا ہے۔
شیوسینا ( یوبی ٹی )سے دس امیدوار نامزد
اس الیکشن میں سب سے خراب صورتحال شیوسینا (اُدھو) کی نظر آتی ہے۔ آخری دن جیسے تیسے امیدواروں سے پرچےبھروائے گئے۔ ان کی تعداد ۱۰؍ ہے۔ مالیگاؤں کے مغربی حصے میں شیوسینا(شندے) کا دبدبہ برقرار ہے۔ اس پارٹی سے کُل ۲۴؍ امیدوار الیکشن لڑرہے ہیں۔اس صورتحال کا سببیہبتایا جاتا ہے کہ چند مہینے قبل ادوئے آبا ہیرے نے شیوسینا ( اُدھو) کو خیرباد کہہ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور سابقہ اسمبلی الیکشن میں شیوسینا (شندے) کے دادا بھسے سے سخت مقابلے میں ہار جانے والے بنڈو کاکا بچھاؤ نے بی جے پی میں جانے کے بعد حالیہ میونسپل الیکشن میں غیر جانب دار رہنے کا موقف اختیار کیا۔
مالیگاؤں مہاوِکاس اگھاڑی کی تشکیل و سرگرمیاں
کانگریس ،این سی پی (شرد )اورسماج وادی پارٹی سے باہر آئے کچھ لیڈران نے، دونوں کمیونسٹ پارٹیوں کے علاوہ ہم خیال سیاسی شخصیات کے ساتھ مل کر اپنی ایک طاقت ’مالیگاؤں مہا وِکاس اگھاڑی‘ کے نام سے تشکیل دی جس کے بنیادی اراکین جاوید انور(سماج وادی پارٹی گروہ ) اور سلیم رضوی (این سی پی،شردپوار) نے انقلاب سے گفتگو کے دوران کہا کہ اگھاڑی در اصل شہر مالیگاؤں کی سیاست میں تیسری مضبوط سیاسی طاقت بن کر اُبھری ہے۔ رُکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شوبھا بچھاؤ(کانگریس) کی موجودگی میں اگھاڑی کے سبھی لیڈران نے اتفاق رائے سے اس کی کمان اعجاز عزیز بیگ (صدر کانگریس ،مالیگاؤں و سابق چیئرمن مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن اسٹینڈنگ کمیٹی) کے سپرد کی ہے۔
ایس ڈی پی آئی، عام آدمی پارٹی اور مسلم لیگ کا حال
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے ۱۰؍ امیدواروں کو الیکشن لڑانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ اس کیلئے پارٹی کے ذمے دار مشتاق کمال الدین مسلسل محنت بھی کرتے دِکھائی دے رہے ہیں۔عام آدمی پارٹی کے الطاف کرانہ والے میونسپل کارپوریشن الیکشن ڈپارٹمنٹ کی سرگرمیوں میں بطورِ پارٹی صدر شریک رہے۔ سابقہ میونسپل انتخابات میں مسلم لیگ بھی چند امیدواروں کو لیکر میدان میں رہا کرتی تھی۔اس مرتبہ لیگ کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔اس کے قائد سمیع اللہ انصاری ( ایڈیٹر ہفت روزہ ہاشمی آواز و سابق رکن بلدیہ ) پیرانہ سالی کے باعث متحرک نہ رہے۔ فی الحال مجلس اور سیکولر فرنٹ آمنے سامنے نظر آ رہے ہیں۔