رام چرن اور جھانوی کپور کی فلم ’’پیدی‘‘ کو ریلیز ہوئے دو دن ہو گئے ہیں۔ اس دوران فلم تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔ جھانوی کپور کے کردار اور کچھ رومانوی مناظر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: June 07, 2026, 7:07 PM IST | Mumbai
رام چرن اور جھانوی کپور کی فلم ’’پیدی‘‘ کو ریلیز ہوئے دو دن ہو گئے ہیں۔ اس دوران فلم تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔ جھانوی کپور کے کردار اور کچھ رومانوی مناظر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
رام چرن اور جھانوی کپور کی فلم ’’پیدی‘‘ کو ریلیز ہوئے دو دن ہو گئے ہیں۔ اس دوران فلم تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔ جھانوی کپور کے کردار اور کچھ رومانوی مناظر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ڈائریکٹر بوچی بابو سانانے وضاحت جاری کرتے ہوئے اس تنازع پر معافی مانگ لی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ڈائریکٹر نے کہا کہ سنیما کا کردار ناظرین کو تفریح، حوصلہ افزائی اور ان سے جڑنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی بے چینی یا توہین محسوس نہیں کرانی چاہیے۔ہم نے ’’پیدی‘‘ کے کچھ مناظر کے بارے میں رائے سنی ہے اور اسے سنجیدگی سے لیا ہے۔‘‘
بوچی بابو سانا نے مزید لکھا’’ہم نے ہمیشہ خواتین کا احترام کیا ہے، چاہے وہ اسکرین پر ہو یا آف اسکرین ، ہم نے کبھی بھی کسی خاتون کردار کو اعتراض یااس کی بے عزتی کرنے کا ارادہ نہیں کیا، اگر فلم کے کسی حصے سے ایسا تاثر ہوا ہے تو ہم ان جذبات کا احترام کرتے ہیں اور دل سے معذرت خواہ ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:رونالڈو، میسی، صلاح اور نیمار اپنے آخری ورلڈ کپ کو یادگار بنانے کی کوشش کریں گے
ہدایت کار نے واضح کیا کہ انہوں نے فیڈ بیک کا جائزہ لینے کے بعد فلم کے متعلقہ حصوں میں تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا’’سنیما سامعین کے ساتھ اپنے تعلق سے پروان چڑھتا ہے۔ کہانی سنانے والے کے طور پر، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بدلتے ہوئے رویوں اور حساسیت کو ذہن میں رکھیں۔ ہر عورت کو عزت، قدر اور وقار کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:’میڈ ان انڈیا: اے ٹائٹن اسٹوری‘ ایک برانڈ کی نہیں لگن اور محنت کی کہانی ہے
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایسی کہانیاں تخلیق کرنے کے لیے پرعزم ہیں جن میں مضبوط خواتین کرداروں کو اسکرین پر بہترین روشنی میں پیش کیا جائے۔ ڈائریکٹر نے ہر ایک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی ایماندارانہ رائے کا اظہار کیا۔ اسپورٹس ایکشن ڈرامہ ’’پیدی‘‘ ۴؍ جون کو ریلیز کیا گیا تھا۔ فلم باکس آفس پر ہٹ ہونے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم ہیروئن کے کردار، ہراساں کیے جانے اور کچھ مناظر میں رضامندی نہ ہونے کی وجہ سے اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔