Updated: April 07, 2026, 6:10 PM IST
| Los Angeles
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی فلمی صنعت، خاص طور پر ہالی ووڈ کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، لاجسٹک مسائل اور شوٹنگ میں تاخیر کے باعث پروڈکشن لاگت بڑھ رہی ہے۔ کئی فلموں کی شوٹنگ متاثر ہوئی جبکہ عالمی تقریبات اور فیسٹیولز بھی ملتوی ہو رہے ہیں، جس سے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے جہاں عالمی سیاست اور معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، وہیں اس کے اثرات اب فلمی دنیا تک بھی واضح طور پر پہنچنے لگے ہیں۔ ہالی ووڈ سمیت عالمی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اس بحران کے باعث بڑھتے ہوئے اخراجات، لاجسٹک رکاوٹوں اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔ اس جنگ کا سب سے فوری اثر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے، جو آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث ۱۰۰؍ سے ۱۱۰؍ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔ چونکہ فلمی پروڈکشن کا بڑا انحصار ایندھن پر ہوتا ہے،جس میں ٹرانسپورٹ، جنریٹرز اور آن لوکیشن شوٹنگ شامل ہیں،اس اضافے نے براہ راست فلم سازی کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایندھن عام طور پر پروڈکشن بجٹ کا تقریباً ۰ء۵؍ فیصد حصہ ہوتا ہے، تاہم حالیہ اضافہ مجموعی اخراجات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’گول مال ۵‘‘ میں رومانوی زاویہ ختم، ہیروئن نہیں ہوگی
لاجسٹک سطح پر بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں محدود فضائی حدود کی وجہ سے بین الاقوامی سفر متاثر ہوا ہے، جس سے یورپ اور ایشیا کے درمیان ہونے والی شوٹنگز میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ایک اسرائیلی پروڈیوسر نے دی ہالی ووڈ رپورٹر کو بتایا کہ ’’ہم صرف سائرن کے درمیان شوٹنگ جاری رکھتے ہیں،‘‘ جو اس صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اثرات صرف ہالی ووڈ تک محدود نہیں رہے۔ ہندوستانی فلم انڈسٹری بھی متاثر ہوئی ہے، جہاں شاہ رخ خان کی ’’کنگ‘‘ کی دبئی میں شوٹنگ کشیدگی کے باعث منسوخ کر دی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر فلمی پروجیکٹس اس بحران سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کیا نورا فتحی فیفا ۲۰۲۶ء میں پرفارم کریں گی؟
ریلیز حکمت عملی پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہیں۔ اگر کسی فلم کی شوٹنگ تاخیر کا شکار ہوتی ہے تو اس کی ریلیز بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے باکس آفس کلیکشن پر اثر پڑ سکتا ہے۔ کئی اسٹوڈیوز غیر مستحکم مارکیٹس میں تھیٹر ریلیز کے بجائے ڈجیٹل پلیٹ فارمز کا رخ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ کیلیفورنیا اور لاس اینجلس یونیورسٹی کے ایک فلمی مورخ نے وینٹی فیئر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’جنگیں مارکیٹوں کو نئی شکل دیتی ہیں‘‘، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ بحران طویل مدتی صنعتی فیصلوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ جنگ کے اثرات عالمی ثقافتی تقریبات پر بھی پڑ رہے ہیں۔ سعودی فلم فیسٹیول کا ۱۲؍ واں ایڈیشن، جو اپریل میں ہونا تھا، اب جون کے آخر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی میوزک ایونٹس بھی متاثر ہوئے ہیں، جن میں شکیرا کا ہندوستان ٹور، کینیے ویسٹ کا دہلی کنسرٹ، اور ابوظہبی میں ہونے والا آف لمٹس فیسٹیول شامل ہیں، جو فی الحال ملتوی کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جیلر۲: رجنی کانت کی ’’جیلر ۲‘‘ کے لیے شاہ رخ خان کی بڑی تیاری
مبصرین کے مطابق اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو فلمی صنعت کو مزید شدید مالی دباؤ، پروڈکشن میں سست روی اور عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ موجودہ حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اب صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی ثقافت اور تفریحی صنعت کو بھی براہ راست متاثر کر رہے ہیں۔