Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ: ٹرمپ کی سخت دھمکیاں، ایران پر ممکنہ حملوں پر عالمی توجہ

Updated: April 07, 2026, 7:03 PM IST | Washington

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو کم وقت میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق ڈیڈ لائن کے قریب آنے پر کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اسرائیل ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کیلئے امریکی فیصلے کا انتظار کر رہا ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مخصوص حالات میں حملہ مؤخر بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان پیش رفتوں کے ساتھ خطے میں فوجی تیاریوں اور سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

A 6-story Israeli house was destroyed in an Iranian missile attack. Photo: PTI
ایرانی میزائیل کے حملے میں ایک ۶؍ منزلہ اسرائیلی گھر تباہ۔ تصویر: پی ٹی آئی

(۱) ٹرمپ کا دعویٰ: ’ایران کو ایک رات میں ختم کیا جا سکتا ہے‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو ’’ایک رات میں ختم کیا جا سکتا ہے۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی بڑھ رہی ہے اور امریکی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم ایران کے ساتھ جو چاہیں کر سکتے ہیں، اور یہ بہت تیزی سے ہو سکتا ہے۔‘‘ رپورٹس کے مطابق اس بیان کے بعد امریکی سیاسی حلقوں اور عالمی سطح پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض قانون سازوں نے اس بیان پر تشویش ظاہر کی اور ممکنہ نتائج پر سوالات اٹھائے۔

یہ بھی پرھئے: ایران جنگ: ٹرمپ کی دھمکیوں پر عالمی ردعمل، جنگی قوانین اور شہری تحفظ پر زور

(۲) ٹرمپ کی ڈیڈ لائن قریب، اسرائیل بڑے تنازع کی تیاری میں مصروف: اسرائیلی میڈیا
اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کیلئے دی گئی ڈیڈ لائن کے قریب آنے کے ساتھ اسرائیل نے ممکنہ بڑے تنازع کیلئے تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی دفاعی اداروں نے ہائی الرٹ جاری کیا ہے اور اہم تنصیبات کی سیکوریٹی بڑھا دی گئی ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’اسرائیل ممکنہ امریکی فیصلے کے بعد فوری ردعمل کیلئے تیار ہے۔‘‘ ذرائع کے مطابق فوجی اور دفاعی یونٹس کو متحرک کر دیا گیا ہے جبکہ شہری علاقوں میں بھی احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

(۳) اسرائیل ایرانی توانائی و بنیادی ڈھانچے کے اہداف پر ٹرمپ کے فیصلے کا منتظر
رپورٹس کے مطابق اسرائیل ایران کے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے متعلق امریکی فیصلے کا انتظار کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ممکنہ اہداف میں پاور پلانٹس، آئل تنصیبات اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک شامل ہو سکتے ہیں۔ ایک رپورٹ کہتی ہے کہ ’’اسرائیل امریکی فیصلے کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہا ہے۔‘‘ امریکی حکام نے اس حوالے سے کوئی حتمی اعلان نہیں کیا، تاہم مختلف آپشنز زیر غور ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی سوشل میڈیا پر بیان بازی پر امریکی سیاستداں برہم

(۴) رپورٹ: مخصوص حالات میں ایران پر حملہ مؤخر کیا جا سکتا ہے
رپورٹس کے مطابق ایران پر ممکنہ امریکی حملہ مخصوص حالات میں مؤخر کیا جا سکتا ہے، جس کا انحصار زمینی صورتحال اور سفارتی پیش رفت پر ہوگا۔ ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ نے بعض شرائط کے تحت فوجی کارروائی کو مؤخر رکھنے کا آپشن بھی زیر غور رکھا ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر حالات سازگار ہوئے تو حملے کو مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود فوجی تیاریوں میں کمی نہیں کی گئی اور تمام آپشنز برقرار رکھے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK