Updated: April 07, 2026, 8:04 PM IST
| Tehran
ایران نے امریکی دھمکیوں کے بعد داخلی سطح پر سخت ردعمل اور عوامی متحرک کاری کو فروغ دیا ہے۔ حکام نے شہریوں سے اہم توانائی تنصیبات کے تحفظ کیلئے متحرک ہونے کی اپیل کی ہے، جبکہ صدر نے بڑے پیمانے پر قومی دفاع کیلئے آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس کے ساتھ ایران نے امریکی بیانات پر سیاسی ردعمل دیتے ہوئے عوام کو جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔ سفارتی سطح پر پاکستان کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے، جہاں جاری رابطوں کو ایک حساس مرحلہ کہا جا رہا ہے۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای۔ تصویر: ایکس
(۱) ایرانی صدر کا پیغام: ۱۴؍ ملین افراد قربانی کیلئے تیار
ایرانی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تقریباً ۱۴؍ ملین افراد قومی دفاع کیلئے تیار ہیں اور ضرورت پڑنے پر قربانی دینے سے گریز نہیں کریں گے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت بیانات دیے ہیں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ایرانی عوام اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا جواب دیں گے۔‘‘
رپورٹس کے مطابق اس اعلان کے بعد مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات دیکھنے میں آئے، جہاں شہریوں نے حکومتی مؤقف کی حمایت کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق بعض علاقوں میں رضاکارانہ رجسٹریشن مہم بھی شروع کی گئی ہے، جس میں شہری دفاعی سرگرمیوں میں حصہ لینے کیلئے نام درج کرا رہے ہیں۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ قومی سطح پر یکجہتی برقرار ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: ٹرمپ کی دھمکیوں پر عالمی ردعمل، جنگی قوانین اور شہری تحفظ پر زور
(۲) ایران کی نوجوانوں سے اپیل: پاور پلانٹس کے گرد انسانی زنجیریں بنائیں
ایرانی حکام نے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کے اہم پاور پلانٹس اور توانائی تنصیبات کے گرد انسانی زنجیریں بنا کر ان کا تحفظ کریں۔ یہ اپیل ٹرمپ کی جانب سے ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ قومی اثاثوں کے تحفظ کیلئے میدان میں آئیں اور اہم تنصیبات کے گرد انسانی ڈھال قائم کریں۔‘‘
رپورٹس کے مطابق تہران، اصفہان اور دیگر بڑے شہروں میں شہریوں نے پاور پلانٹس کے باہر جمع ہو کر زنجیریں بنائیں، جبکہ سیکوریٹی اداروں نے بھی حفاظتی اقدامات بڑھا دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکام نے ان اجتماعات کو منظم کرنے کیلئے مقامی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں، جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اضافی وسائل بھی مختص کیے گئے ہیں۔
(۳) ایران کا ردعمل: ’امریکی عوام کو ٹرمپ کو جوابدہ ٹھہرانا چاہئے‘
ایرانی حکام نے امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی عوام کو اپنے صدر کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ٹرمپ کے بیانات عالمی امن کیلئے خطرہ ہیں اور امریکی عوام کو چاہیے کہ وہ ان پالیسیوں پر سوال اٹھائیں۔‘‘ رپورٹس کے مطابق یہ بیان ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی کی بات کی تھی۔ ایرانی ذرائع کے مطابق اس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر بھی ردعمل سامنے آ رہا ہے اور مختلف ممالک نے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی دھمکیاں نظر انداز، ایران ہرمز کونہ کھولنے پر قائم
(۴) ایران کا مؤقف: امن مذاکرات میں پاکستان کا کردار اہم مرحلے میں داخل
ایرانی حکام نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان کا کردار ایک اہم اور حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطوں میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔ ایک رپورٹ کہتی ہے کہ ’’پاکستان کی ثالثی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور رابطے جاری ہیں۔‘‘ ایرانی حکام نے اس عمل کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتی حل کیلئے کوششیں جاری رہیں گی۔ رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بیک چینل رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔