• Mon, 02 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت سے متعلق چونکا دینے والی پیشگوئی

Updated: February 02, 2026, 7:03 PM IST | New York

دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی نے ایک بار پھر ٹیکنالوجیکل سنگولیریٹی سے متعلق خدشات اور بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ معروف ارب پتی شخصیت ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانیت سنگولیریٹی کے ابتدائی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اے آئی انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔

Elon Musk.Photo:INN
ایلون مسک۔ تصویر:آئی این این

دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی نے ایک بار پھر ٹیکنالوجیکل سنگولیریٹی سے متعلق خدشات اور بحث کو جنم دے دیا ہے۔  ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ معروف ارب پتی شخصیت ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانیت سنگولیریٹی کے ابتدائی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اے آئی انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔ 
اسپیس ایکس اور ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر کہا ہے کہ ہم سنگولیریٹی کے آغاز میں ہیں۔  
ایلون مسک کے مطابق اس وقت انسان سورج کی طاقت کا ایک اربواں حصہ بھی استعمال نہیں کر رہا جو مستقبل میں اے آئی کی بے پناہ ترقی کی طرف اشارہ ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ایلون مسک نے اس موضوع پر بات کی ہو۔ 
گزشتہ ماہ بھی اُنہوں نے ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ہم سنگولیریٹی میں داخل ہو چکے ہیں اور ۲۰۲۶ء سنگولیریٹی کا سال ہو گا۔  ایلون مسک کے اس بیان نے دنیا بھر میں ایک بڑی تکنیکی تبدیلی کے امکانات کو مزید تقویت دی ہے۔  ادھر ایک نئے وائرل اے آئی پلیٹ فارم مولٹ بُک  نے بھی سنگولیریٹی سے متعلق قیاس آرائیوں کو ہوا دی ہے، یہ ایک ریڈٹ طرز کی ایجنٹک اے آئی ویب سائٹ ہے جہاں صرف مصنوعی ذہانت ہی پوسٹ، تبصرے اور ووٹنگ کر سکتی ہے جبکہ انسان صرف تماشائی ہوتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:رنجی ٹرافی کوارٹر فائنل: ممبئی کے اسکواڈ کا اعلان، مشیر اور سرفراز خان بھی شامل

اس پلیٹ فارم پر اے آئی کمیونٹیز، مذہب اور حتیٰ کہ انسانوں کے خاتمے جیسے موضوعات پر گفتگو کرتی نظر آتی ہے۔  واضح رہے کہ سنگولیریٹی کا تصور پہلی بار ۱۹۵۰ء کی دہائی میں ماہرِ ریاضی جان وان نیومن نے پیش کیا تھا جبکہ ۲۰۰۵ء میں رے کرزویل کی کتاب دی سنگولیریٹی اِز نیئر کے بعد یہ نظریہ عالمی سطح پر مقبول ہوا۔ 
رے کرزویل نے ۲۰۲۴ء میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مستقبل میں انسان اور مشین کی ذہانت ایک دوسرے میں ضم ہو جائے گی اور ۲۰۴۵ء تک انسانی شعور میں لاکھوں گنا اضافہ ہو گا۔  ماہرین کے مطابق `سنگولیریٹی  وہ تاریخی لمحہ ہوگا جب اے آئی نہ صرف انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑ دے گی بلکہ خود کو بہتر بنانے کی صلاحیت بھی حاصل کر لے گی جس کے بعد ترقی کی رفتار غیر متوقع حد تک تیز ہو سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:انوراگ کشیپ کی ’’کینیڈی‘‘ اسی ماہ زی فائیو پر ریلیز ہوگی

ماہرین کے مطابق اس مرحلے کے بعد اے آئی کی ترقی کی رفتار اتنی تیز ہو جائے گی کہ انسان اس پر مکمل کنٹرول یا اس سے متعلق پیش گوئی نہیں کر سکے گا، اس دوران مشینیں ناصرف سیکھیں گی بلکہ اپنے فیصلے خود بہتر بنانے لگیں گی جس سے ٹیکنالوجی، معیشت، طب، تعلیم اور روزمرہ زندگی میں انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK