Updated: July 03, 2026, 9:11 PM IST
| Mumbai
اداکار فیصل خان نے کہا ہے کہ ان کے اور عامر خان سمیت پورے خاندان کے درمیان طویل عرصے سے جاری اختلافات ختم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے عامر خان، والدہ اور بہن سے معافی مانگی کیونکہ انہیں احساس ہوا کہ خاندانی معاملات کو عوامی سطح پر لانا درست فیصلہ نہیں تھا۔ فیصل نے بتایا کہ اتر پردیش میں آبائی زمین کے دورے کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے نے انہیں خاندان سے دوبارہ رابطہ کرنے پر آمادہ کیا، جس کے بعد تمام شکایات ختم ہو گئیں اور اب وہ خاندان کے ساتھ امن کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
فیصل خان اور عامر خان۔ تصویر: آئی این این
اداکار فیصل خان نے کہا ہے کہ ان کے اور ان کے بڑے بھائی، بالی ووڈ اداکار عامر خان کے درمیان طویل عرصے سے جاری اختلافات ختم ہو گئے ہیں اور اب خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات دوبارہ بحال ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ماضی میں خاندان سے متعلق معاملات پر عوامی طور پر گفتگو کرنا ان کی غلطی تھی، جس پر انہوں نے اپنے اہل خانہ سے معافی مانگ لی ہے۔ فیصل خان، جنہوں نے ۲۰۰۰ء میں فلم ’’میلہ‘‘ کے ذریعے فلمی دنیا میں قدم رکھا تھا، نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل وہ اتر پردیش میں اپنے آبائی شہر شاہ آباد گئے تھے تاکہ خاندان کی آبائی زمین کا جائزہ لے سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کاشتکاری کا ارادہ رکھتے تھے اور اسی سلسلے میں یہ جاننا چاہتے تھے کہ خاندانی جائیداد میں ان کا ممکنہ حصہ کیا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران انہیں معلوم ہوا کہ خاندان کی بعض زمینوں پر ناجائز قبضہ کیا جا چکا ہے، جن میں عامر خان کی ملکیت کی زمین بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رجنی کانت کی ’’جیلر۲‘‘ اکتوبر میں سنیما گھروں کی زینت بنے گی
فیصل نے کہا کہ ’’جب میں وہاں تھا تو لوگوں نے مجھے عامر کی زمین اور خاندان کی دوسری زمینوں کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے میرے پردادا کی قبر بھی دکھائی، جہاں میں نے فاتحہ پڑھی۔ اس کے بعد معلوم ہوا کہ عامر کی کچھ زمین پر دوسروں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ درست نہیں ہے، اور اب جب مجھے اس کا علم ہو گیا ہے تو مجھے ان کی جائیداد کی حفاظت کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ان کی عامر خان سے بات چیت بند تھی، جس کی وجہ سے وہ خود کو ایک مشکل صورتحال میں محسوس کر رہے تھے۔
ان کے مطابق، ’’میں خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا کیونکہ لوگ اس بات کا فائدہ اٹھا رہے تھے کہ عامر اور میں ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے۔ مجھے لگا کہ جب کوئی مشکل میں ہوتا ہے تو لوگ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘ فیصل نے بتایا کہ اسی احساس کے بعد انہوں نے خاندان سے دوبارہ رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا اور سب سے پہلے اپنی بہن کو فون کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے معاملات کو سلجھانے کی طرف پہلا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا کیونکہ خاندان سے الگ ہونے کا فیصلہ بھی میں نے ہی کیا تھا۔‘‘ ان کے مطابق، فون پر بات کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ ان کی والدہ کی طبیعت ناساز ہے، جس پر وہ جذباتی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’رامائن: پارٹ وَن‘‘ کا مبینہ لیک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل
انہوں نے کہا کہ ’’یہ سن کر میں بہت رویا۔ میں گہرے صدمے میں تھا کیونکہ میں نے کافی عرصے سے خاندان سے رابطہ نہیں رکھا تھا۔‘‘ فیصل نے بتایا کہ والدہ سے گفتگو کے بعد وہ اگلے ہی دن ممبئی واپس آ گئے تاکہ خاندان سے ملاقات کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کے بعد انہیں احساس ہوا کہ زندگی میں خاندان ہی سب سے مضبوط رشتہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے محسوس ہوا کہ خاندان کے ساتھ تعلق ہی اصل تعلق ہوتا ہے۔ میں جو غصہ اپنے دل میں رکھے ہوئے تھا، شاید وہ میرے اپنے درد کا نتیجہ تھا۔ چند ماہ پہلے جو انٹرویو میں نے دیا، اس میں کچھ ایسی باتیں سامنے آئیں جن پر مجھے عوامی سطح پر نہیں بلکہ ذاتی طور پر بات کرنی چاہیے تھی۔ اس انٹرویو کے بعد خاندان مزید ٹوٹ گیا، اور اب مجھے احساس ہے کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد انہوں نے عامر خان سے بات کی اور ان سے معذرت کی، بقول فیصل ’’میں نے عامر سے کہا کہ مجھے افسوس ہے، مجھے یہ سب عوامی طور پر نہیں کہنا چاہیے تھا، یہ میری بہت بڑی غلطی تھی۔‘‘ فیصل نے بتایا کہ انہوں نے اپنی والدہ، بڑی بہن نکہت خان اور ان کے شوہر سے بھی معافی مانگی۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کے ہر فرد نے انہیں کھلے دل سے قبول کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ انہوں نے ماضی میں خود عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ ان کے خاندان سے تعلقات ختم ہو چکے ہیں، اس لیے اب یہ بتانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ تمام اختلافات ختم ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سنی دیول اور اکشے کھنہ کا ’اکّا‘ میں ایک ساتھ آنا، واقعی خدا کا منصوبہ ہے: سِدھارتھ
فیصل خان نے مزید کہا کہ ’’اب میری تمام شکایات ختم ہو چکی ہیں۔ مجھے احساس ہوا کہ مجھے ماضی کے کسی واقعے کا جواب نہیں چاہیے۔ میں یہ ثابت نہیں کرنا چاہتا کہ میں صحیح تھا یا کوئی اور غلط تھا، کیونکہ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنا ہی بہتر ہے۔ سچائی سے زیادہ میرے لیے اپنے خاندان کے ساتھ امن اہم ہے۔‘‘ فیصل خان اور ان کے خاندان کے درمیان اختلافات پہلی مرتبہ ۲۰۰۷ء میں منظر عام پر آئے تھے، جب وہ مبینہ طور پر دو روز تک لاپتہ رہے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے پونے میں پولیس شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ عامر خان نے انہیں گھر میں محدود رکھا اور ذہنی بیماری کا تاثر دینے کی کوشش کی۔ بعد کے برسوں میں بھی فیصل مختلف مواقع پر خاندان سے اختلافات کا ذکر کرتے رہے۔
اگست ۲۰۲۵ء میں انہوں نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ انہوں نے تمام خاندانی تعلقات ختم کر دیے ہیں۔ انہوں نے اس وقت لکھا تھا کہ ’’بھاری دل لیکن نئی ہمت کے ساتھ میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں نے تمام خاندانی تعلقات ختم کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ مشکل ضرور ہے لیکن میری شفا اور ذاتی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔‘‘ بعد ازاں ایک انٹرویو میں فیصل نے یہ بھی بتایا تھا کہ عامر خان ان کی مالی مدد کر رہے ہیں اور انہیں ماہانہ اخراجات کے لیے رقم دیتے ہیں۔ اس بیان کے چند روز بعد عامر خان کے خاندان نے بھی ایک سرکاری بیان جاری کیا تھا جس میں فیصل کے الزامات کو ’’تکلیف دہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ فیصل کی صحت سے متعلق تمام فیصلے متعدد طبی ماہرین کے مشورے سے، محبت اور ہمدردی کے جذبے کے تحت کیے گئے تھے۔
اب فیصل خان نے کہا ہے کہ انہیں ایک سرکاری اسپتال سے اپنی ذہنی صحت کے حوالے سے کلیئرنس بھی مل چکی ہے اور انہوں نے اپنے ماضی کے رویے پر خاندان سے معافی مانگ لی ہے۔ ان کے مطابق اب وہ ماضی کے اختلافات کو پیچھے چھوڑ کر صرف خاندان کے ساتھ پرامن تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔