فیم گروکل ۲۰۰۵ء میں ججز کے تحفظات کے باوجود قاضی توقیر عوام کے پسندیدہ بن گئے تھے؛ ایس ایم ایس ووٹنگ میں ایک پیغام کی قیمت ۶؍ روپے تھی، موجودہ ’’بگ باس ۲۰‘‘ نے ۲۱؍ سال پرانی مقبولیت کی کہانی پھر زندہ کردی۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 9:41 PM IST | Mumbai
فیم گروکل ۲۰۰۵ء میں ججز کے تحفظات کے باوجود قاضی توقیر عوام کے پسندیدہ بن گئے تھے؛ ایس ایم ایس ووٹنگ میں ایک پیغام کی قیمت ۶؍ روپے تھی، موجودہ ’’بگ باس ۲۰‘‘ نے ۲۱؍ سال پرانی مقبولیت کی کہانی پھر زندہ کردی۔
آج کے سوشل میڈیا، انسٹاگرام اور آن لائن ووٹنگ کے دور سے تقریباً ۲۱, سال پہلے قاضی توقیر نے ٹیلی ویژن ریئلٹی شو فیم گروکل کے ذریعے ایسی مقبولیت حاصل کی تھی جس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے مداحوں نے انہیں مقابلے میں برقرار رکھنے اور بالآخر فاتح بنانے کے لیے ۱۱,کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے تھے۔ ۲۰۰۵ءمیں عوامی ووٹنگ کے لیے بنیادی ذریعہ ایس ایم ایس تھا، اور قاضی کی مقبولیت نے شو کے ججز کے ابتدائی تحفظات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ قاضی توقیر اب ’’بگ باس ۲۰‘‘ میں بطور امیدوار دوبارہ ٹیلی ویژن پر موجود ہیں۔ شو کا آغاز ۶؍ ستمبر ۲۰۲۶ءکو ہوا اور ان کی شرکت نےفیم گروکل کے دور کو ایک بار پھر خبروں میں لا دیا۔ موجودہ نسل کے بہت سے ناظرین کے لیے قاضی شاید نیا چہرہ ہوں، لیکن ۲۰۰۵ء میں وہ ملک کے مقبول ترین ریئلٹی شو ستاروں میں شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے:حسرت جے پوری، راج کپور کی مشہور جوڑی کا حصہ تھے
فیم گروکل میں قاضی کو ابتدا ہی سے ججز کی مکمل حمایت حاصل نہیں تھی۔کے کے، شنکر مہادیون اور جاوید اختر ججز کے پینل میں شامل تھے، اور اس وقت کی رپورٹس میں قاضی کی گلوکاری پر ججز کے تحفظات کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود ناظرین مسلسل انہیں ووٹ دیتے رہے۔ ۲۰۰۵ء کی ایک رپورٹ میں قاضی نے خود حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا، ’’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ مجھے بار بار موقع کیوں مل رہا ہے۔‘‘ انہوں نے اس مقبولیت کو ناظرین کی محبت سے جوڑا تھا۔ اس دور میں قاضی کو ووٹ دینے کے لیے ایک ایس ایم ایس کی قیمت ۶؍ روپے تھی۔ ان کی حمایت میں آنے والے پیغامات کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ شو کے دوران ان کے لیے مداحوں کے خرچ کی مجموعی رقم غیر معمولی سطح تک پہنچ گئی۔ اسی عوامی حمایت نے انہیں مسلسل کئی مراحل سے گزارا، حالانکہ ججز کی رائے ہمیشہ ان کے حق میں نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ’گووندا جیسا کوئی نہیں، میری ان کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ادھوری رہ گئی‘: دلجیت
۲۰؍ اکتوبر ۲۰۰۵ء کو فیم گروکل کے فائنل میں قاضی توقیر اور روپ ریکھا بینرجی کو مشترکہ فاتح قرار دیا گیا، جبکہ ریکس ڈی سوزا تیسرے فائنلسٹ تھے۔ دونوں فاتحین کو سونی کی جانب سے موسیقی کا معاہدہ اور ماروتی الٹو کار دی گئی۔ فائنل کے لیے سونی کو ۸۷؍ لاکھ سے زیادہ ایس ایم ایس موصول ہونے کی اطلاع بھی اس وقت سامنے آئی تھی۔ قاضی کی کہانی کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اسی فیم گروکل میں اریجیت سنگھ بھی شریک تھے۔ اریجیت فائنل سے پہلے شو سے باہر ہوگئے تھے، جبکہ قاضی فاتح بنے۔ دونوں نے اس کے بعد بھی دوستی برقرار رکھی۔ اب ۲۱؍ سال بعد اریجیت سنگھ خود ’’بگ باس ۲۰‘‘ دیکھ رہے ہیں اور انہوں نے قاضی کو سوشل میڈیا پر ’’اپنا راک اسٹار‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کی حمایت کی ہے۔
’’بگ باس ۲۰‘‘ میں قاضی نے حال ہی میں اپنے فیم گروکل کے دنوں کے بارے میں ایک دلچسپ اعتراف بھی کیا۔ ایک حالیہ ایپی سوڈ میں انہوں نے گانا گانے کے بعد کہا کہ ’’لیکن میں اچھا نہیں گاتا تھا اُس وقت‘‘۔ یہ اعتراف اس لیے بھی نمایاں ہوا کہ وہ اسی گلوکاری کے مقابلے میں اریجیت سنگھ سمیت کئی امیدواروں کو پیچھے چھوڑ کر فاتح بنے تھے۔ فیم گروکل کے بعد قاضی کچھ عرصے کے لیے ٹیلی ویژن کی مرکزی توجہ سے دور ہوگئے، لیکن ۲۰۲۶ء میں بگ باس کے ذریعے ان کی واپسی نے ان کے پرانے مداحوں کے ساتھ ساتھ نئے ناظرین کی توجہ بھی حاصل کی ہے۔ موجودہ شو میں ان کے انداز اور شخصیت پر ناظرین کے ردعمل مختلف ہیں، لیکن ان کی شرکت نے ۲۰۰۵ء کے اس دور کی یاد ضرور تازہ کردی ہے جب ایک ٹی وی مقابلے کے امیدوار کے لیے مداحوں کی ایس ایم ایس ووٹنگ کروڑوں روپے کے خرچ تک پہنچ گئی تھی۔