Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا کا یوٹرن: شائقین پر ’’ری یوز ایبل واٹر بوٹل‘‘ لانے پر پابندی

Updated: June 05, 2026, 4:06 PM IST | Mexico City

فیفا نے اپنی سابقہ پالیسی واپس لیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ۲۰۲۶ء ورلڈ کپ کے دوران شائقین اسٹیڈیم میں دوبارہ قابلِ استعمال پانی کی بوتلیں نہیں لا سکیں گے۔ چند ہفتے قبل تک خالی اور شفاف بوتلوں کی اجازت دی گئی تھی، تاہم نظرثانی شدہ ضابطۂ اخلاق میں یہ سہولت ختم کر دی گئی ہے۔ شدید گرمی اور مہنگے پانی کی قیمتوں کے خدشات کے باعث اس فیصلے پر تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ فیفا کا مؤقف ہے کہ پابندی کا مقصد حفاظتی خطرات کو کم کرنا ہے۔

FIFA World Cup 2026. Photo: INN
فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء۔ تصویر: آئی این این

فیفا نے ۲۰۲۶ء ورلڈ کپ کے لیے اپنی پہلے سے اعلان کردہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے شائقین پر اسٹیڈیم کے اندر دوبارہ قابلِ استعمال پانی کی بوتلیں لانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ صرف تین ہفتے قبل جاری کردہ آفیشل اسٹیڈیم کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق شائقین کو ایک لیٹر تک کی خالی، شفاف اور دوبارہ قابلِ استعمال پلاسٹک بوتلیں اسٹیڈیم میں لے جانے کی اجازت تھی۔ تاہم تازہ ترین نظرثانی کے بعد یہ سہولت واپس لے لی گئی ہے۔ شائقین کو بھیجے گئے ای میلز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’’فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے اسٹیڈیمز میں دوبارہ قابلِ استعمال پانی کی بوتلوں کی اجازت نہیں ہوگی۔‘‘

۲؍ جون کو جاری کیے گئے نئے ضابطۂ اخلاق میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ ’’کسی بھی قسم کے ابہام سے بچنے کے لیے دوبارہ قابلِ استعمال پانی کی بوتلیں اسٹیڈیم کے اندر نہیں لائی جا سکتیں۔‘‘ اس فیصلے کے نتیجے میں شائقین اب اسٹیڈیم کے اندر موجود واٹر فاؤنٹنز یا ہائیڈریشن اسٹیشنز پر اپنی بوتلیں دوبارہ بھرنے کی سہولت سے محروم ہو جائیں گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خاص طور پر ان شہروں میں تشویش کا باعث بن سکتا ہے جہاں ٹورنامنٹ کے دوران شدید گرمی متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکہ، کنیڈا ا اور میکسیکو میں منعقد ہونے والے ۲۰۲۶ء ورلڈ کپ کے متعدد میچ سخت موسمی حالات میں کھیلے جا سکتے ہیں۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق ٹورنامنٹ کے ۱۰۴؍ میچوں میں سے تقریباً ۲۶؍ ایسے حالات میں ہوں گے جہاں ویٹ بلب گلوب ٹمپریچر ۲۶؍ ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہوگا، جبکہ پانچ میچ ۲۸؍ ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی اوپر کے درجہ حرارت میں کھیلے جانے کا امکان رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فیفا ورلڈ کپ:تمام ۴۸؍ٹیموں کے اسکواڈز کی توثیق

ڈبلیو بی جی ٹی درجہ حرارت، نمی، ہوا کی رفتار اور شمسی تابکاری کو یکجا کر کے گرمی کے دباؤ کی شدت کا اندازہ لگانے والا پیمانہ ہے اور کھیلوں کے مقابلوں میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ فیفا کی ہائیڈریشن پالیسی گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی مرتبہ تبدیل ہو چکی ہے۔ ۱۳؍ مئی کو فیفا نے کہا تھا کہ اگر موسم کی پیش گوئی شدید گرمی کی نشاندہی کرے تو شائقین کو فیکٹری سے بند پانی کی بوتل لانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ تاہم تازہ ترین ضابطوں میں ایسی کسی رعایت کا ذکر موجود نہیں ہے۔

اس وقت صرف بچوں کے دودھ، جراثیم سے پاک پانی اور طبی ضرورت کے تحت استعمال ہونے والے مائعات کو مخصوص دستاویزات کے ساتھ اسٹیڈیم میں لانے کی اجازت دی گئی ہے۔ فیفا نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ’’یہ پابندی کھلاڑیوں اور شرکاء کو ممکنہ خطرات اور چوٹوں سے محفوظ رکھنے کے لیے لگائی گئی ہے۔‘‘ تنظیم کا کہنا ہے کہ کئی میزبان اسٹیڈیمز میں پہلے ہی بیرونی بوتلوں پر پابندی عائد ہے اور عالمی کپ کے دوران بھی یہی حفاظتی اصول نافذ کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ناروے شطرنج: پراگنانندھا نے کارلسن کو دوبارہ شکست دے دی

فیفا کے مطابق میزبان شہروں کے ساتھ مل کر گرمی کے اثرات کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں مسٹنگ اسٹیشنز، کولنگ فینز، اضافی ہائیڈریشن پوائنٹس اور سایہ دار مقامات شامل ہیں۔ اس کے باوجود فٹ بال سپورٹرز اسوسی ایشن نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ تنظیم کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’’یہ ورلڈ کپ شائقین کے لیے نہیں بلکہ منافع کے لیے ہوتا جا رہا ہے۔ گرمی اور نمی شائقین کی صحت کے لیے حقیقی خطرہ ہیں، اور فیفا کو مہنگی بوتلوں میں پانی فروخت کرنے کے بجائے ان کی فلاح و بہبود پر توجہ دینی چاہیے۔‘‘ رپورٹس کے مطابق کئی میزبان شہروں نے بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ انہوں نے گرمی سے نمٹنے اور شائقین کی حفاظت کے لیے پہلے ہی بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ تاہم ورلڈ کپ میچوں کے دوران اسٹیڈیم قوانین کا حتمی اختیار فیفا کے پاس ہی رہے گا۔ گرمی سے نمٹنے کے لیے فیفا پہلے ہی ہر ہاف میں لازمی تین منٹ کے ہائیڈریشن وقفے متعارف کرا چکا ہے، جبکہ کوچز اور متبادل کھلاڑیوں کے لیے موسمیاتی کنٹرول والے خصوصی بینچ بھی فراہم کیے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK