• Tue, 20 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلمساز امتیاز علی نے اے آر رحمان کا دفاع کیا، کہا ان کے بیان کو غلط سمجھا گیا ہے

Updated: January 20, 2026, 6:05 PM IST | Mumbai

اپنے انٹرویو کے بعد اے آر رحمان مسلسل یہ وضاحت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فرقہ وارانہ تعصب سے متعلق ان کے بیانات کا اصل مطلب کیا تھا، جو غلط وجوہات کی بنا پر وائرل ہو گئے تھے۔ یہاں تک کہ انہیں وضاحت کے لیے ایک اضافی بیان بھی جاری کرنا پڑا۔

Imtiaz And Rahman.Photo:INN
امتیاز علی اور اے آر رحمان۔ تصویر:آئی این این

انڈیا ٹوڈے سے بات چیت کرتے ہوئے امتیاز علی نے بالی ووڈ انڈسٹری میں فرقہ وارانہ مسائل پر اے آر رحمان کے تبصروں اور ان کے فنکاروں پر ممکنہ اثرات پر گفتگو کی۔ انہوں نے رحمان کی طرح یہ بھی تسلیم کیا کہ اس طرح کی کوئی ناہمواری موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ  ’’نہیں، مجھے نہیں لگتا کہ فلم انڈسٹری میں کوئی فرقہ وارانہ تعصب ہے۔ میں کافی عرصے سے یہاں ہوں اور میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا  اور اے آر رحمان ان روشن ترین شخصیات میں سے ایک ہیں جن سے میں فلم انڈسٹری میں ملا ہوں۔‘‘
امتیازعلی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موسیقی کے اس پروڈیوسر کا شمار انڈسٹری کی سب سے بڑی شخصیات میں ہوتا ہے  اور  ہندوستانی  سنیما کے اتار چڑھاؤ دیکھنے والے شخص کے طور پر وہ نہیں سمجھتے کہ ایسا کوئی تعصب موجود ہے، خاص طور پر موجودہ دور میں۔

یہ بھی پڑھئے:اگلی فلم شاہ رخ ہی کے ساتھ بناؤں گی: فرح خان

 امتیاز علی نے اے آر رحمان کا دفاع کیا 
امتیاز علی نے اے آر رحمان کے ان تبصروں پر خاص طور پر بات کی جن کے بارے میں خود رحمان نے اعتراف کیا تھا کہ ’’فرقہ وارانہ مسائل‘‘ سے متعلق ان کی بات درست انداز میں نہیں پہنچ پائی اور ان کا مقصد کسی قسم کا تنازع کھڑا کرنا یا نفرت پھیلانا نہیں تھا۔ علی نے اس معذرت کی بھی حمایت کی اور کہا کہ وہ موسیقار کو اتنا اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کبھی کسی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھ سکتے۔‘‘انہوں نے اپنی بات جاری رکھی اور کہاکہ ’’میں درحقیقت یہ نہیں مانتا کہ انہوں نے وہ تمام باتیں کہیں جو ان سے منسوب کی جا رہی ہیں  یا شاید انہیں غلط سمجھا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ انہوں نے وہ باتیں نہیں کہیں جیسا کہ انہیں سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، مجھے کسی ایک واقعہ کی بھی یاد نہیں جہاں کسی قسم کا فرقہ وارانہ تعصب یا دشمنی رہی ہو۔‘‘کئی برسوں تک ساتھ کام کرنے کے بعد، علی کو ایسا کوئی واقعہ یاد نہیں جس میں انہیں بے چینی محسوس ہوئی ہو۔ اسی قسم کی دوستی کی وجہ سے، ابتدائی تنقید کے باوجود، لوگ جلد ہی رحمان کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ مداحوں کی نظر میں ان کی معذرت بھی مخلصانہ محسوس ہوئی  اور انہوں نے ان پر انگلی اٹھاتے رہنے کی کوئی وجہ نہیں دیکھی۔

یہ بھی پڑھئے:ٹی۲۰؍ سیریز: ناگپور میں ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا معرکہ

خیال رہے کہ اپنے انٹرویو کے بعد اے آر رحمان مسلسل یہ وضاحت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فرقہ وارانہ تعصب سے متعلق ان کے بیانات کا اصل مطلب کیا تھا، جو غلط وجوہات کی بنا پر وائرل ہو گئے تھے۔ یہاں تک کہ انہیں وضاحت کے لیے ایک اضافی بیان بھی جاری کرنا پڑا۔انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ایک مسلمان ہونے کے ناتے وہ ہندو دیومالائی فلم رامائن جیسے پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ ایک بالکل مختلف تجربہ تھا، کیونکہ انہیں اپنی جگہ بنانے کے لیے سخت محنت کرنی پڑی۔ موسیقار کے ساتھ پہلے کام کر چکے امتیاز علی نے ان کا دفاع کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK