Updated: April 10, 2026, 8:03 PM IST
| Mumbai
کامیڈین ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ انہیں ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا پڑتا ہے کہ ان کے لطیفوں سے کوئی ناراض نہ ہو۔ حال ہی میں سمئے رائنا نے اپنے انڈیاز گوٹ لیٹنٹ تنازع پر بات کی لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی لطیفے نے سینکڑوں لوگوں کو ناراض کیا ہو۔
منورفاروقی۔ تصویر:آئی این این
کامیڈین ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ انہیں ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا پڑتا ہے کہ ان کے لطیفوں سے کوئی ناراض نہ ہو۔ حال ہی میں سمئے رائنا نے اپنے انڈیاز گوٹ لیٹنٹ تنازع پر بات کی لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی لطیفے نے سینکڑوں لوگوں کو ناراض کیا ہو۔ ہندوستان کے اسٹینڈ اپ کامیڈینز بارہا قانونی مشکلات میں پھنس چکے ہیں، جہاں ان کے لطیفوں کی وجہ سے ایف آئی آر درج ہوئی، گرفتاریاں ہوئیں اور عدالتوں تک معاملات پہنچے۔ مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزامات سے لے کر ہتکِ عزت تک، آئیے دیکھتے ہیں وہ مواقع جب مزاح کسی کامیڈین کو عدالت تک لے گیا۔
جب منور فاروقی کو جیل جانا پڑا
جنوری۲۰۲۱ء میں منور فاروقی کو اندور میں ایک شو کے دوران ایک ایم ایل اے کے بیٹے کی شکایت پر گرفتار کیا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ہندو دیوتاؤں اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بارے میں توہین آمیز لطیفے کیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ منور نے وہ لطیفہ کہا ہی نہیں تھا جس کی بنیاد پر انہیں گرفتار کیا گیا۔ ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ ۲۹۵؍اے (مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا) اور۱۵۳؍اے (گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا) کے تحت ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔ کامیڈین ایک ماہ سے زائد جیل میں رہے، بعد ازاں سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت دی۔
کُنال کامرا کے خلاف ہتکِ عزت کی شکایات
کئی سالوں سے کُنال کامرا کو اپنے سیاسی مزاح کی وجہ سے متعدد قانونی شکایات کا سامنا کرنا پڑا۔ ۲۰۲۵ء میں بھی انہیں شیوسینا کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے بارے میں ان کے تبصروں پر۔ شیوسینا نے قانونی کارروائی کی دھمکی دی اور کچھ کارکنان نے اس مقام کی توڑ پھوڑ بھی کی جہاں شو ریکارڈ ہوا تھا۔ پارٹی کے ۱۲؍لیڈروں کو گرفتار کیا گیا مگر بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ کامرا کے خلاف بھی پولیس کیس درج ہوا، جبکہ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے بیان پر معافی نہیں مانگیں گے۔
ویر داس کا ’’ٹو انڈیاز مونولاگ‘‘ تنازع
۲۰۲۱ءمیں ویر داس اس وقت بڑے تنازع میں آ گئے جب امریکہ میں ان کی پرفارمنس ٹو انڈیاز سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ اس کے بعد ممبئی میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی اور کئی لوگوں نے الزام لگایا کہ اس مونولاگ نے ہندوستان کی توہین کی ہے کیونکہ اس میں سماجی اور سیاسی تضادات کو اجاگر کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس میں بھی ان کے خلاف شکایات درج ہوئیں۔
یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل ۲۰۲۶ء: ہسرنگا کی جگہ ایل ایس جی ٹیم میں شامل ہوئے جارج لِنڈے
کیکو شارداکی گرفتاری (رام رحیم کی نقالی پر)
کپِل شرما کے کامیڈی شوز میں مشہور کِیکو شاردا کو ۲۰۱۶ء میں ہریانہ پولیس نے متنازع مذہبی پیشوا گرومیت رام رحیم سنگھ کی نقل کرنے پر گرفتار کیا۔ ان پر مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام لگا اور آئی پی سی کی دفعہ ۲۹۵؍اے کے تحت ایف آئی آر درج ہوئی۔ انہیں ۱۴؍ دن کی عدالتی حراست میں بھی رکھا گیا۔ تاہم بعد میں کیِکو نے معافی مانگی اور کہا کہ ان کا کسی کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے:ایشین باکسنگ میں ہندوستان کا ڈنکا: ہندوستان نے جیتے ۵؍ طلائی تمغے
اگرما جوشیوا کا شیواجی مجسمہ تنازع
۲۰۲۰ء میں اگرما جوشیوا کے ایک لطیفے نے تنازع کھڑا کر دیا جس میں انہوں نے بحیرۂ عرب میں چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے کے منصوبے پر بات کی تھی۔ ان کے خلاف بھی آئی پی سی کی دفعہ ۲۹۵؍اے اور۱۵۳؍اے کے تحت ایف آئی آر درج ہوئی۔ آن لائن تنقید اور بدسلوکی کے بعد انہوں نے معافی نامہ جاری کیا کہ ’’مجھے بہت افسوس ہے کہ میرے لطیفے سے چھترپتی شیواجی مہاراج کے بہت سے عقیدت مندوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ میں دل سے معذرت خواہ ہوں۔ ویڈیو پہلے ہی ہٹا دی گئی ہے۔ براہ کرم اسے مزید پھیلائیں۔‘‘