• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

لداخ کو ریاست کا درجہ نہیں ملے گا، بلکہ ایک منفرد منتخب باڈی دی جائے گی: حکومت

Updated: September 12, 2026, 10:37 AM IST | New Delhi

مر کزی حکومت کی جانب سے لداخ کو ریاست کا درجہ نہ دینے اور اس کے بجائے ایک منفرد منتخب باڈی قائم کرنے کی تجویز سامنے آنے کے بعد مقامی سول سوسائٹی گروہوں نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اگر ایک ہفتے کے اندر ان کے مطالبات پر کوئی ٹھوس تجویز پیش نہ کی گئی تو وہ دوبارہ احتجاج شروع کریں گے۔

Sonam Wangchuk. Photo: INN
سونم وانگچک۔ تصویر: آئی این این

دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق، لداخ کے چیف سکریٹری آشیش کندرا نے کہا کہ حکومت لداخ کو ریاست کا درجہ دینے یا وہاں قانون ساز اسمبلی قائم کرنے پر غور نہیں کر رہی ہے۔ اس کے بجائے، لداخ کیلئے ایک منفرد ماڈل تیار کیا جا رہا ہے، جس میں آئین کی دفعہ ۳۷۱؍ کے تحت ایک ایسی منتخب باڈی بنائی جائے گی جس کے پاس قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات ہوں گے۔ اس مجوزہ ادارے کے حتمی نام پر فی الحال بات چیت جاری ہے۔واضح رہے کہ اگست ۲۰۱۹ء تک لداخ، سابقہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے جب آئین کی دفعہ ۳۷۰؍کو منسوخ کیا تو ریاست کو دووفاقی علاقوں یعنی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیاجن کا شمارمرکز کے زیرِ انتظام علاقوںمیں کیا جانےلگا۔ 

یہ بھی پڑھئے: پوتن ۲۰۲۸ء تک فوجیوں سے محروم ہوجائیں گے: یوکرینی جاسوسی سربراہ

بعد ازاں جموں و کشمیر کے برعکس لداخ کو بغیر قانون ساز اسمبلی والی یونین ٹیریٹری بنادیا گیا، جس سے مقامی لوگوں میں اپنی زمین، قدرتی وسائل، روزگار اور ثقافتی شناخت کے تحفظ سے متعلق شدید تشویش پیدا ہو گئی۔ اسی کے بعد سے لداخ کے لوگ چار بنیادی مطالبات کر رہے ہیں، جن میں مکمل ریاست کا درجہ، آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت خودمختاری، لیہہ اور کارگل کیلئے الگ لوک سبھا سیٹیں اور مقامی نوجوانوں کیلئے نوکریوں کی بھرتی کا الگ پبلک سروس کمیشن وغیرہ شامل ہیں ۔چیف سکریٹری کے مطابق، لیہہ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس کی قیادت کے ساتھ آئین کی دفعہ ۳۷۱؍ کے تحت اس ڈھانچے پر گفتگو ہوئی ہے، جس کے تحت کئی دیگر ریاستوں کو بھی خصوصی اور انتظامی اختیارات حاصل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں تنظیمیں نمائندوں کے براہِ راست انتخاب کے طریقے پر متفق ہیں اور انہیں مجوزہ باڈی اور موجودہ ہل کونسلو ں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کی باریکیوں کا جائزہ لینے کو کہا گیا ہے، جبکہ اگلے دور کی گفتگو اکتوبر میں ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: طلبہ مظاہرین پر زیادتی معاملہ کی جانچ کمیٹی میںکوئی تبدیلی نہیں ہوگی

تاہم، لداخ کی قیادت اس پیش رفت سے بالکل مطمئن نہیں ہے۔ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، معروف سماجی کارکن سونم وانگچک اور دونوں نمائندہ تنظیموں نے کہا کہ ان کے بنیادی مطالبات پر کوئی حقیقی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور اس بات کی کوئی وضاحت نہیںہےکہ منتخب باڈی کے پاس امن و امان سے متعلق کیا اختیارات ہوں گے۔ سونم وانگچک نے کہا کہ بدھ کو ہونے والی میٹنگ محض ان کی توجہ ہٹانے کی کوشش لگتی ہے، جس کی وجہ سے عوام میں حکومت کے خلاف بے اعتمادی بڑھ رہی ہے۔دریں اثناءسول سوسائٹی گروہوں نے انتباہ دیا ہے کہ اگر مرکزی حکومت نے ایک ہفتے کے اندر ان کے مطالبات کا کوئی واضح اور ٹھوس حل پیش نہ کیا تو وہ ۱۹؍ ستمبر سے ۲۴؍ ستمبر کے درمیان لیہہ سے کارگل تک ایک بڑا احتجاجی مارچ نکالیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK