• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گووندہ کا کرن جوہر پر سخت اعتراض، ’’گووندہ نام میرا‘‘ پر تنازع شدت اختیار کرگیا

Updated: February 10, 2026, 10:00 PM IST | Mumbai

سینئر بالی وڈ اداکار گووندہ نے کرن جوہر کی پروڈیوس کردہ فلم ’’گووندہ نام میرا‘‘ پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم کا نام اور کہانی ان کی ذاتی زندگی کی تضحیک محسوس ہوتی ہے۔ ان کے بیان کے بعد فلمی حلقوں اور سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

بالی ووڈ کے تجربہ کار اور مقبول اداکار گووندہ نے حالیہ انٹرویو میں فلم ساز کرن جوہر پر سخت تنقید کی ہے اور ان کی پروڈکشن میں بننے والی فلم ’’گووندہ میرا نام‘‘ کو اپنے لیے توہین آمیز قرار دیا ہے۔ گووندہ کا کہنا ہے کہ فلم کا نام، کہانی اور بعض مکالمے ان کی ذاتی اور ازدواجی زندگی کی طرف اشارہ کرتے محسوس ہوتے ہیں، جو انہیں کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب گووندہ سے ایک انٹرویو کے دوران ۲۰۲۲ء میں ریلیز ہونے والی اس فلم کے بارے میں سوال کیا گیا۔ اداکار نے واضح انداز میں کہا کہ انہیں اس بات پر شدید اعتراض ہے کہ ان کے نام کو استعمال کرتے ہوئے ایسی فلم بنائی گئی جس میں ازدواجی تنازعات اور غیر سنجیدہ رویے کو مزاح کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق، ’’ہر چیز مذاق کے لیے نہیں ہوتی، خاص طور پر جب بات کسی کی ذاتی زندگی اور عزت کی ہو۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: وشال بھردواج کو ’اَسی‘ کا ٹریلر بے حد پسند آیا، کہا: اسے کہتے ہیں فلمی صحافت

گووندہ نے یہ بھی کہا کہ فلم کا نام محض ایک اتفاق نہیں لگتا بلکہ دانستہ طور پر ایسا رکھا گیا تاکہ توجہ حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے اس عمل کو فلمی مارکیٹنگ کے لیے نامناسب قرار دیا اور کہا کہ اگر کوئی فلم ساز تخلیقی آزادی کی بات کرتا ہے تو اسے دوسروں کے وقار کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔خیال رہے کہ ’’گووندہ نام میرا‘‘ ایک ہلکی پھلکی کامیڈی اور تھریلر فلم کے طور پر پیش کی گئی تھی، جس میں مرکزی کردار وکی کوشل نے ادا کیا تھا، جبکہ فلم میں ازدواجی تعلقات، افیئر اور غلط فہمیوں کو مزاحیہ انداز میں دکھایا گیا۔ تاہم، گووندہ کا مؤقف ہے کہ ان کی عوامی شبیہ اور حقیقی زندگی کو اس طرح کے مواد سے جوڑنا ان کے اور ان کے خاندان کے لیے تکلیف دہ ہے۔ گووندہ نے انٹرویو میں یہاں تک کہا کہ اگر فلم ساز کبھی ان کے سامنے اس موضوع پر بات کرنے آئیں تو وہ انہیں سخت جواب دیں گے، کیونکہ وہ برسوں کی محنت سے کمائی گئی عزت کو مذاق بنتے نہیں دیکھ سکتے۔ ان کے بیان میں جذباتی شدت واضح طور پر محسوس کی گئی، جس نے اس تنازع کو مزید ہوا دی۔

یہ بھی پڑھئے: فلم ’ ’لاہور ۱۹۴۷ء‘‘ کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان

اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ صارفین نے گووندہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کسی سینئر اداکار کے نام کو اس طرح استعمال کرنا اخلاقی طور پر درست نہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ فلم ایک فرضی کہانی ہے اور اسے کسی حقیقی شخصیت سے جوڑ کر دیکھنا مناسب نہیں۔ کئی صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا فلم سازوں کو فلم کے نام رکھنے سے قبل متعلقہ شخص کی حساسیت کا خیال نہیں رکھنا چاہیے۔ اب تک کرن جوہر یا ان کی پروڈکشن کمپنی کی جانب سے گووندہ کے الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم فلمی حلقوں میں اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ تنازع ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ بالی ووڈ میں تخلیقی آزادی اور ذاتی وقار کے درمیان حد کہاں کھینچی جانی چاہیے۔ فی الحال، گووندہ کے سخت مؤقف اور خاموشی اختیار کیے جانے والے فلم سازوں کے باعث یہ معاملہ مزید توجہ حاصل کر رہا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس پر کسی واضح وضاحت یا ردعمل کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK