• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان میں اسٹارلنک: ایلون مسک کی مکیش امبانی پر تنقید تیز

Updated: October 10, 2026, 2:07 PM IST | Mumbai

سوشل میڈیا پر سیاسی اشتہارات اور انتخابی بانڈز کے ذریعے چندہ دینے سے متعلق رپورٹوں کو سامنے لاکر مسک نے ریلائنس گروپ کے سیاسی روابط پر سوالات اٹھائے؛ حکومت نے اسٹارلنک کے معاملے میں امتیازی سلوک کے الزام کو مسترد کیا۔

Elon Musk and Mukesh Ambani. Picture: INN
ایلون مسک اور مکیش امبانی۔ تصویر: آئی این این

ایلون مسک نے ہندوستان میں اپنی سیٹیلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک کی شروعات میں تاخیر کے معاملے پر ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی پر تنقید تیز کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ۲؍ پرانی صحافتی رپورٹوں کے اسکرین شاٹس شیئر کیے ہیں۔ ان میں سے ایک رپورٹ ریلائنس سے مالی تعلق رکھنے والی کمپنی کے ذریعے فیس بک پر بی جے پی کے انتخابی تشہیری مواد کو فروغ دینے سے متعلق ہے، جب کہ دوسری رپورٹ میں ریلائنس سے وابستہ کمپنی کو انتخابی بانڈز کے ذریعے بی جے پی اور شیو سینا کو چندہ دینے والا بتایا گیا ہے۔ ۱۰؍ اکتوبر کو سامنے آنے والی اس پیش رفت کو مسک اور امبانی کے درمیان جاری کاروباری کشمکش کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹیلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک ہندوستان میں تجارتی خدمات شروع کرنے کے لیے ضروری منظوریوں کی منتظر ہے۔ مسک اس تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگا چکے ہیں کہ بااثر کاروباری مفادات ان کی کمپنی کی ہندوستانی بازار میں آمد کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اپنے الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جنترمنتر: احتجاج کا مقام تبدیل، دہلی پولیس کی کارروائیوں کے درمیان اب دلی ہاٹ میں مظاہرہ ہوگا

الجزیرہ کی ۲۰۲۲ء کی رپورٹ میں کیا تھا؟
مسک کی جانب سے شیئر کی گئی پہلی رپورٹ الجزیرہ نے ۱۴؍ مارچ ۲۰۲۲ء کو شائع کی تھی۔ اس کا عنوان تھا، ’’ریلائنس سے مالی مدد حاصل کرنے والی کمپنی فیس بک پر بی جے پی کی انتخابی مہم کو کیسے فروغ دیتی ہے؟‘‘ رپورٹ میں نیوج (NEWJ) نامی میڈیا کمپنی کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا تھا، جسے الجزیرہ نے جیو پلیٹ فارمز سے وابستہ بتایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، ۲۰۱۹ء کے لوک سبھا انتخابات اور اس کے بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات کے دوران فیس بک پر ایسے اشتہارات چلائے گئے جو بظاہر خبروں کی شکل میں تھے، لیکن ان کے ذریعے بی جے پی اور اس کے امیدواروں کی تشہیر کی گئی۔ رپورٹ میں انتخابی اشتہارات سے متعلق ضابطوں میں موجود خامیوں اور ان کے نفاذ میں مبینہ عدم یکسانیت پر بھی سوال اٹھائے گئے تھے۔ اس میں فیس بک کی اشتہاری لائبریری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر سیاسی اشتہارات کا تجزیہ کرنے والی تحقیق کا حوالہ دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: یرغمالوں کی سلامتی اسرائیل کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھی: سابق امریکی سفیر

کوک سپلائی کے انتخابی بانڈز کا معاملہ
دوسری رپورٹ انڈین ایکسپریس نے ۲۱؍ مارچ ۲۰۲۴ء کو شائع کی تھی۔ اس کے مطابق، ریلائنس سے منسلک کمپنی کوک سپلائی نے ۲۲۔۲۰۲۱ء سے ۲۴۔۲۰۲۳ء کے درمیان ۴۱۰؍ کروڑ روپے کے انتخابی بانڈز خریدے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس رقم میں سے ۳۸۵؍ کروڑ روپے بی جے پی اور ۲۵؍ کروڑ روپے شیو سینا کو ملے۔ یہ رپورٹ انتخابی بانڈز سے متعلق اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد شائع ہوئی تھی۔ اس میں کمپنی کی جانب سے خریدے گئے بانڈز اور سیاسی جماعتوں کو ملنے والی رقوم کی تفصیلات پیش کی گئی تھیں۔ ان اعداد و شمار سے سیاسی چندے کے حجم کا اندازہ ہوتا ہے، تاہم محض چندے کی بنیاد پر کسی مخصوص سرکاری فیصلے یا پالیسی کے بدلے فائدہ پہنچانے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھئے: بغیر ٹکٹ سفرکیخلاف مہم! پونے ڈِویژن میں۶؍ ماہ میں ۶۸ء۱۸؍ کروڑ روپے جرمانہ وصول

اسٹارلنک کی منظوری پر تنازع
مسک کی جانب سے یہ رپورٹیں ایسے وقت میں شیئر کی گئی ہیں جب وہ اسٹارلنک کی ہندوستان میں لانچنگ میں تاخیر پر امبانی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ بااثر کاروباری گروپ مسابقت کو محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ اس تناظر میں پرانی رپورٹوں کو سامنے لانے سے ریلائنس گروپ اور بی جے پی کے درمیان کاروباری و سیاسی روابط پر بحث دوبارہ شروع ہوئی ہے۔
دوسری جانب، مرکزی حکومت نے اسٹارلنک کے ساتھ امتیازی سلوک کیے جانے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔ ٹیلی کام وزیر جیوتیرادتیہ سندھیا نے ۹؍ اکتوبر کو کہا کہ ہندوستان کسی بھی شعبے میں اجارہ داری کی اجازت نہیں دیتا۔ حکومت کے مطابق، اسٹارلنک، ریلائنس جیو اور ون ویب کو سیٹیلائٹ انٹرنیٹ خدمات شروع کرنے کے لیے حفاظتی شرائط اور اسپیکٹرم کی تخصیص سمیت ضروری مراحل پورے کرنے ہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK