• Sun, 01 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

`تعلیم سے روزگار اور صنعت کاری پر اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی جائے گی: سیتارمن

Updated: February 01, 2026, 6:06 PM IST | New Delhi

وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے اتوار کے روز لوک سبھا میں مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ عالمی خدمات کے شعبے میں ملکی قیادت کے لیے حکومت تعلیم سے روزگار اور صنعت کاری پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے گی۔

Nirmala Sitharaman.Photo:PTI
نرملا سیتارمن۔ تصویر:پی ٹی آئی

وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے اتوار کے روز لوک سبھا میں مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ عالمی خدمات کے شعبے میں  ملکی قیادت کے لیے حکومت تعلیم سے روزگار اور صنعت کاری پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں تعلیم سے روزگار اور صنعت کاری پر ایک اعلیٰ سطحی مستقل کمیٹی کے قیام کی تجویز پیش کرتی ہوں، جو وکست بھارت کے ایک اہم محرک کے طور پر خدمات کے شعبے پر مرکوز اقدامات کی سفارش کرے گی۔
 اس کا مقصد ہندوستان کو عالمی خدمات کے شعبے میں صفِ اوّل میں لانا ہے، تاکہ  ۲۰۴۷ء تک عالمی خدمات میں ہماری شراکت ۱۰؍ فیصد تک پہنچ سکے۔ یہ کمیٹی ترقی، روزگار اور برآمدات کے امکانات میں تیز رفتار اضافے کے لیے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کرے گی۔ ساتھ ہی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے روزگار اور مہارت کی ضروریات پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے کر ضروری اقدامات کی سفارش بھی کرے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے:کرسٹیانو رونالڈو نے۹۶۱؍ واں گول داغا، النصر کی فتح نے خطاب کی جنگ تیز کردی

چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو چیمپئن بنانے کے لیے اکویٹی معاونت دی جائے گی
وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال میں چھوٹی اور درمیانے درجے کے صنعتوں کو چیمپئن بنانے اور مائیکرو اداروں کو مدد فراہم کرنے کی اسکیم کے تحت اکویٹی معاونت فراہم کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے:انوراگ کشیپ کی ’’کینیڈی‘‘ کے ہندوستان میں ریلیز کے آثار، ٹریلر جلد آئے گا

سیتارمن نے اتوار کے روز لوک سبھا میں  ۲۷۔۲۰۲۶ء مالی سال  کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے۱۰؍ہزار کروڑ روپے کے مخصوص ایس ایم ای ڈیولپمنٹ فنڈ کا آغاز کیا جائے گا اور آتم نربھر بھارت فنڈ میں اضافی ۲؍ہزار کروڑ روپے شامل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لیکویڈیٹی سپورٹ کے تحت ٹریڈس کے ساتھ ایم ایس ایم ایز کے لیے ۷؍ لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم پیشہ ورانہ معاونت کی صورت میں دستیاب کرائی جائے گی۔ دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں میں کارپوریٹ مِتروں کا ایک کیڈر تیار کیا جائے گا، جو کم تخمینے پر ایم ایس ایم ایز کو ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل میں مدد فراہم کرے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK