Updated: August 30, 2026, 7:04 PM IST
| Mumbai
معروف اداکارہ شبانہ اعظمی نے ہندوستان میں ہندو مسلم تقسیم کے معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل لڑائی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نہیں بلکہ لبرل اور انتہا پسند سوچ رکھنے والوں کے درمیان ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اور ان کے شوہر، معروف مصنف اور شاعر جاوید اختر ، دونوں برادریوں کے انتہا پسند عناصر کی تنقید کا سامنا کرتے رہے ہیں۔’
شبانہ اعظمی۔ تصویر:آئی این این
معروف اداکارہ شبانہ اعظمی نے ہندوستان میں ہندو مسلم تقسیم کے معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل لڑائی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نہیں بلکہ لبرل اور انتہا پسند سوچ رکھنے والوں کے درمیان ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اور ان کے شوہر، معروف مصنف اور شاعر جاوید اختر ، دونوں برادریوں کے انتہا پسند عناصر کی تنقید کا سامنا کرتے رہے ہیں۔
زوم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شبانہ اعظمی نے کہا کہ دونوں ہندو اور مسلم انتہا پسند انہیں اور جاوید اختر کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق کبھی کسی مولوی کی جانب سے فتویٰ جاری کیا جاتا ہے اور کبھی انہیں دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اداکارہ نے کہا کہ ایسے حالات میں انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی سیکولر سوچ اور نظریات مزید واضح ہوجاتے ہیں۔
شبانہ اعظمی نے کہا کہ معاشرے کو ہندو مسلم تقسیم کے بیانیے سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق لوگوں کو اس کوشش کا حصہ نہیں بننا چاہیے جس کے ذریعے جان بوجھ کر مذہب کی بنیاد پر معاشرے میں تقسیم پیدا کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ ہندو اور مسلمان کا نہیں بلکہ لبرل اور عدم برداشت رکھنے والے لوگوں کے درمیان ہے۔ ان کے مطابق ایک لبرل ہندو اور ایک لبرل مسلمان ایک ہی طرف کھڑے ہیں، جبکہ انتہا پسند ہندو اور انتہا پسند مسلمان بھی اپنی سوچ کے اعتبار سے ایک ہی طرف ہیں۔ شبانہ کے مطابق اگر معاملے کو اس انداز میں دیکھا جائے تو مذہب کو لوگوں کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کرنے کی ’’زہریلی‘‘ سیاست کا اثر کم کیا جاسکتا ہے۔اداکارہ نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر تقسیم کی سوچ ہندوستان کی روح اور آئین کے بنیادی نظریات کے خلاف ہے۔ان کے مطابق ہندوستان کی اصل شناخت اس کی مشترکہ اور جامع ثقافت ہے، جسے انہوں نے اپنے خاندان میں ہمیشہ منایا اور محسوس کیا ہے۔ شبانہ اعظمی نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کا ساتھ رہنا اس ملک کی بنیادی خصوصیت ہے اور اسی ورثے کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئے:میں ذاتی طور پر شادی کے بعد ماں بیٹی جیسا رشتہ چاہتی ہوں:میناکشی
اسی انٹرویو میں شبانہ اعظمی نے راج کمار سنتوشی کی فلم ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ کی باکس آفس ناکامی پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فلم کے ناکام ہونے کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ موجودہ ماحول میں ناظرین سنی دیول کو ایک مسلمان کردار میں قبول نہیں کر سکے۔ شبانہ نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امیتابھ بچن کے دور میں اداکاروں کو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے کردار ادا کرنے میں زیادہ آزادی حاصل تھی۔ انہوں نے خاص طور پر فلم ’’قلی‘‘ کا ذکر کیا، جس میں امیتابھ بچن نے مسلمان کردار ادا کیا تھا۔
شبانہ اعظمی نے کہا کہ امیتابھ بچن نے کئی فلموں میں مسلمان کردار ادا کیے اور انہیں ناظرین نے قبول بھی کیا۔ انہوں نے ’’دیوار‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلم میں ۷۸۶؍ کا ذکر بھی موجود تھا اور اسے بھی قبول کیا گیا تھا۔اداکارہ نے سوال اٹھایا کہ اگر ماضی میں ایسے کردار آسانی سے قبول کیے جاتے تھے تو آج ایسا ماحول کیوں بن رہا ہے جہاں ایک معروف اداکار کو کسی دوسرے مذہب کے کردار میں قبول کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ ان کے مطابق وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آیا جان بوجھ کر ایسا ماحول بنایا جارہا ہے جس میں اس قسم کے فیصلے متاثر ہورہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کانگریس سے قربت؟ روہت پوار پارٹی کور کمیٹی کی میٹنگ سے غائب
شبانہ اعظمی اور جاوید اختر اس سے قبل بھی مذہبی تقسیم اور سماجی مسائل پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ دونوں نے ایک ایسے واقعہ کا بھی ذکر کیا تھا جس میں مبینہ طور پر ایک سندھی مکان مالک نے مسلمان ہونے کی وجہ سے انہیں فلیٹ فروخت کرنے سے انکار کردیا تھا۔ شبانہ اعظمی کی حالیہ گفتگو میں بھی یہی مؤقف نمایاں رہا کہ مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے ہندوستان کی مشترکہ ثقافت اور آئینی اقدار کو اہمیت دی جانی چاہیے۔